پوٹن کا یوکرین کو انتباہ: "پنڈورا باکس" کھلنے کے بعد کیا ہوگا؟



 روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک بار پھر یوکرین کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ کیف کی حکومت نے روس کی معاشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایک ایسا "پنڈورا باکس" کھول دیا ہے جس کے نتائج اب یوکرین کو خود بھگتنا ہوں گے۔ روسی ریاستی ٹیلی ویژن کے صحافی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پوٹن کا کہنا تھا "کیف حکومت نے ہماری معیشت کو نقصان پہنچانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ اس نے کیا کِیا؟ اس نے خود ہی یہ پنڈورا باکس کھول دیا۔ اب اپنے حساس ترین معاشی شعبوں کے خلاف جوابی کارروائی کی توقع رکھیں۔"

‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین-روس جنگ اپنے ساڑھے چار سال مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

‎یوکرین کے حملوں کا پس منظر

‎گزشتہ چند ماہ کے دوران یوکرین نے روس کے تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور بڑی آن لائن کمپنیوں کے گوداموں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کی مہم میں نمایاں تیزی لائی ہے۔ یوکرینی افواج نے روس بھر میں وائلڈبیریز کے گوداموں پر حملے کیے، جن میں ماسکو کے قریب ایک بڑا گودام بھی شامل ہے جہاں شدید آتشزدگی ہوئی۔ یوکرین کا مؤقف ہے کہ یہ تنصیبات روس کی جنگی مشین کو رواں دواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے انہیں نشانہ بنانا جائز دفاعی حکمتِ عملی ہے۔

‎ان حملوں کے اثرات روس کے اندر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق روس اب ایک "دو درجاتی معیشت" کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں دفاعی صنعت سے وابستہ افراد خوشحال ہیں جبکہ عام شہریوں کو پیٹرول کی قلت اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔

‎روس کا جوابی وار

‎پوٹن کے مطابق ماسکو نے بھی یوکرین کی معیشت کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے، اور اس کے بقول روسی حملے اب زیادہ مؤثر اور نشانے پر درست ثابت ہو رہے ہیں۔ روس نے یوکرینی سیاہ سمندر کے راستے اناج کی برآمدات سمیت معاشی تنصیبات پر جوابی حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پوٹن نے بتایا کہ روس نے کیف سمیت یوکرین کی دفاعی صنعتوں پر حملے بڑھا دیے ہیں، جو کہ روسی لاجسٹک تنصیبات پر یوکرینی حملوں کا ردعمل ہیں۔

‎پوٹن کا کہنا تھا کہ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے روس کے خلاف کوئی حقیقی فوجی برتری حاصل نہیں کی اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔ انہوں نے چالیس دنوں میں روس کو شکست دینے کے مبینہ منصوبے کو محض ایک اور "مہم جوئی" قرار دیا۔

‎عالمی غذائی تحفظ پر اثرات

‎روسی صدر نے اس تشویش کو رد کیا کہ ان کے حملوں سے عالمی سطح پر غذائی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یوکرین کی زرعی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم پوٹن کا دعویٰ ہے کہ روس یوکرینی اناج کی جگہ اپنی برآمدات بڑھا کر عالمی منڈی میں کمی کو پورا کر لے گا۔ خیال رہے کہ روس اور یوکرین نے ماضی میں ترکی کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بحیرہ اسود کے راستے اناج کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنایا تھا، لیکن روس 2023 میں اس معاہدے سے الگ ہو گیا تھا۔

‎مذاکرات پر مؤقف میں کوئی نرمی نہیں

‎پوٹن نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ ماسکو امن مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر صرف اس صورت میں جب یہ "زمینی حقائق" کی بنیاد پر ہوں۔ انہوں نے یوکرین کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے پیش کی جانے والی تجاویز کو "عجیب و غریب" اور ناقابلِ قبول قرار دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کریملن کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے کیف سے بھاری رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

‎تجزیہ: کیا کشیدگی مزید بڑھے گی؟

‎مبصرین کے نزدیک پوٹن کے یہ بیانات محض بیان بازی نہیں بلکہ ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی جانب اشارہ ہیں، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی معیشتوں کو نشانہ بنانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ روس کی جانب سے یوکرین کے شہری اور صنعتی ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ اور یوکرین کی جانب سے روسی توانائی کے شعبے پر دباؤ، دونوں اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ جنگ کا معاشی محاذ اب اتنا ہی اہم بن چکا ہے جتنا میدانِ جنگ۔

‎ایسے میں عالمی برادری اور خاص طور پر امریکہ اور یورپی ممالک کے لیے یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ کیا سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے، یا دونوں ممالک ایک طویل اور مہنگی معاشی جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کا خمیازہ بالآخر عام شہریوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا