امریکہ نے منگل کے روز ہونے والے اچانک حملے کے جواب میں ایران کے خلاف کارروائی کی۔



 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ منگل کی رات ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی افواج کے خلاف بیلسٹک میزائل داغے، جسے امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک "اچانک حملے کی کوشش" قرار دیا۔ امریکی حکام کے مطابق تمام میزائل فضا میں ہی روک لیے گئے، تاہم اس حملے نے دونوں فریقین کے درمیان جاری لڑائی میں چند روزہ وقفے کو ختم کر دیا۔

‎اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایران کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم دیں گے اور ایران کو اس "اچانک حملے" کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کچھ عرصے سے قائم ایک نازک وقفہ پہلے ہی شکست و ریخت کا شکار تھا۔

‎یہ کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جس کا مقصد، ٹرمپ کے بقول، ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنا اور جوہری ہتھیار بنانے کے خطرے کا خاتمہ تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے، جبکہ بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان حملوں اور جوابی حملوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، جو کبھی وقفے وقفے سے تھمتا اور پھر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔

‎جولائی کے اوائل میں بھی صورتحال اسی طرح بگڑی تھی۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کے اسی سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور تیل کی برآمدات پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں، حالانکہ یہ پابندیاں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت ساٹھ روز کے لیے اٹھا لی گئی تھیں۔ اس کے جواب میں ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ کو "کچل دینے والے ردعمل" کی دھمکی دی تھی۔

‎درمیانی عرصے میں کچھ وقت کے لیے حالات نسبتاً پرسکون ہوئے۔ امریکہ اور ایران نے مسلسل دو دن تک ایک دوسرے پر حملے روکے رکھے، جبکہ سفارتی کوششیں ایک عبوری جنگ بندی کی جانب لوٹنے کے لیے جاری رہیں۔ لیکن اسی دوران خطے میں دیگر واقعات بھی رونما ہوتے رہے۔ عراق کے شہر اربیل کے قریب ایرانی مخالف مقامات پر ڈرون حملوں کی اطلاعات ملیں، جبکہ اردن میں امریکی قونصلیٹ کی جانب بڑھتے ڈرونز کو بھی روکا گیا۔ ان واقعات کی ذمہ داری کا تعین ابھی تک واضح نہیں، مگر خطے کے کئی ممالک نے ایران نواز عسکری گروہوں کی جانب اشارہ کیا ہے۔

‎اس پوری کشیدگی کا سب سے بڑا سائبان آبنائے ہرمز پر پڑتا ہے، جو دنیا کی تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔ ہر نئے حملے کے بعد عالمی تیل منڈیوں میں ہلچل، جہاز رانی میں خطرات اور سرمایہ کاروں کی بے چینی دیکھنے میں آتی ہے۔ اسی طرح خطے کے دیگر ممالک — عراق، اردن، خلیجی ریاستیں — بھی اس آگ کی تپش محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ کسی بھی وسیع تر تصادم کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔

‎سیاسی اور عسکری بیانات کے پیچھے وہ عام شہری ہیں جو ایک بار پھر خوف اور غیریقینی کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ لبنان کے دیہات میں تباہ شدہ گھروں کا ملبہ صاف کرتی خواتین، بندرگاہوں پر رکے ہوئے بحری جہاز، اور روزمرہ زندگی میں بڑھتی بے چینی — یہ سب اس تنازع کی اصل قیمت ہیں جو سرخیوں میں کم ہی نظر آتی ہے۔

‎اس تمام صورتحال میں سفارتی کوششیں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان عمان میں مذاکرات کا سلسلہ کسی حد تک جاری رہا ہے، اور واشنگٹن میں دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں بھی سفارتی عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی بات ہوئی۔ تاہم ہر نیا حملہ ان کوششوں کو کمزور کر دیتا ہے۔

‎تاریخ یہ سبق دہراتی رہی ہے کہ محض طاقت کے مظاہرے سے دیرپا امن قائم نہیں ہوتا۔ منگل کی رات کا حملہ اور اس کے بعد امریکی دھمکی آمیز ردعمل اسی حقیقت کی ایک اور یاد دہانی ہے کہ جب تک دونوں فریق مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتے، یہ چکر رکنے کا نام نہیں لے گا۔ خطے کے مستقبل کا انحصار اسی پر ہے کہ آیا رہنما طاقت کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں یا صبر اور سفارت کاری کا راستہ اپناتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا