اچھے نظم و نسق کے لیے ضرورت پڑنے پر انتظامی سطح پر نئے سرے سے ترتیب (ری سیٹ) ہونی چاہیے: ڈی جی آئی ایس پی آر



 کسی بھی ریاست کی مضبوطی محض مؤثر پالیسیوں سے نہیں بلکہ اس کے انتظامی ڈھانچے کی لچک اور خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت سے جڑی ہوتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے حالیہ بیان، جس میں کہا گیا کہ اچھے نظم و نسق کے لیے ضرورت پڑنے پر انتظامی سطح پر نئے سرے سے ترتیب یعنی "ری سیٹ" ہونی چاہیے، نے قومی سطح پر ایک اہم اور بروقت بحث چھیڑ دی ہے۔

‎یہ نکتہ دراصل ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: کوئی بھی نظام، ادارہ یا طریقۂ کار حرفِ آخر نہیں ہوتا۔ جمود اور روایتی ڈگر پر چلتے رہنا بظاہر سکون کا احساس دیتا ہے، مگر یہی جمود بالآخر زوال کی راہ ہموار کرتا ہے۔ جب فیصلے عملدرآمد کے مراحل میں رک جائیں، وسائل کا استعمال غیر مؤثر ہو جائے، یا ادارے اپنی اصل افادیت کھونے لگیں، تو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہوتا ہے کہ انتظامی ڈھانچے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا وقت آ چکا ہے۔

‎انتظامی ری سیٹ کا مطلب ہرگز نظام کو گرا دینا یا محض چہرے بدل دینا نہیں۔ اس کا اصل مقصد بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا، ذمہ داریوں کی تقسیم کو واضح بنانا، احتساب کے نظام کو مضبوط کرنا، اور پرانے طریقوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسی ساخت کاری کو خوف یا بحران کے طور پر نہیں بلکہ ایک معمول کی، صحت مند اصلاحاتی سرگرمی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہمیں بھی اسی نقطہ نظر کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

‎اس تناظر میں عسکری نظم و نسق ایک اچھی مثال پیش کرتا ہے، جہاں جائزہ، خود احتسابی اور وقتاً فوقتاً ترتیبِ نو ایک مسلسل عمل سمجھا جاتا ہے۔ غلطیوں کی گنجائش کو کم سے کم رکھنے اور کسی بھی خامی کی صورت میں فوری اصلاح کرنے کا یہی اصول جب پورے قومی انتظامی ڈھانچے پر لاگو کیا جائے، تو اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

‎پاکستان کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے — چاہے وہ معاشی عدم استحکام ہو، ہائبرڈ وارفیئر کے نئے خطرات ہوں، یا داخلی سلامتی کے پیچیدہ مسائل — ان سب سے نمٹنے کے لیے پرانے، روایتی طریقے اب ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دور نے گورننس کو مزید حساس اور تیز رفتار بنا دیا ہے۔ فائل ورک اور کاغذی کارروائی کی بجائے اب فوری، شفاف اور ٹھوس فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح وسائل کا درست اور مؤثر استعمال بھی ری سیٹ کے عمل کا لازمی جزو ہونا چاہیے، کیونکہ جو نسخے ماضی میں نتائج نہ دے سکے، ان سے آئندہ بھی معجزات کی توقع رکھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔

‎نظم و نسق کا اصل مقصد عوامی فلاح، انصاف کی فراہمی اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی ہے۔ جب کسی ادارے میں یہ پیغام واضح ہو جائے کہ کارکردگی کی بنیاد پر کسی بھی وقت ری سیٹ کیا جا سکتا ہے، تو وہاں احتساب اور ذمہ داری کا احساس خود بخود اجاگر ہوتا ہے۔ یہی عمل عوام اور ریاست کے درمیان تعلق کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

‎تاہم اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی انتظامی اصلاحاتی عمل تب ہی ثمر آور ثابت ہوتا ہے جب اسے منصوبہ بندی، شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر نافذ کیا جائے۔ اگر تبدیلی محض عارضی یا سیاسی مقاصد کے تحت کی جائے تو نتائج مطلوبہ نہیں نکلتے بلکہ اداروں میں غیریقینی کی کیفیت جنم لے سکتی ہے۔ اسی طرح نئے نظام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی تربیت اور صلاحیت سازی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی خود ڈھانچے کی تبدیلی۔ محض عمارت بدل دینا کافی نہیں، اسے چلانے والے ہاتھوں کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

‎خلاصہ یہ ہے کہ انتظامی سطح پر ضرورت پڑنے پر ری سیٹ کیے جانے کے عمل کو ناکامی یا کمزوری کی علامت سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ، بیدار اور خود احتسابی پر یقین رکھنے والی قوم کی نشانی ہے۔ اگر پاکستان کو ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کے طور پر آگے بڑھنا ہے، تو ہمیں انتظامی جمود کو توڑنا ہوگا، جہاں ضرورت ہو وہاں سخت مگر ضروری فیصلے کرنے ہوں گے، اور نظام کو اس طرح ترتیب دینا ہوگا کہ وہ عوام کی توقعات اور ملکی سلامتی کے تقاضوں پر پورا اتر سکے۔ یہ اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ قومی بقا اور مستحکم مستقبل کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا