دھویں میں لپٹا سمندر: بحیرۂ روم کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ اور آگ کا طوفان
بحیرۂ روم صدیوں سے تجارت اور تہذیبوں کے سنگم کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ مگر بدھ کی سہ پہر مصر کے شہر دمیاط کی بندرگاہ پر جو کچھ ہوا، اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب سرحدوں کے پار پھیل چکی ہے، اور اس کی زد میں وہ مقامات بھی آ سکتے ہیں جو براہِ راست تنازعے کا حصہ کبھی نہ رہے ہوں۔
مصری حکام کے مطابق بدھ کے روز بحیرۂ روم پر واقع دمیاط بندرگاہ پر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں دو بحری جہازوں پر آگ بھڑک اٹھی۔ یہ حملہ گرین وچ کے وقت کے مطابق دن دو بج کر بیس منٹ پر ہوا، جب دونوں بحری جہاز بیک وقت نشانہ بنے۔ میری ٹائم سیکیورٹی ادارے ایمبری اور برطانوی کمپنی وینگارڈ کے مطابق امریکی کمپنی نیو فورٹریس انرجی کے زیرِ ملکیت جہاز "انرجوس ونٹر" کو سہ پہر تین بج کر بیس منٹ پر اس کے دائیں جانب نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد آگ قریب موجود برمودا کے پرچم بردار ایل این جی ٹینکر "گیس لاگ سیلم" تک بھی پھیل گئی۔
عینی شاہدین کی وڈیوز میں بندرگاہ سے اٹھتا گہرا کالا دھواں صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ ابتدائی طور پر کئی کارکنوں کو یہ کسی صنعتی حادثے کا نتیجہ لگا، مگر جلد ہی صورتحال کی سنگینی واضح ہو گئی۔ خوش قسمتی سے، مصری امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، خشکی اور سمندر دونوں اطراف سے، اور فائر فائٹنگ کشتیوں کی مدد سے ایک ایسی ممکنہ بڑی تباہی کو روک لیا جو جہازوں یا بندرگاہ کی تنصیبات تک آگ پھیلنے کی صورت میں پیش آ سکتی تھی۔
مصر کی وزارتِ پیٹرولیم نے بتایا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اور یہ کہ ہنگامی و فوری ردعمل کے منصوبوں کے تحت متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں سے صورتحال پر فوری قابو پا لیا گیا۔ دونوں عملوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، آگ پر قابو پا لیا گیا، اور جہازوں کو معائنے کے لیے ساحل سے دور منتقل کر دیا گیا۔
اب تک کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم مصری حکام اور متعدد میری ٹائم ذرائع نے تصدیق کی کہ ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن نے حملے سے دو دن قبل ہی دمیاط کو یوکرین کے خلاف "انتقامی کارروائی" کے ممکنہ ہدف کے طور پر ذکر کیا تھا، اور یہ کہ یوکرین نے حال ہی میں بحیرۂ قزوین میں ایک ایرانی جہاز پر حملہ کیا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق، اس حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر حزب اللہ، عراق میں ایران نواز عسکری گروہ، یا یمن کے حوثی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ اصل ذمہ دار کون ہے۔
اس واقعے کی ٹائمنگ بھی اہم ہے۔ یہ حملہ اس وقت پیش آیا جب امریکی افواج نے پانچ رات کے وقفے کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے، اور اس سے چند گھنٹے قبل ہی صدر ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملوں کے جواب میں سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ یعنی دمیاط پر یہ حملہ اسی وسیع تر علاقائی کشیدگی کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے جو فروری سے جاری جنگ کا حصہ بن چکی ہے۔
مصر کے لیے یہ واقعہ خاص طور پر اہم ہے۔ مصر ان چار ممالک میں شامل ہے — پاکستان، قطر اور ترکی کے ساتھ — جو امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کر رہے ہیں، اور قاہرہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس جنگ کا اثر براہِ راست مصری سرزمین تک پہنچا ہے، جو اب تک اس تصادم سے کسی حد تک محفوظ رہا تھا۔
دمیاط، مصر کے اہم ترین ایل این جی درآمدی مراکز میں سے ایک ہے، اور اس حملے سے وہاں کی کارروائیوں میں خلل پڑا ہے، جبکہ یہ واقعہ خطے بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے حملوں کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے، کیونکہ ایران، اس کے یمنی اتحادی حوثی اور عراقی ملیشیاؤں نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اضافی کشیدگی کے باوجود جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
بندرگاہ پر کام کرنے والے مزدور، ملاح، اور قریبی آبادی کے لوگ اس واقعے کے حقیقی متاثرین ہیں۔ ان کا اس جنگ کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں، مگر خوف اور بے یقینی کی وہ لہر جو دھماکوں کے ساتھ ابھری، انہی عام انسانوں کے حصے میں آئی۔
دمیاط کی آگ بجھ چکی ہے، تنصیبات دوبارہ بحال بھی ہو جائیں گی، مگر یہ واقعہ ایک واضح پیغام چھوڑ گیا ہے: جدید جنگوں میں اب کوئی سمندر، کوئی بندرگاہ مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ جب تک مصر، پاکستان، قطر اور ترکی جیسی ثالث قوتوں کی سفارتی کوششیں کسی مستقل نتیجے تک نہیں پہنچتیں، خدشہ یہی ہے کہ ایسے واقعات مزید پھیلتے چلے جائیں گے۔
---
یہ ایک تیزی سے بدلتی صورتحال ہے — تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے معتبر نیوز ذرائع سے رابطہ رکھیں۔

Comments