امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی: ایک اور خطرناک موڑ



 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف "تاریخ کی سخت ترین پابندیوں" کی بات دہرائی ہے، اور جواب میں تہران کی طرف سے "کچل دینے والے ردعمل" کی دھمکی سامنے آئی ہے۔ یوں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس خطرناک موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں الفاظ کی جنگ کسی بھی وقت کچھ اور سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ کشمکش اب صرف سفارتی بیان بازی نہیں رہی، بلکہ دباؤ، دھمکیوں اور اقتصادی و جغرافیائی چالوں کا ایک پیچیدہ اور خطرناک کھیل بن چکی ہے۔

‎امریکہ کا موقف کیا ہے؟

‎ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کی خطے میں مداخلت اور میزائل ٹیکنالوجی پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ اسی سوچ کے تحت امریکہ ایران پر اتنا اقتصادی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی پرانی پالیسیاں چھوڑ کر نئے اور زیادہ سخت معاہدے پر بات چیت کے لیے مجبور ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے ایرانی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر بند کرنے، بینکنگ نظام کو ناکارہ بنانے اور جو ممالک ایران سے تجارت کرتے ہیں ان پر بھی سخت پابندیاں لگانے جیسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

‎امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر ایران کے پاس پیسہ نہیں ہوگا تو وہ خطے میں اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس اقتصادی گھیراؤ کا سب سے زیادہ نقصان عام ایرانی عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جہاں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور روزمرہ کی اشیاء تک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

‎ایران کیوں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں؟

‎دوسری طرف ایران کا رویہ بھی کسی نرمی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ ایرانی قیادت نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر مزید دباؤ ڈالا گیا تو اس کا جواب "کچل دینے والا، سزا دینے والا اور تباہ کن" ہوگا۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بیرونی طاقت کی مسلط کردہ شرائط کے سامنے سر جھکانے والا نہیں۔

‎ایرانی حکام یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کا اصل مقصد صرف معیشت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ملک کے اندر سیاسی بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو نشانہ بنانے، اپنے ایٹمی پروگرام کو مزید تیز کرنے اور خطے میں موجود اپنے حلیفوں کے ذریعے ردعمل دینے جیسے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق، اگر ایران کا تیل بین الاقوامی منڈی میں نہیں پہنچے گا تو خطے سے کسی اور ملک کا تیل بھی محفوظ طریقے سے باہر نہیں جا سکے گا — ایک واضح اشارہ کہ ایران ٹکراؤ کی صورت میں پوری عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتا ہے۔

‎عام لوگ سب سے زیادہ متاثر

‎اس پوری کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے دونوں حکومتوں کی پالیسیوں کے درمیان پھنسے عام شہری ہیں۔ ایران میں ادویات کی کمی، کرنسی کی مسلسل گراوٹ اور بے روزگاری میں اضافہ عوام کے لیے روز کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی دوران عالمی سطح پر بھی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی کیفیت اور جنگ کے خدشات کی وجہ سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

‎کیا جنگ ناگزیر ہے؟

‎دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر تجزیہ کار یہ نہیں سمجھتے کہ مکمل جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں ہے۔ امریکہ ایک اور طویل اور مہنگی جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا، جبکہ ایران کو بخوبی اندازہ ہے کہ براہِ راست امریکی فوجی کارروائی اس کے بنیادی ڈھانچے کے لیے کتنی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اصل خطرہ جنگ کے ارادے سے نہیں بلکہ حادثاتی طور پر پیش آنے والی کسی غلط فہمی سے ہے۔ سمندر یا فضائی حدود میں ایک چھوٹی سی چوک بھی دونوں ممالک کو ایسے تصادم میں دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات صرف انہی دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

‎آگے کیا ہونا چاہیے؟

‎اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ سنجیدہ سفارت کاری ہے، چاہے وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ۔ یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کی میز پر لانے کی کوشش کریں۔ اگر دھمکیوں اور پابندیوں کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی قیمت چکائے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا