چین کے اسٹیلتھ فائٹر کو ایک نقل سمجھا جانا تھا۔ پھر



 برسوں تک مغربی دفاعی تجزیہ کار چین کے جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کو محض امریکی ٹیکنالوجی کی "سستی نقل" یا "کاپی کیٹ" کہہ کر مسترد کرتے رہے۔ لیکن جیسے جیسے یہ طیارے پروازوں، فوجی مشقوں اور بحری بیڑوں کا حصہ بنتے گئے، یہ سادہ سا بیانیہ ایک زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک حقیقت میں بدلتا چلا گیا۔

‎نقل کے الزامات کی ابتدا

‎چین کے اسٹیلتھ طیاروں پر نقل کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ (cite index="15-1">2011 میں جب چین نے چینگدو جے-20 طیارہ متعارف کرایا تو اس کی حیران کن رفتار سے مکمل ہونے والی تیاری نے مغربی دفاعی تجزیہ کاروں کو ششدر کر دیا، اور بعد ازاں انٹیلیجنس رپورٹس نے انکشاف کیا کہ بیجنگ نے جارحانہ ریاستی سرپرستی میں سائبر جاسوسی کے ذریعے برسوں کی تحقیق کو بائی پاس کیا۔</cite> امریکی حکام کے مطابق (cite index="8-1">دو ہزار کی دہائی کے اواخر میں چینی ہیکرز نے "آپریشن بازنطینی ہیڈیز" کے نام سے امریکی دفاعی ٹھیکیداروں پر بڑے پیمانے کا سائبر حملہ کیا، جس میں ایف-35 اور ایف-22 سے متعلق حساس ڈیٹا کی بھاری مقدار بیجنگ منتقل ہوئی۔</cite>

‎اسی طرح کینیڈا میں گرفتار ہونے والے ایک چینی شہری سو بن نے (cite index="18-1">ایف-22 اور ایف-35 کے ڈیزائن سمیت چھ لاکھ سے زائد حساس فائلیں چوری کرنے کے الزام میں جرم قبول کیا تھا۔</cite> ان واقعات نے مغربی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط کر دیا کہ چینی طیارے محض نقالی کا نتیجہ ہیں۔

‎جے-35: 'ٹیمو ایف-35'

‎سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والا طیارہ جے-35 رہا، جسے 2024 کے ژوہائی ایئر شو میں متعارف کرایا گیا۔ اس کی امریکی ایف-35 سے حیرت انگیز مماثلت نے مذاق میں اسے (cite index="16-1">"ٹیمو/علی ایکسپریس ایف-35" کا خطاب دلا دیا، یعنی ایک تکنیکی طور پر برتر امریکی طیارے کی سستی، بڑے پیمانے پر تیار ہونے والی چینی نقل۔</cite> امریکی فضائیہ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ایلون نے بھی برملا اس مماثلت کو تسلیم کیا اور کہا (cite index="9-1">"یہ کافی واضح ہے؛ آپ دونوں کو ساتھ رکھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے نقشے کہاں سے آئے۔"</cite>

‎پھر تصویر بدلنے لگی

‎مگر جیسے جیسے مزید تفصیلات سامنے آئیں، تجزیہ کاروں کا لہجہ بدلنے لگا۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ محض ظاہری مماثلت کسی طیارے کی حقیقی صلاحیت کا تعین نہیں کرتی۔ (cite index="19-1">امریکی کانگریسی جائزوں سمیت متعدد رپورٹس نے تسلیم کیا کہ اگرچہ چین نے واقعی کچھ ایف-35 ڈیزائن اور تفصیلات "چرائی" ہیں، تاہم اصل غیریقینی صورتحال طیارے کی ظاہری شکل نہیں بلکہ اس کے اندرونی نظام — کمپیوٹنگ، سینسنگ اور ہتھیاروں کی صلاحیت — سے متعلق ہے۔</cite>

‎مزید برآں، (cite index="20-1">چینی سرکاری میڈیا کے دعووں کے مطابق جے-35 کا ریڈار کراس سیکشن ایک "چڑیا" یا "انسانی ہتھیلی" کے برابر بتایا گیا، جو اگر درست ثابت ہو تو یہ محض ایک بصری نقل سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔</cite> ماہرین کا کہنا ہے کہ (cite index="20-1">حرارتی انتظام، انجن کا انضمام، اور جدید ریڈار جذب کرنے والے مواد ہی طے کریں گے کہ آیا جے-35 محض ایک بیرونی نقل ہے یا امریکہ کے پانچویں نسل کے طیاروں کا حقیقی حریف۔</cite>

‎جے-20: 'ایف-22 کلر'

‎اسی طرح کی کہانی جے-20 کے ساتھ بھی دہرائی گئی۔ ابتدا میں اسے مکمل طور پر چوری شدہ ٹیکنالوجی کا مجموعہ سمجھا گیا، مگر تجزیہ کاروں نے بعد میں تسلیم کیا کہ (cite index="8-1">چوری شدہ ٹیکنالوجی کے باوجود جے-20 کسی امریکی طیارے کی براہِ راست بصری نقل نہیں، بلکہ اس میں سامنے کی جانب کینارڈز اور بڑے، جڑواں انجن ڈیلٹا ونگ کنفیگریشن جیسی منفرد خصوصیات موجود ہیں، جو بحیرہ جنوبی چین پر تیز رفتار انٹرسیپشن کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کی گئیں۔</cite> یہی وجہ ہے کہ اسے بعض حلقوں میں "ایف-22 کلر" کا خطاب بھی دیا جانے لگا۔

‎نئی نسل: جے-50 کا معمہ

‎حالیہ برسوں میں چین نے جے-50 نامی ایک نیا "دُم کے بغیر" اسٹیلتھ طیارہ بھی متعارف کرایا، جس کی ظاہری شکل امریکہ کے زیرِ تعمیر ایف-47 این جی اے ڈی سے حیرت انگیز طور پر ملتی جلتی ہے۔ (cite index="11-1">بی-52 طرز کی لیمبڈا ونگ اور مکمل طور پر افقی باڈی کے ساتھ یہ طیارہ چھٹی نسل کی ایک بڑی پیش رفت بھی ہو سکتا ہے یا محض ایف-47 کی ایک ناقص نقل بھی۔</cite> ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر عمودی ساخت کے ایسا ڈیزائن اگر واقعی مؤثر ثابت ہو تو یہ ریڈار کے لیے تقریباً ناقابلِ شناخت سطح فراہم کر سکتا ہے۔

‎تزویراتی اثرات: امریکہ کے لیے تشویش کیوں؟

‎یہ بحث محض تکنیکی مباحثے تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق چین کا اصل فائدہ نقالی میں نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت میں ہے۔ (cite index="16-1">چین جیسے حریف کی جانب سے اسٹیلتھ طیاروں کی بڑے پیمانے پر تیاری، مغرب کے روایتی اتحادیوں کو بھی چین کی جانب راغب کر سکتی ہے اگر وہ اپنی فضائی طاقت کے لیے سستے متبادل کی تلاش میں ہوں۔</cite> اسی خدشے کے پیشِ نظر امریکی حکام بار بار خبردار کرتے رہے ہیں کہ چین کی تیز رفتار عسکری جدت کاری کو ہلکا نہ لیا جائے۔

‎نتیجہ: کاپی یا حقیقی چیلنج؟

‎آج کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ چین کے اسٹیلتھ طیاروں کو محض "نقل" قرار دینا اب اتنا آسان نہیں رہا جتنا ایک دہائی قبل تھا۔ اگرچہ ابتدائی ڈیزائن میں چوری شدہ ٹیکنالوجی کا کردار مسلمہ ہے، مگر جے-20، جے-35 اور جے-50 جیسے طیاروں کی تیز رفتار ترقی اور آپریشنل تعیناتی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ چین محض نقالی نہیں کر رہا بلکہ اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ بھی کر رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہی سوال امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے سب سے اہم چیلنج بنا رہے گا: کیا یہ طیارے واقعی امریکی برتری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یا ان کی چمک محض ظاہری مماثلت تک محدود ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا