مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی؟ ٹرمپ کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی، پابندیوں اور سفارتی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو دنیا بھر کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہو جاتی ہیں، کیونکہ ان تعلقات کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی سیاست، تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں، ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف ہمیشہ سے ایران کے حوالے سے سخت رہا ہے۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو الگ کیا، ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی اپنائی۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا، تاہم اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا۔
اب ایک بار پھر مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں تو امریکہ طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے سیاسی، عسکری اور معاشی نتائج بہت دور رس ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تہران کا کہنا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا یا فوجی کارروائی کی گئی تو وہ اپنے دفاع کا بھرپور حق استعمال کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کی ہر نئی خبر عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور صورتحال فوجی تصادم کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج میں موجود امریکی اڈے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل، اسرائیل، عرب ممالک اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر عالمی طاقتیں اب بھی سفارتی حل کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔
اقتصادی اعتبار سے بھی ممکنہ کشیدگی پوری دنیا کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس صورتحال سے مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف سفارت کاری کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات اکثر طویل اور مشکل ہوتے ہیں، لیکن یہی راستہ بڑے تنازعات سے بچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی بڑے بین الاقوامی بحران آخرکار بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوئے۔ اسی لیے عالمی برادری اس بات پر زور دیتی ہے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جائے اور طاقت کے استعمال سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے بیانات کو ان کے سیاسی تناظر میں دیکھا جائے۔ انتخابی سیاست، قومی سلامتی اور عالمی سفارت کاری کے عوامل اکثر رہنماؤں کے بیانات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک بیان کو فوری فوجی کارروائی کا حتمی اشارہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل صورتحال کا انحصار آئندہ سفارتی پیش رفت، مذاکرات کے نتائج اور متعلقہ ممالک کے عملی فیصلوں پر ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک حساس عالمی مسئلہ ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں استحکام اور عالمی معیشت کے لیے مثبت امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ ناکامی کی صورت میں تناؤ میں اضافہ پوری دنیا کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر سکتا ہے۔ اس وقت عالمی برادری کی نظریں اسی بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارت کاری کامیاب ہوتی ہے یا حالات ایک بار پھر محاذ آرائی کی طرف بڑھتے ہیں۔ امید یہی کی جا رہی ہے کہ تمام فریق تحمل، دانشمندی اور مذاکرات کے ذریعے ایسے حل تک پہنچیں گے جو خطے اور دنیا کے لیے پائیدار امن کا راستہ ہموار کرے۔
.jpg)
Comments