تازہ ترین: نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ نے نہ صرف خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے بلکہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو بھی نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے حساس ماحول میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی ملاقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ دنیا بھر کے سفارتی حلقے اس ملاقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف اسرائیل اور ایران بلکہ پورے خطے کی آئندہ صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو ایران کے خلاف جاری کشیدگی ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور سخت بیانات نے ماحول کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ بعض مواقع پر جنگ بندی یا مذاکرات کی باتیں بھی سامنے آئیں، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان اب بھی برقرار ہے۔ ایسے میں نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے کہ آگے کا راستہ سفارت کاری ہوگا یا مزید عسکری دباؤ۔
امریکہ طویل عرصے سے اسرائیل کا قریبی اتحادی رہا ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے تھے۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے، ابراہیم معاہدوں کی حمایت اور ایران کے خلاف سخت پابندیوں جیسی پالیسیاں اس تعلق کی واضح مثالیں ہیں۔ اب جبکہ خطہ ایک نئے بحران سے گزر رہا ہے، دونوں رہنماؤں کی ملاقات اس بات کا اشارہ دے سکتی ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں اسرائیل کی کس حد تک سیاسی، عسکری اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کا حق رکھتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اگر اس پر حملے جاری رہے تو وہ بھرپور جواب دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نئی حکمتِ عملی یا بیان کو نہایت حساس انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اس ملاقات کے بعد سخت مؤقف سامنے آتا ہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ سفارتی زبان اختیار کی گئی تو مذاکرات کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات میں صرف ایران ہی زیرِ بحث نہیں ہوگا بلکہ غزہ کی صورتحال، لبنان کی سرحدی کشیدگی، شام میں جاری سیکیورٹی خدشات اور خلیجی ممالک کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ امریکہ کی کوشش ہوگی کہ اپنے اتحادیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرے، جبکہ اسرائیل ممکنہ طور پر مزید دفاعی تعاون، جدید ہتھیاروں اور انٹیلی جنس تعاون کی درخواست کرے گا۔
اس ملاقات کے عالمی معاشی اثرات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں رہنما ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے تنازع مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دے، تو عالمی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس اگر سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوتی ہے تو عالمی معیشت کو کچھ حد تک استحکام مل سکتا ہے۔
عالمی برادری بھی اس ملاقات کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ یورپی ممالک، اقوام متحدہ اور کئی علاقائی طاقتیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر موجودہ بحران مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
عام شہریوں کی نظر میں بھی یہ ملاقات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اسرائیل، ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں رہنے والے لاکھوں لوگ اس امید کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ شاید یہ ملاقات جنگ کے بجائے امن کی طرف کوئی راستہ نکال سکے۔ تاہم بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ صرف ایک ملاقات سے برسوں پرانی دشمنی ختم ہونا آسان نہیں، لیکن اگر سنجیدہ سفارتی اقدامات کیے جائیں تو کشیدگی میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی یہ پہلی ملاقات محض ایک رسمی سیاسی ملاقات نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پورا مشرقِ وسطیٰ غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ اس ملاقات کے نتائج آنے والے دنوں میں عالمی سیاست، علاقائی سلامتی اور اقتصادی استحکام پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔ دنیا اب اس بات کی منتظر ہے کہ آیا یہ ملاقات مزید سخت فیصلوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا پھر خطے میں امن کی جانب ایک نئی امید جگائے گی۔

Comments