دس سال، ایک بھی پرواز نہیں: چین کا خفتہ ڈریگن



 کچھ منصوبے اپنی سست روی سے ہی اپنی کہانی سنا دیتے ہیں۔ چین کا ایچ ٹوئنٹی سٹیلتھ بمبار، جسے 2016 میں پہلی بار باضابطہ طور پر متعارف کرایا گیا تھا، اب ایک دہائی بعد بھی — نہ کوئی تصدیق شدہ آزمائشی پرواز، نہ مکمل طیارے کی کوئی تصویر، اور نہ ہی کسی پیداواری لائن کا کوئی نشان۔

‎جون 2026 کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، یہ تاخیر مالی وسائل کی کمی کا معاملہ نہیں — یہ ایک صنعتی مسئلہ ہے۔ ایک بین البراعظمی فلائنگ ونگ بمبار بنانے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے — طاقتور انجن، ریڈار جذب کرنے والا مواد، بڑے پیمانے پر جدید کمپوزٹ مینوفیکچرنگ، اور نفیس فلائٹ کنٹرول انجینئرنگ — یہ بالکل وہی شعبے ہیں جہاں چین کی ایرو اسپیس صنعت ابھی تک سب سے کمزور ہے۔ سب سے مشکل مسئلہ انجن کا ہے: چین کے پاس اس طرح کے سٹیلتھ بمبار کے لیے مخصوص طور پر تیار کردہ انجن ابھی تک موجود نہیں۔

‎امریکی فضائیہ کے گلوبل سٹرائیک کمانڈ کے سربراہ جنرل سٹیفن ڈیوس نے فروری 2026 میں اس صورتحال کا خلاصہ چند سادہ الفاظ میں کیا: "جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ ابھی وہاں تک نہیں پہنچے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے حریف ہماری طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہیں اور ان کی نقل کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ ایسا نہیں کر پا رہے۔" جنرل ڈیوس کے مطابق، چین "زیادہ سے زیادہ ایک علاقائی بمباری کرنے والی قوت" ہے — یعنی، امریکی تشخیص میں، ایک عالمی سطح کی حریف نہیں۔

‎امریکی محکمہ دفاع کی سالانہ رپورٹس نے بھی اس تاثر کو تقویت دی ہے۔ دسمبر 2025 میں شائع ہونے والی چین کی فوجی طاقت پر تازہ ترین امریکی رپورٹ نے پیش گوئی کی کہ ایچ ٹوئنٹی 2030 کی دہائی سے پہلے متعارف ہونے کا امکان نہیں — اور دلچسپ بات یہ کہ اس رپورٹ نے ایچ ٹوئنٹی کا ذکر تک نہیں کیا، جو خود اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ اب یہ منصوبہ امریکی ماہرین کی نظر میں کوئی فوری تشویش کا باعث نہیں رہا۔

‎اس کے برعکس، امریکہ کا بی ٹوئنٹی ون رائیڈر بمبار، جو 2023 میں ہی پہلی بار پرواز کر چکا ہے، تیزی سے آپریشنل مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جولائی 2026 کی ایک کانفرنس میں امریکی جنرل ڈیل وائٹ نے بتایا کہ یہ منصوبہ اپنی طے شدہ ٹائم لائن سے آگے چل رہا ہے، اور 2027 میں پہلا آپریشنل بمبار ساؤتھ ڈکوٹا کے ایلزورتھ ایئر بیس پر پہنچے گا۔ یعنی جہاں امریکہ اپنے چھٹی نسل کے بمبار کو باقاعدہ سروس میں شامل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے، وہیں چین کا بمبار ابھی تک کاغذی خاکوں اور مصنوعی تصاویر تک محدود ہے۔

‎اس فرق کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کا ایک موقع خود اس سال، 2025-2026 کی ایران جنگ کے دوران ملا۔ امریکہ کے پرانے بی ٹو سپرٹ بمبار نے ایران کی زیرِ زمین تنصیبات پر حملوں میں جو کارکردگی دکھائی، اسے امریکی حکام نے ایک "کامیاب، بلا روک ٹوک" آپریشن قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق، چینی مبصرین اس کارکردگی کو دیکھ کر "حیران" رہ گئے۔ چین کی سٹریٹجک سپورٹ فورس اور نگرانی کرنے والے بحری جہازوں نے امریکی سٹیلتھ کارکردگی کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ان کارروائیوں کی قریب سے نگرانی کی۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس صدمے کے باوجود چین نے ایچ ٹوئنٹی کی رفتار فوری طور پر تیز نہیں کی — بلکہ اس نے بیجنگ کی اس خواہش کو مزید گہرا کیا کہ وہ کسی طرح ایک قابلِ اعتماد، طویل فاصلے تک مار کرنے والی سٹیلتھ صلاحیت حاصل کرے۔

‎دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ چین کے دیگر جدید منصوبے، جیسے جے چھتیس فائٹر جیٹ، نے ریکارڈ وقت میں چار پروٹوٹائپس اڑان بھری ہیں — یعنی مسئلہ چینی انجینئرنگ کی مجموعی صلاحیت کا نہیں، بلکہ خاص طور پر بمبار کلاس کی ٹیکنالوجی کا ہے، جو زیادہ پیچیدہ اور نفیس تقاضے رکھتی ہے۔

‎کچھ تجزیہ کار اسے محض تکنیکی تاخیر نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ بھی سمجھتے ہیں — ممکن ہے چین روایتی اور مہنگے سٹیلتھ بمبار کے بجائے ہائپر سونک میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دے رہا ہو، جو کم لاگت میں امریکہ کو بحرالکاہل کے علاقے میں مصروف رکھ سکتی ہیں۔ مگر امریکی دفاعی حکام کا مؤقف واضح ہے: چاہے وجہ حکمتِ عملی ہو یا مجبوری، فی الحال امریکہ کی فضائی سٹیلتھ برتری بلا شرکتِ غیرے قائم ہے — دہائیوں کے عملی جنگی تجربے، بی ٹو کی ثابت شدہ کارکردگی، اور بی ٹوئنٹی ون کی تیزی سے قریب آتی آپریشنل صلاحیت کے ساتھ۔

‎چین کا ڈریگن، فی الحال، اپنے پر پھیلانے کی کوشش میں ہی الجھا ہوا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا