گیارہ گھنٹے کی رات: کیف پر اب تک کا سب سے طویل حملہ



 آدھی رات کے قریب شروع ہونے والا یہ حملہ، صبح گیارہ بجے کے بعد "آل کلیئر" کے اعلان تک، مسلسل گیارہ گھنٹے جاری رہا۔ کیف کے شہریوں کے لیے یہ کوئی معمولی رات نہیں تھی — یہ حالیہ ہفتوں کی سب سے طویل اور سب سے تباہ کن بمباری تھی، اور جمعرات، بیس اگست کی صبح، شہر نے اپنے ماضی کے سب سے بھاری حملوں میں سے ایک کا سامنا کیا۔

‎روسی افواج نے بیلسٹک میزائل، کیلیبر کروز میزائل، زرکون میزائل اور جیٹ سے چلنے والے ڈرونز کا ایک مربوط حملہ کیف پر کیا۔ کیف سٹی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے مطابق، شہر کے بارہ سے زائد مقامات پر تباہی کے آثار ریکارڈ کیے گئے — دارنیتسکی، سویاتوشِنسکی اور سولومیانسکی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد گھنٹے گھنٹے بڑھتی رہی — ابتدا میں پانچ، پھر بارہ، پھر تیرہ، اور بالآخر یو پی آئی کی رپورٹ کے مطابق کم از کم سترہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

‎سب سے زیادہ نقصان سولومیانسکی ضلع میں ہوا، جہاں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کی اوپری دو منزلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور باقی منزلوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ ساٹھ سالہ لاریسا بونداروک، جو اپنی بلی "شینل" کو گود میں لیے زمین پر بیٹھی تھیں — جسے فائر فائٹرز نے بچایا تھا — نے آنسوؤں کے ساتھ بتایا کہ ان کے پڑوسی کا پوتا ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا۔ "راکٹ چھت پر گرا۔ آواز ناقابلِ یقین حد تک زوردار تھی۔ فوراً ملبہ اور دروازے اڑ گئے۔ دھوئیں کے ستون، آگ کے ستون، چیخیں، رونا اور مایوسی،" انہوں نے بتایا۔

‎اس رات کا سب سے دل دہلا دینے والا نشانہ، ایک بار پھر، بچوں کا ایک ہسپتال تھا۔ کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے تصدیق کی کہ سولومیانسکی ضلع میں واقع بچوں کے ہسپتال کی عمارت کے شیشے اڑ گئے، اور ہسپتال کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔ خوش قسمتی سے، عملے نے حملے سے پہلے ہی مریضوں کو زیرِ زمین شیلٹر میں منتقل کر دیا تھا۔

‎صدر زیلنسکی نے کہا کہ "روسیوں نے طویل عرصے سے تیاری کی، اور شہری بنیادی ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے مختلف قسم کے پراجیکٹائل، کروز میزائل اور ڈرونز کو ملا کر استعمال کیا۔" انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں تیس اپارٹمنٹ بلاکس، ایک اسکول، ایک کنڈرگارٹن اور بچوں کا ہسپتال — سب متاثر ہوئے۔

‎مگر یہ حملہ صرف کیف تک محدود نہیں رہا۔ ژیتومیر خطے میں پولیس کے مرکزی صدر دفتر پر ایک الگ ڈرون حملے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق اور چالیس سے زائد افراد زخمی ہوئے — یہ حملہ کیف پر حملے سے چند گھنٹے پہلے ہوا۔ اور اس رات کی تباہی صرف یوکرین تک بھی محدود نہ رہی: رومانیہ نے کہا کہ ایک دھماکہ خیز مواد سے لیس بحری ڈرون، جو ممکنہ طور پر روس نے چھوڑا تھا، اس کے ایک آف شور قدرتی گیس منصوبے کو نشانہ بنانے کی کوشش میں تھا۔

‎یوکرینی وزیرِ خارجہ سیبیہا نے اس بمباری کو مضبوط فضائی دفاع کی فوری ضرورت کا ثبوت قرار دیا۔ "ہر روسی بیلسٹک میزائل بربریت کا ایک عمل ہے۔ اور یوکرین کو فراہم کیا جانے والا ہر انٹرسیپٹر انسانیت کا ایک عمل ہے، جو انسانی جانیں بچاتا ہے،" انہوں نے کہا، اور اتحادیوں سے مزید فضائی دفاعی نظام، پابندیوں میں اضافے، اور اینٹی بیلسٹک صلاحیتوں کی ترقی میں تعاون کا مطالبہ کیا۔

‎یوپی آئی کے مطابق، حکام نے تسلیم کیا کہ یوکرین بیلسٹک میزائلوں کے خلاف عملی طور پر بے دفاع ہے، کیونکہ فضائی دفاعی نظام کے لیے انٹرسیپٹرز کی شدید قلت ہے — وہی قلت جس کا ذکر حالیہ مہینوں میں بارہا کیا جا چکا ہے، اور جو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیٹریاٹ میزائلوں کی سپلائی پر پڑنے والے دباؤ سے مزید بگڑ چکی ہے۔

‎جمعرات کی دوپہر تک، چار سو باسٹھ ہنگامی اہلکار اور ایک سو سولہ خصوصی آلات ملبہ صاف کرنے کے کام میں مصروف تھے۔ کیف کی گلیوں میں، جہاں کچھ گھنٹے پہلے دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، اب فائر فائٹرز شعلوں پر قابو پا رہے تھے، رہائشی اپنے تباہ شدہ گھروں کا جائزہ لے رہے تھے، اور بہت سے لوگ صرف یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا نہیں۔

‎یہ رات، ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کی ایک اور، اور شاید سب سے طویل، کڑی تھی۔ مگر ہر نئی صبح کی طرح، کیف کے باشندے ملبے سے اٹھ کر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کریں گے — جانتے ہوئے بھی کہ اگلی رات، شاید، اتنی ہی طویل اور اتنی ہی خوفناک ہو سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا