پاکستان اور سعودی عرب کا اردن کی تجویز کا خیرمقدم: فلسطین کے لیے متحدہ مسلم آواز کی نئی کوشش
مشرقِ وسطیٰ میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے ایک بار پھر مسلم دنیا کو یکجا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان اور سعودی عرب نے اردن کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت فلسطین، خصوصاً مشرقی یروشلم کی نازک صورتحال پر غور کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ایک مشترکہ اجلاس بلانے کی بات کی گئی ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں حالیہ پیش رفتوں کا بھی جائزہ لیا، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب نے فلسطین، بالخصوص مشرقی یروشلم کی نازک صورتحال کے حوالے سے اردن کی جانب سے عرب و اسلامی ممالک کا اجلاس بلانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ یہ رابطہ محض ایک رسمی گفتگو نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام آباد اور ریاض دونوں فلسطینی کاز کو اپنی خارجہ پالیسی کے مرکز میں رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اردن کی جانب سے یہ تجویز کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل بھی اردن مختلف مواقع پر عرب اور اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں کرتا رہا ہے تاکہ فلسطینی عوام کی حمایت میں سفارتی حکمت عملی کو مربوط بنایا جا سکے۔ پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اور ٹیلیفونک گفتگو میں بھی اردن کی اسی تجویز پر بات چیت ہوئی، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی حمایت میں سفارتی کوششوں کو مربوط کرنا ہے۔ اسی طرح اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے پاکستان سے بھی رابطہ کیا تھا، جس میں عرب اور اسلامی ممالک کے ایک گروپ کا اجلاس بلانے کی تجویز پر تبادلہ خیال ہوا، جس کا مقصد موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی و ردعمل کو مربوط بنانا ہے۔ اس موقع پر اردن کے وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔
پاکستان کا مؤقف اس معاملے میں ہمیشہ واضح اور غیر مبہم رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی دو ریاستی حل کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ یہی مؤقف حال ہی میں قاہرہ میں پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں بھی دہرایا گیا، جہاں مسئلہ فلسطین کو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
سعودی عرب کا کردار بھی اس ضمن میں کلیدی رہا ہے۔ امریکی دباؤ کے باوجود، ریاض نے واضح کر دیا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، اور اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب کے لیے فلسطینی ریاست کا قیام محض ایک سفارتی نکتہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اصولی مؤقف ہے، جس پر وہ کسی بھی معاہدے یا مراعات کے عوض سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
اس پس منظر میں اردن کی تجویز کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف غزہ میں انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، جہاں جنگ بندی کے باوجود مسلسل جانی نقصان ہو رہا ہے، تو دوسری طرف مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بار بار خلاف ورزیوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں عرب اور اسلامی ممالک کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا محض علامتی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ضروری ہو گیا ہے، تاکہ رکن ممالک اپنی سفارتی، سیاسی اور اقتصادی طاقت کو یکجا کر کے فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مؤثر آواز اٹھا سکیں۔
پاکستان اور سعودی عرب جیسے بااثر مسلم ممالک کا اردن کی اس تجویز کی حمایت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مسلم دنیا اب بھی متحدہ مؤقف اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ سیاسی ارادہ موجود ہو۔ اگر یہ مجوزہ اجلاس فی الواقع منعقد ہوتا ہے، تو یہ فلسطینی کاز کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، اور شاید عالمی برادری پر بھی دباؤ بڑھانے کا سبب بنے کہ وہ فلسطینیوں کے جائز حقوق کے حصول کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ بہرحال، حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہو گا کہ آیا یہ محض بیانات تک محدود رہتا ہے یا واقعی ٹھوس اور مربوط سفارتی کارروائی کی صورت اختیار کرتا ہے۔
.jpg)
Comments