ویڈن کے سکول میں تلوار کے حملے میں جاں بحق ہونے والی 17 سالہ طالبہ کی شناخت ظاہر



 سویڈن کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ وسطی سویڈن کے شہر فاگرستا میں ایک ہائی سکول پر ہونے والے مہلک تلوار کے حملے میں جان سے جانے والی طالبہ کی عمر محض 17 برس تھی۔ ہفتے کے روز جاری بیان میں پولیس نے کہا "اس واقعے میں جان سے جانے والی ایک 17 سالہ لڑکی تھی، اس کے خاندان کو مطلع کر دیا گیا ہے۔" تاہم مزید تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا گیا۔

‎واقعہ کیسے پیش آیا

‎یہ واقعہ جمعے کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب سٹاک ہوم سے شمال مغرب میں واقع برنیل ہائی سکول میں کلاسیں جاری تھیں۔ 18 سالہ حملہ آور نے سکول پر تلوار سے حملہ کیا، جہاں تقریباً چار سے پانچ سو طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔ پولیس کے مطابق حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ ویسٹمن لینڈ کاؤنٹی حکام کے مطابق شدید زخمی ہونے والے دو لڑکوں کی عمریں 12 اور 17 برس تھیں، جبکہ ایک تیسرا نوجوان معمولی زخموں کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

‎پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو سکول میں کارروائی کے دوران گولی مار کر گرفتار کر لیا گیا، اگرچہ فائرنگ کے باوجود وہ زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے واضح کیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حملے میں کوئی اور شخص بھی ملوث تھا، اور معاملے کو قتل اور قتل کی کوشش کے تحت تفتیش کیا جا رہا ہے۔

‎حملہ آور کون تھا؟

‎سویڈش نشریاتی ادارے ایس وی ٹی کی رپورٹ کے مطابق مشتبہ حملہ آور کا ماضی میں تشدد کا مقدمہ بھی درج تھا اور اس نے حملے کے دوران ہیلمٹ پہن رکھا تھا، جو 2015 میں مغربی شہر ٹرول ہیٹن میں پیش آنے والے نسل پرستانہ حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں ایک 21 سالہ شخص نے تین افراد کو قتل کیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق سکول کے پرنسپل نے تصدیق کی کہ حملہ آور خود اسی ادارے کا طالبعلم تھا۔

‎تحقیقات میں ایک اور تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تفتیش کار اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا مشتبہ شخص کا تعلق ایسے آن لائن گروہوں سے تھا جو سکولوں میں پرتشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ حملے سے بیس منٹ قبل حملہ آور کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تلوار کی تصویر پوسٹ کی گئی تھی، جس میں پہلے بھی سکولوں پر ہونے والے حملوں سے متعلق مواد موجود تھا۔ یہ اکاؤنٹ بعد ازاں ہٹا دیا گیا۔

‎قوم کا اجتماعی غم اور سیاسی ردعمل

‎واقعے کے اگلے دن ہفتے کی صبح فاگرستا میں سینکڑوں افراد نے سکول کے باہر پھول اور شمعیں روشن کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ خود وزیراعظم اُلف کرسٹرسن اور اپوزیشن رہنما میگدالینا اینڈرسن بھی موقع پر پہنچے اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا "جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ دوبارہ ہو گیا۔"

‎سویڈن میں ستمبر میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں، مگر اس سانحے کے پیشِ نظر تمام سیاسی جماعتوں نے ہفتے کے روز انتخابی مہم کی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ وزیراعظم نے تحقیقات کی پیش رفت پر بات چیت کے لیے تمام جماعتوں کے سربراہان کو ایک اجلاس کی دعوت بھی دی۔

‎سویڈن میں سکولوں پر حملوں کی تاریخ

‎یہ واقعہ سویڈن میں سکولوں کو نشانہ بنانے والے تشدد کے تسلسل کی ایک اور کڑی ہے۔ 2015 میں ٹرول ہیٹن کے کرونان سکول میں ایک نسل پرست حملہ آور نے تین افراد کو ہلاک کیا تھا، جبکہ 2022 میں مالمو کے ایک سکول میں ایک 18 سالہ شخص نے کلہاڑی اور چاقو سے دو خاتون اساتذہ کو قتل کر دیا تھا۔ ان واقعات نے سویڈن جیسے ملک میں، جہاں تشدد کی شرح روایتی طور پر کم رہی ہے، سکولوں کی حفاظت اور نوجوانوں میں پرتشدد رجحانات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

‎آگے کیا؟

‎پولیس کے مطابق اب تک تقریباً 80 افراد سے تفتیشی انٹرویو کیے جا چکے ہیں اور مزید گواہوں سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔ مشتبہ شخص کی رہائش گاہ پر بھی دو مرتبہ تلاشی لی جا چکی ہے۔ تاہم پولیس نے حملے کے پیچھے کارفرما محرک کے بارے میں تاحال کوئی حتمی وضاحت نہیں دی، اور کہا ہے کہ گواہوں پر اثرانداز ہونے سے بچنے کے لیے تفصیلات جاری کرنے میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔

‎یہ سانحہ ایک بار پھر اس بحث کو ہوا دے رہا ہے کہ کیا نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے پرتشدد رجحانات، سوشل میڈیا پر پھیلنے والے انتہا پسندانہ مواد، اور سکولوں کی حفاظتی تدابیر پر نظرثانی کا وقت آ چکا ہے — تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسے المناک نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا