امن مذاکرات کے جاری رہنے کے دوران امریکہ نے ایران پر حملے دوسرے روز بھی روک دیے۔



 کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد ایک ایسا لمحہ سامنے آیا ہے جس نے دنیا بھر کی نظریں ایک بار پھر سفارتی کوششوں پر مرکوز کر دی ہیں۔ امریکہ نے مسلسل دوسرے روز بھی ایران پر کسی نئے فوجی حملے سے گریز کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے جاری ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ اگرچہ اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن فریقین کم از کم فی الحال جنگ کے بجائے بات چیت کے راستے کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

‎گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان شدید تناؤ دیکھنے میں آیا تھا۔ ایک دوسرے پر الزامات، فوجی نقل و حرکت، دھمکی آمیز بیانات اور محدود نوعیت کی کارروائیوں نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں متاثر ہوئیں، سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے بھی ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات کا اظہار کیا۔

‎تاہم اب جب امن مذاکرات جاری ہیں، امریکہ کی جانب سے مسلسل دوسرے روز بھی حملے نہ کرنے کے فیصلے کو مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے مذاکراتی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر دونوں فریق کشیدگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھتے ہیں تو مستقبل میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

‎ایران کی جانب سے بھی سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے، اگرچہ تہران اب بھی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اس کے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر امریکہ دباؤ اور دھمکی کی پالیسی ترک کرے تو کئی معاملات پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

‎ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ہمیشہ جنگ سے بہتر ہوتا ہے، تاہم وہ اپنے دفاعی مفادات پر بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی تیاریوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ صرف نئے حملوں کو وقتی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

‎بین الاقوامی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی ممالک، چین اور دیگر عالمی طاقتیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔ عالمی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔

‎ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے۔ صرف حملے رک جانا ہی امن کی ضمانت نہیں، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک اپنے بنیادی اختلافات پر بھی کسی قابل قبول سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی سلامتی اور مختلف مسلح گروہوں سے متعلق معاملات اب بھی دونوں فریقوں کے درمیان بڑے تنازعات کی صورت میں موجود ہیں۔

‎عالمی مالیاتی منڈیوں نے بھی اس پیش رفت پر محتاط مثبت ردعمل دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی سپلائی پر منفی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔

‎عام شہریوں کی خواہش بھی یہی ہے کہ جنگ کے خطرات ختم ہوں۔ ایران، امریکہ اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی کے اثرات برداشت کرتے آئے ہیں۔ کسی بھی نئی جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام لوگوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے، جن کی زندگی، روزگار اور مستقبل براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔

‎آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مسلسل دوسرے روز بھی ایران پر حملے نہ کرنا ایک مثبت سفارتی اشارہ ضرور ہے، لیکن یہ صرف آغاز ہے۔ امن مذاکرات کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کی سیاسی بصیرت، لچک اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے اور زیادہ پرامن دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر بات چیت ناکام ہوئی تو خطہ ایک مرتبہ پھر کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی طرف لوٹ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا