سکتا ہے کہ ایران کے پاس 4,000 بیلسٹک میزائل رہے ہوں
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے، ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے: تہران کے پاس آخر کتنے میزائل باقی ہیں؟ مغربی دفاعی تجزیوں میں طویل عرصے سے ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا ذخیرہ ہونے کے اندازے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ بعض اندازے چار ہزار یا اس سے زیادہ میزائلوں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن جنگ کے میدان میں موجود حالات یہ بتاتے ہیں کہ صرف ایک بڑا عدد کسی ملک کی اصل عسکری طاقت کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔
گزشتہ پانچ ماہ کی شدید فوجی کشیدگی نے ایران کے میزائل پروگرام کو ایک سخت امتحان سے گزارا ہے۔ مسلسل حملوں، جوابی کارروائیوں اور میزائلوں کے استعمال نے اس ذخیرے پر لازماً دباؤ ڈالا ہوگا۔ تاہم یہ کہنا آسان نہیں کہ ایران نے کتنے میزائل استعمال کیے، کتنے تباہ ہوئے اور کتنے اب بھی محفوظ ہیں، کیونکہ ایسے اعداد و شمار عام طور پر مکمل طور پر سامنے نہیں آتے۔
ایران نے میزائل ٹیکنالوجی پر اتنی توجہ محض اتفاق سے نہیں دی۔ کئی دہائیوں کی پابندیوں نے تہران کے لیے جدید جنگی طیاروں اور بعض مغربی دفاعی نظاموں تک رسائی محدود رکھی۔ ایسے ماحول میں ایران نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا: اگر فضائی برتری حاصل کرنا مشکل ہے تو ایسی میزائل صلاحیت ضرور بنائی جائے جو ممکنہ دشمن کے لیے خطرناک ثابت ہو۔
اسی حکمت عملی کے نتیجے میں خیبر شکن، فتح، عماد اور سجیل جیسے مختلف میزائل پروگرام سامنے آئے۔ ان نظاموں میں وقت کے ساتھ رینج، درستگی، رفتار اور وار ہیڈ کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کی کوشش کی گئی۔ ایران کے لیے یہ میزائل صرف حملہ کرنے کے ہتھیار نہیں بلکہ ایک طرح کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس بھی ہیں۔
لیکن جنگ میں میزائل ذخیرہ تیزی سے کم بھی ہو سکتا ہے۔ جب ایک ملک کو مسلسل حملوں کا سامنا ہو تو وہ دفاعی نظام کو دباؤ میں رکھنے، اہم اہداف کو نشانہ بنانے یا دشمن کی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لیے بڑی تعداد میں میزائل استعمال کر سکتا ہے۔ ایسے حالات میں چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر وہ ذخیرہ نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے جو برسوں میں تیار کیا گیا ہو۔
اس کے باوجود صرف داغے گئے میزائلوں کو شمار کرنا کافی نہیں۔ میزائلوں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی، نقل و حرکت اور لانچنگ انفراسٹرکچر بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ایک میزائل تباہ ہونے سے صرف ایک ہتھیار کم نہیں ہوتا، بلکہ اگر اس کے ساتھ متعلقہ لانچنگ، ایندھن یا کمانڈ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو تو پوری صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ایران کے زیرِ زمین میزائل اڈے بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ تہران نے برسوں میں اپنے اہم فوجی اثاثوں کو زیرِ زمین رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ فضائی حملوں سے انہیں زیادہ سے زیادہ تحفظ مل سکے۔ تاہم کوئی بھی دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا۔ انٹیلی جنس، نگرانی اور درست فضائی حملے کسی بھی ملک کے میزائل نیٹ ورک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف ایران بھی اپنے تمام میزائل ایک ہی وقت میں استعمال کرنے کا خطرہ نہیں لے گا۔ عسکری منصوبہ بندی کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی بھی بڑے تصادم کے لیے کچھ صلاحیت محفوظ رکھی جائے۔ اگر ایران کے پاس واقعی ہزاروں میزائل موجود تھے، تو اس کا امکان موجود ہے کہ ان میں سے ایک قابلِ ذکر حصہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کے لیے محفوظ رکھا گیا ہو۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ چار ہزار کا پرانا اندازہ درست تھا یا غلط۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ موجودہ ذخیرے میں سے کتنے میزائل فوری طور پر قابلِ استعمال ہیں، کتنے دوبارہ تیار کیے جا سکتے ہیں اور ایران کتنی تیزی سے نئے میزائل پیدا کر سکتا ہے۔
یہاں پیداوار کی صلاحیت فیصلہ کن بن جاتی ہے۔ جنگ کے دوران میزائل جتنی تیزی سے استعمال ہوں، اگر پیداوار اس رفتار کا مقابلہ نہ کر سکے تو ذخیرہ مسلسل کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ دوسری جانب اگر ایران اپنی صنعتی صلاحیت، مقامی ٹیکنالوجی اور موجودہ تنصیبات کے ذریعے پیداوار برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو میزائلوں کی مجموعی تعداد میں کمی کے باوجود اس کی طویل المدتی صلاحیت برقرار رہ سکتی ہے۔
اس لیے پانچ ماہ کی شدید کشیدگی کے بعد ایران کے میزائل ذخیرے کے بارے میں قطعی فیصلہ دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ذخیرہ پہلے جیسی حالت میں نہیں رہا ہوگا، مگر اس کمی کی اصل مقدار اور عسکری اثرات کے بارے میں قابلِ اعتماد عوامی معلومات محدود ہیں۔
آخرکار ایران کا میزائل پروگرام صرف میزائلوں کی گنتی کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے دہائیوں کی حکمت عملی، صنعتی صلاحیت، زیرِ زمین انفراسٹرکچر، عسکری منصوبہ بندی اور علاقائی طاقت کا تصور موجود ہے۔ جنگ نے شاید ایران کے ذخیرے کو کم کیا ہو، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ تہران کتنی تیزی سے اپنی صلاحیت بحال کرتا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے میزائل پروگرام کا رخ کس طرف جاتا ہے۔ یہی سوال مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے دفاعی توازن کو سمجھنے میں سب سے زیادہ اہم ہوگا۔
.jpg)
Comments