ایران کا اردن میں امریکیوں پر حملہ، عراق پر امریکہ اور سعودی عرب کے حملے: کیا جنگ پھیل رہی ہے؟



 مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ فروری 2026 سے جاری ایران-امریکہ جنگ نے بدھ کے روز ایک نیا اور خطرناک موڑ لے لیا، جب ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف پر میزائل داغے، جس کے چند گھنٹوں بعد امریکہ اور سعودی عرب نے مشترکہ طور پر عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں پر حملے کر ڈالے۔

‎اردن پر حملہ

‎امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کے خلاف ایک "اچانک حملے" کی کوشش کی، جسے امریکی فوج نے کامیابی سے ناکام بنا دیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کی جانب کم از کم چار بیلسٹک میزائل داغے، اور اسے ایک "بڑا حملہ" قرار دیا۔

‎اردن کی فوج کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کی صبح ایران سے داغے گئے پانچ میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اردن میں کن فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ بات معلوم ہے کہ اردن میں تقریباً چار ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جن میں سے کچھ مواقع صلطی ایئر بیس، کنگ فیصل ایئر بیس اور ٹاور 22 نامی چوکی پر موجود ہیں۔

‎عراق میں امریکی-سعودی جوابی کارروائی

‎اسی دوران ایک اور اہم اور غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے خلاف "محدود اور ہدف بنائے گئے حملے" کیے، جن کا تعلق سعودی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں سے تھا۔

‎سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی اور سعودی لڑاکا طیاروں نے مشرقی عراق میں دہشت گردوں کے متعدد لاجسٹک اور اسلحہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، جو گزشتہ 72 گھنٹوں میں تیس سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ سعودی وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ ریاض کشیدگی نہیں چاہتا، لیکن اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب ضرور دے گا۔ یہ پہلا موقع تھا جب سعودی عرب نے ایران-امریکہ جنگ کے آغاز کے بعد سے عراق میں براہِ راست حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

‎کیا جنگ پھیل رہی ہے؟

‎الجزیرہ کے مطابق ابھی تک واضح نہیں کہ ایران کا اردن پر حملہ عراق میں امریکی-سعودی کارروائی سے پہلے ہوا یا بعد میں۔ یہ ابہام خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالات کتنی تیزی سے بدل رہے ہیں اور کشیدگی کا دائرہ کس قدر پھیل چکا ہے۔

‎سعودی عرب کا اس تنازع میں براہِ راست کردار ادا کرنا خاص طور پر اہم ہے۔ گزشتہ مہینوں کے دوران سعودی عرب متعدد ایرانی میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے، جن میں تیل کی صاف کرنے والی تنصیبات بھی شامل تھیں، اور جواب میں سعودی فضائیہ خفیہ طور پر ایران کے اندر ڈرون اور میزائل لانچ سائٹس کے ساتھ ساتھ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں پر بھی حملے کر چکی ہے۔ اب یہ کارروائی کھلے عام سامنے آ چکی ہے، جو خطے کی بدلتی ہوئی صف بندی کی ایک واضح علامت ہے۔

‎انسانی اور معاشی قیمت

‎اس جنگ کی قیمت اعداد و شمار میں بھی نظر آنے لگی ہے۔ سعودی عرب کے مطابق اب تک ملک میں دو شہری ہلاک اور بارہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ کے دو فوجی جاں بحق اور انتیس زخمی ہوئے، اور دو امریکی طیارے تباہ ہو گئے۔

‎توانائی کے حوالے سے اہم خطے میں کسی بھی نوعیت کی کشیدگی کا اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر براہِ راست پڑتا ہے، اور جہازرانی کی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے — حالیہ دنوں میں ایک بڑا چینی آئل ٹینکر احتیاطاً بحیرہ احمر سے باب المندب کے راستے نکل چکا ہے۔

‎آگے کیا ہو سکتا ہے؟

‎فروری سے جاری اس جنگ میں اردن اور سعودی عرب کا براہِ راست ملوث ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ تنازع اب صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں رہا۔ خطے کے مزید ممالک کی شمولیت، سفارتی کوششوں کی ناکامی، اور دونوں طرف سے جاری جوابی کارروائیوں کا سلسلہ اس بات کا خدشہ پیدا کرتا ہے کہ یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی جانب بڑھتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا