’فائر کلاؤڈ‘ (fire cloud) کیا ہے اور اس نے یورپ میں جنگل کی آگ کی شدت میں کس طرح اضافہ کیا ہے؟
یورپ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جنگلات میں لگنے والی آگ نے نہ صرف ہزاروں ہیکٹر جنگلات کو راکھ میں تبدیل کیا بلکہ انسانی جانوں، گھروں اور ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اسپین، یونان، پرتگال، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک ہر موسمِ گرما میں شدید جنگلاتی آگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور خشک موسم کے ساتھ ایک اور خطرناک قدرتی مظہر بھی ان آگوں کو مزید تباہ کن بنا رہا ہے، جسے ’فائر کلاؤڈ‘ (Fire Cloud) یا سائنسی زبان میں Pyrocumulus Cloud کہا جاتا ہے۔
فائر کلاؤڈ عام بادلوں کی طرح دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ آگ کی شدت سے پیدا ہونے والا ایک منفرد موسمی نظام ہوتا ہے۔ جب کسی جنگل میں آگ انتہائی شدت اختیار کر لیتی ہے تو اس سے بے پناہ گرمی پیدا ہوتی ہے۔ یہی گرمی دھوئیں، راکھ اور گرم ہوا کو بہت تیزی سے آسمان کی طرف دھکیلتی ہے۔ جب یہ گرم ہوا اوپر جا کر نسبتاً ٹھنڈی فضا سے ملتی ہے تو پانی کے بخارات جمع ہو کر بادل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی بادل فائر کلاؤڈ کہلاتا ہے۔
ابتدا میں یہ بادل بے ضرر محسوس ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فائر کلاؤڈ اپنے اندر ایک مکمل موسمی نظام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے باعث تیز اور غیر متوقع ہوائیں چل سکتی ہیں، جو آگ کو چند لمحوں میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا دیتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بادل بجلی بھی پیدا کرتے ہیں، اور اگر یہ بجلی خشک جنگلات پر گرے تو نئی آگ بھڑک سکتی ہے، جس سے صورت حال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بارشوں میں کمی اور خشک سالی جنگلات کو انتہائی آتش گیر بنا دیتی ہے۔ جب ایسے حالات میں آگ لگتی ہے تو وہ معمول سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر لیتی ہے، اور یہی شدید آگ فائر کلاؤڈ کی تشکیل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔
فائر کلاؤڈ کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ آگ کے اپنے رویے کو بدل دیتا ہے۔ عام حالات میں فائر فائٹرز آگ کی سمت اور رفتار کا اندازہ لگا کر اسے قابو کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن فائر کلاؤڈ کی موجودگی میں آگ اچانک سمت بدل سکتی ہے۔ تیز ہوائیں شعلوں کو کئی کلومیٹر دور تک پہنچا دیتی ہیں، جبکہ جلتے ہوئے درختوں کے ٹکڑے ہوا میں اڑ کر نئے مقامات پر آگ لگا سکتے ہیں۔ اس وجہ سے امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل ہو جاتی ہیں۔
یونان، پرتگال اور اسپین میں کئی مرتبہ ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں فائر کلاؤڈ نے آگ کو ناقابلِ کنٹرول بنا دیا۔ بعض صورتوں میں آگ اتنی شدت اختیار کر گئی کہ ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ کئی شاہراہیں بند کرنا پڑیں، فضائی آپریشن روک دیے گئے اور فائر فائٹرز کو اپنی جانیں بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ طاقتور ہو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں جنگلات خشک ہوتے جا رہے ہیں، اور جب آگ لگتی ہے تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی حالات فائر کلاؤڈ بننے کے امکانات بھی بڑھا دیتے ہیں۔
اس خطرے سے نمٹنے کے لیے یورپی ممالک جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔ مصنوعی سیاروں، ڈرونز، موسم کی پیش گوئی کرنے والے جدید نظام اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے آگ کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی بڑے خطرے سے پہلے خبردار کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ جنگلات کی بہتر دیکھ بھال، خشک جھاڑیوں کی صفائی، آگ سے بچاؤ کے حفاظتی راستوں کی تعمیر اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو مستقبل میں فائر کلاؤڈ جیسے خطرناک مظاہر مزید عام ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگلاتی آگ نہ صرف زیادہ تعداد میں لگے گی بلکہ اسے بجھانا بھی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فائر کلاؤڈ صرف ایک بادل نہیں بلکہ قدرت کی ایک خطرناک وارننگ ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ اگر دنیا نے ماحول کے تحفظ، جنگلات کی حفاظت اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں یورپ سمیت دنیا کے دیگر خطے بھی مزید شدید اور تباہ کن جنگلاتی آگ کا سامنا کر سکتے ہیں۔
.jpg)
Comments