سعودی عرب اور امریکہ نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں پر حملے کیے



 شرقِ اوسط کا نیا موڑ: عراق میں طاقت کی کشمکش اور امریکہ و سعودی عرب کا سخت موقف

‎مشرقِ اوسط کی سیاست ہمیشہ سے بارود کے ڈھیر پر رکھی ایک ایسی کہانی رہی ہے جس کا ہر نیا باب پہلے سے زیادہ نازک اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں جب امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں موجود ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئیں، تو یہ صرف ایک معمولی فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا ایک واضح اور شدید پیغام تھا۔

‎عراق، جو دہائیوں سے غیر ملکی مداخلت اور اندرونی بدامنی کا شکار رہا ہے، ایک بار پھر بڑی طاقتوں اور ان کے علاقائی حریفوں کی نیابتی جنگ (Proxy War) کا مرکزی میدان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

‎عراق کی زمین پر بنتی نئی حکمتِ عملی

‎گزشتہ کچھ عرصے سے مشرقِ اوسط میں سفارتی سطح پر کچھ بہتری دیکھی گئی تھی، لیکن زیرِ زمین تناؤ کبھی ختم نہیں ہوا۔ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں، جیسے کہ حشد الشعبی کی کچھ شاخیں اور دیگر ملیشیائیں، نے نہ صرف عراق کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ وہ خطے میں موجود امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک کے مفادات کے لیے بھی ایک مستقل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

‎امریکہ کے نقطہ نظر سے، ان گروہوں کا اثر و رسوخ کم کرنا خطے میں اس کی اپنی فوج اور سفارتی مشنز کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری طرف، سعودی عرب کے لیے اپنے سرحدی علاقوں، تیل کی تنصیبات اور معاشی منصوبوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ اس لیے جب ان گروہوں کی جانب سے ڈرون اور راکٹ حملوں کا خطرہ بڑھا، تو واشنگٹن اور ریاض کی مشترکہ تشویش ایک عمل پر مبنی حکمتِ عملی میں تبدیل ہو گئی۔

‎حملوں کی نوعیت اور تزویراتی اہمیت

‎ان حملوں کا بنیادی مقصد ان مسلح تنظیموں کی ملٹری صلاحیتوں، کمانڈ سینٹرز، ڈرون ورکشاپس اور اسلحے کے ذخائر کو ناکارہ بنانا تھا۔ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی سطح پر سعودی عرب اور امریکہ کا تعاون کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس طرح کی مستقیم اور مشترکہ سرگرمیوں کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اب علاقائی سلامتی کے معاملے پر 'ریڈ لائنز' طے کر دی گئی ہیں۔

‎عراق میں ایران کا نفوذ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ گروہ نہ صرف سیاسی طور پر بااثر ہیں بلکہ ان کے پاس جدید ترین ہتھیار بھی موجود ہیں۔ ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ خلیجی ممالک اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی قیمت اب بہت بھاری ہو سکتی ہے۔

‎ایک اہم نقطہ: عراق اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اس کی اپنی قومی خودمختاری اور غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کے درمیان کا فاصلہ مسلسل دھندلا رہا ہے۔

‎عام عراقی شہری: نیابتی جنگ کا سب سے بڑا شکار

‎اگر اس سارے تناظر کو صرف فوجی اور سیاسی شطرنج کی نظر سے دیکھیں تو یہ کہانی ادھوری رہے گی۔ اس پوری کشمکش کا سب سے دردناک پہلو وہ عام عراقی شہری ہے جو دہائیوں سے مسلسل خوف کے سائے میں جی رہا ہے۔ جنگ، معاشی تباہی اور سیاسی عدم استحکام کے تھپیڑے کھانے کے بعد، بغداد، الانبار اور بصرہ کے عام رہائشی صرف اور صرف سکون اور بنیادی سہولیات چاہتے ہیں۔

‎جب بھی عراق کی سرزمین پر دھماکے ہوتے ہیں، تو عام لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کے اپنے ملک پر ان کا اپنا اختیار کہاں ہے؟

‎عراق کی موجودہ حکومت ایک شدید سفارتی اور سیاسی امتحان سے گزر رہی ہے:

· ‎ایک طرف امریکہ کا دباؤ اور اقتصادی و فوجی تعاون ہے۔

· ‎دوسری طرف ایران سے جڑے ہوئے طاقتور گروہ ہیں جو ملک کے اندر مضبوط ترین سیاسی اور فوجی وجود رکھتے ہیں۔

‎تہران کا ردِعمل اور خطے کا مستقبل

‎ان کارروائیوں کے بعد تہران کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت بین الاقوامی امور کے ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ ایران اپنے حلیف گروہوں کو ایک "مزاحمتی محور" کے طور پر دیکھتا ہے اور ان پر ہونے والے حملے براہِ راست اس کے علاقائی اثر و رسوخ پر ضرب تصور کیے جاتے ہیں۔

‎امکان یہی ہے کہ کھلی اور براہِ راست جنگ سے بچتے ہوئے، ایران غیر مستقیم راستوں یا اپنے دیگر حلیفوں کے ذریعے جواب دینے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر یہ تصادم یوں ہی بڑھتا رہا، تو اس کی آنچ صرف عراق تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ خلیجِ فارس، باب المندب اور پوری عالمی معیشت پر اس کے گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

‎نتیجہ: بارود کے دھوئیں میں امن کی تلاش

‎حاصل کلام یہ ہے کہ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں پر امریکہ اور سعودی عرب کا یہ سخت موقف مشرقِ اوسط میں ایک خطرناک اور نئے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ محض چند فوجی حملوں کی خبر نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں کئی دہائیوں سے جاری طاقت کا توازن اب ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

‎سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صرف طاقت کے استعمال سے کبھی دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اگر خطے کو مزید تباہی سے بچانا ہے، تو عراقی سیادت کا احترام کرنا ہوگا، غیر ملکی نیابتی جنگوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور تمام فریقین کو سفارت کاری کا راستہ اپنانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، اس سیاسی کشمکش کے بارود میں صرف معصوم لوگوں کا مستقبل ہی جھلستا رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا