امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے ایک روز بعد، آئی آر جی سی (IRGC) نے کویت میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے ایک نیا اور خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ امریکی افواج کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر حملوں کے صرف ایک روز بعد، ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات نے جنم لیا ہے۔
ایران نے کویت پر حملے کو ایران کے متعدد مقامات، بشمول جزیرہ قشم، پر امریکی حملوں کے جواب میں انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج نے بتایا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اثاثوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تہران کا کہنا تھا کہ اس نے ڈرون حملے میں کویت کے احمد الجابر ایئر بیس میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال ایئرکرافٹ شیلٹرز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز اور آلات کے گوداموں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے مطابق بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر بھی حملہ کیا گیا جہاں پاور جنریٹرز، نیویگیشن سسٹمز اور معاون عمارات کو نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ یہ تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب امریکی افواج نے بدھ کے روز ایران بھر میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف پر حملوں کی ایک "بھاری لہر" مکمل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران میں فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی و دفاعی مراکز اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا، تاہم اس نے ان اہداف کی مخصوص تفصیلات یا مقامات ظاہر نہیں کیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ ایران کو سختی سے جواب دیا جائے گا، خاص طور پر اس کے بعد کہ آئی آر جی سی نے بدھ کے روز اردن میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا تھا۔
اس تازہ کشیدگی کے دوران انسانی جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ کویت کی وزارتِ دفاع نے جمعرات کو بتایا کہ ایک ایرانی حملے میں ملک کے شمالی علاقے میں ایک چینی کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک مزدور ہلاک ہو گیا۔ دوسری جانب ایرانی ذرائع کے مطابق قشم جزیرے پر تازہ امریکی حملوں میں ایک جوڑا اور ان کا دو سالہ بچہ ہلاک ہوئے۔ اس واقعے پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور تہران نے کہا کہ امریکہ کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔
اردن بھی اس تنازعے کی زد میں ہے۔ جمعرات کی صبح جلد اردن کی مسلح افواج نے بتایا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے مملکت کے علاقے کی جانب داغے گئے پانچ میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔ سعودی عرب نے بھی اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
چین نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے جمعہ کو کہا کہ بیجنگ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حملے سے کسی چینی شہری کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم چین نے کویت سے چینی شہریوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ آئی آر جی سی نے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہو۔ ایران گزشتہ کئی ہفتوں سے کویت، بحرین، عمان اور اردن سمیت خطے کے مختلف ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کرتا رہا ہے، جن میں ہر بار "انتقامی کارروائی" کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ اس تسلسل نے واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ اب صرف ایران اور امریکہ کے درمیان محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خلیجی خطے پر پڑ رہے ہیں، جہاں کویت، بحرین، اردن اور عمان جیسے ممالک کو بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خطے کے مبصرین کے نزدیک اس تنازعے کے مزید پھیلنے کا خطرہ حقیقی ہے۔ اردن، مصر اور عراق میں حالیہ حملوں کے علاوہ بحیرہ احمر اور بحیرہ قزوین میں بحری جہازوں پر حملوں نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ یہ جنگ جغرافیائی طور پر مزید پھیل سکتی ہے، اور شاید یوکرین کی جنگ سے بھی جا ملے۔ ایسے حالات میں خطے کے چھوٹے ممالک، جو اس تنازعے کا براہِ راست حصہ نہیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی تنصیبات انہیں ایران کے ممکنہ نشانے پر لے آتی ہیں۔
بین الاقوامی برادری کے لیے یہ صورتحال ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ اپنے فوجی اہداف کے حصول پر مصر ہے، وہیں دوسری طرف ایران بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا۔ اس کشمکش کے نتیجے میں خلیجی ممالک کے عوام اور غیر ملکی کارکنان براہِ راست خطرے میں ہیں، اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے امکانات فی الحال معدوم دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روک پاتی ہیں یا خطہ ایک وسیع تر تصادم کی جانب بڑھتا ہے۔
.jpg)
Comments