اسرائیل کے لیے امریکی حمایت: ڈیموکریٹس میں بڑھتی ہوئی دوری



 واشنگٹن — امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے لیے فوجی امداد پر ایک ایسی دراڑ سامنے آ چکی ہے جو چند سال پہلے تک ناقابلِ تصور سمجھی جاتی تھی۔ ایوانِ نمائندگان میں حالیہ ووٹنگ نے اس تقسیم کو کھل کر عوام کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

‎ووٹنگ نے تقسیم بے نقاب کر دی

‎اس ہفتے ایوانِ نمائندگان کے سو سے زائد ڈیموکریٹ اراکین نے اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جس نے پارٹی کے اندر ایک ایسی گہری تقسیم کو بے نقاب کر دیا جو نومبر کے وسط مدتی انتخابات اور واشنگٹن کے ایک انتہائی پائیدار خارجہ پالیسی اتحاد کے مستقبل کو نئی شکل دے سکتی ہے۔ کینٹکی کے کانگریس مین تھامس میسی کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجویز اگرچہ منظور نہیں ہو سکی، لیکن 103 ڈیموکریٹس نے امداد بند کرنے کی حمایت کی جبکہ 10 نے غیر جانبدار ووٹ دیا — ایک ایسی قریب قریب برابر تقسیم جو امریکہ اسرائیل تعلقات کی تاریخ میں کبھی اتنی نمایاں نہیں رہی۔

‎ایک سینئر سیاسی حکمتِ عملی کار مائیک فاہی کے مطابق، جب سو سے زائد ڈیموکریٹ اراکین فوجی امداد ختم کرنے کو تیار ہوں تو یہ محض ایک علامتی احتجاج نہیں رہ جاتا۔

‎قیادت میں بھی اختلاف

‎اس معاملے نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھی تقسیم کر دیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما ہاکیم جیفریز اور ان کے نائب کیتھرین کلارک نے اس ووٹ پر مختلف موقف اختیار کیا، جو کہ پارٹی کی سب سے اہم قیادت کے درمیان ایک غیر معمولی اور نایاب اختلاف تھا۔ ایک ڈیموکریٹ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی کے اندر بائیں بازو کی طرف سے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی وجہ سے کئی اراکین حقیقی تحفظات کے باوجود تجویز کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور ہوئے۔

‎دوسری جانب پارٹی کے تجربہ کار رہنما اسٹینی ہوئیر نے سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز امریکی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گی، کیونکہ اس سے حماس اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کا مقابلہ کرنے کی امریکی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔

‎پارٹی کے اندر دونوں طرف کے خدشات

‎پرو-اسرائیل ڈیموکریٹس کو خدشہ ہے کہ بائیں بازو بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ ریپبلکنز اس تقسیم کو استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو اسرائیل دشمن اور یہود مخالف رجحانات کا حامل ظاہر کرنے کی کوشش کریں گے۔ پنسلوینیا سے سینیٹر جان فیٹرمین، جو اسرائیل کے سب سے مضبوط حامیوں میں شمار ہوتے ہیں، نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی باضابطہ طور پر "اینٹی اسرائیل پارٹی" بن گئی تو وہ پارٹی چھوڑنے پر غور کریں گے۔

‎دوسری طرف ترقی پسند اراکین کا مؤقف مختلف ہے۔ رکنِ کانگریس رو کھنہ، جنہیں حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے کے دوران اسرائیلی آبادکاروں اور فوجیوں نے حراست میں لیا تھا، نے کہا کہ وہ ایسے ملک کو امداد دینے کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتے جس پر نسل کشی کا الزام ہے اور جس نے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے امریکی شہریوں کو حراست میں رکھا۔

‎بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ

‎یہ تبدیلی صرف کانگریس کی سطح تک محدود نہیں۔ 2026 کی پرائمری انتخابات میں کئی شکستوں اور ایوان کی اس غیر معمولی ووٹنگ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برسوں سے AIPAC کے زیرِ اثر قائم اتفاقِ رائے ٹوٹ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی صرف بائیں بازو تک محدود نہیں — خود تھامس میسی کو بھی اپنی پرائمری میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ٹرمپ کے حمایت یافتہ حریف نے AIPAC سے وابستہ تنظیموں کی جانب سے نو ملین ڈالر سے زائد کی مالی معاونت حاصل کی۔

‎یہ داخلی تقسیم ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، خاص طور پر جب پارٹی کا بائیں بازو نیویارک جیسی اہم نشستوں پر خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دینے والے امیدواروں کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ روایتی ڈیموکریٹس اب بھی اسرائیل کی حمایت پر قائم ہیں۔ امریکی رائے عامہ میں بھی طویل عرصے سے یہ رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ ڈیموکریٹ ووٹرز کی اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی اور فلسطینیوں کے لیے ہمدردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

‎آگے کیا ہو سکتا ہے؟

‎آنے والے وسط مدتی انتخابات میں یہ مسئلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے۔ ریپبلکن پارٹی پہلے ہی اس تقسیم کو انتخابی مہم کا حصہ بنا رہی ہے، جبکہ پارٹی کے اندر دونوں دھڑے — روایتی حامی اور ترقی پسند ناقدین — اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ڈیموکریٹک قیادت اس اندرونی اختلاف کو کس طرح سنبھالتی ہے اور آیا یہ تقسیم پارٹی کی وسط مدتی انتخابی حکمتِ عملی کو نقصان پہنچاتی ہے یا اسے نئی سمت دیتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا