شمالی کوریا اور روس کی بڑھتی قربت: کیا دنیا ایک نئی خطرناک صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے؟



 دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔ یوکرین کی جنگ، امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور مختلف خطوں میں جاری تنازعات نے بین الاقوامی نظام کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں شمالی کوریا اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے عالمی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

‎شمالی کوریا طویل عرصے سے عالمی سطح پر تنہائی اور سخت پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے۔ دوسری جانب روس، یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا محض اتفاق نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔

‎شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بڑھتے روابط نے اس شراکت داری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں سیاسی حمایت کے ساتھ ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون بھی اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ روس کو ایسے وقت میں ایک ایسے شراکت دار کی ضرورت ہے جو مغربی دباؤ سے زیادہ متاثر نہ ہو، جبکہ شمالی کوریا روس کے ساتھ تعلقات کو اپنی عالمی تنہائی کم کرنے اور اقتصادی و دفاعی فوائد حاصل کرنے کے ایک راستے کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

‎یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: آخر شمالی کوریا روس کے اتنا قریب کیوں جا رہا ہے؟

‎اس کی ایک بڑی وجہ عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتا ہوا توازن ہے۔ شمالی کوریا کئی دہائیوں سے امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کو اپنے لیے بڑے سیکیورٹی چیلنجز سمجھتا ہے۔ روس کے ساتھ مضبوط تعلقات اسے سفارتی سطح پر ایک طاقتور ساتھی فراہم کرتے ہیں۔ دوسری طرف روس کے لیے بھی شمالی کوریا ایک ایسا ملک ہے جو مغربی دباؤ کے باوجود ماسکو کے ساتھ کھڑا رہنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔

‎یوکرین جنگ نے اس تعاون کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں شمالی کوریا کی جانب سے روس کو فوجی معاونت فراہم کیے جانے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ ماسکو اور پیانگ یانگ نے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے معاہدے بھی کیے ہیں۔ اگرچہ اس تعاون کی نوعیت اور پیمانے کے بارے میں مختلف دعوے موجود ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک قربت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

‎اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر صرف روس اور شمالی کوریا تک محدود نہیں۔ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان اس پیش رفت کو اپنی علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر جزیرہ نما کوریا پہلے ہی دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام، جنوبی کوریا میں امریکی فوجی موجودگی اور جاپان کی بڑھتی ہوئی دفاعی سرگرمیاں اس پورے خطے کو مسلسل کشیدگی کی کیفیت میں رکھتی ہیں۔

‎اگر روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون مزید بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں مشرقی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یوں ایک ایسا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس میں ایک ملک کی سیکیورٹی پالیسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ بن جائے اور وہ مزید ہتھیار خریدنے یا دفاعی بجٹ بڑھانے پر مجبور ہو۔

‎لیکن اس پوری صورتحال میں سب سے اہم پہلو عام انسان کی زندگی ہے۔

‎جنگوں اور عالمی کشیدگی کا بوجھ صرف حکومتیں نہیں اٹھاتیں بلکہ اس کا اثر عام شہریوں تک پہنچتا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول میں غیر یقینی بڑھ سکتی ہے۔ پہلے ہی دنیا کی معیشت مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے، ایسے میں ایک نیا بڑا جغرافیائی سیاسی تنازع عالمی معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

‎سب سے خطرناک پہلو ایٹمی ہتھیاروں کا سایہ ہے۔ روس اور شمالی کوریا دونوں جوہری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی جنگ ناگزیر ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ کسی بھی بڑے بحران میں غلط اندازہ یا غلط فیصلہ انتہائی سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

‎تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست تصادم کسی کے لیے آسان فتح نہیں لاتا۔ اسی لیے آج دنیا کو محاذ آرائی سے زیادہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن بات چیت کے دروازے بند کر دینا مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ خطرات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

‎شمالی کوریا اور روس کی بڑھتی ہوئی قربت عالمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ضرور ہے، مگر اسے لازماً تیسری عالمی جنگ کی یقینی ابتدا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دنیا ابھی بھی سفارت کاری، مذاکرات اور عالمی اداروں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

‎آخرکار طاقت کا اصل امتحان صرف جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے میں بھی ہوتا ہے۔ آج دنیا کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، استحکام اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔ کیونکہ ایٹمی دور میں کسی جنگ کا حقیقی فاتح شاید کوئی بھی نہیں ہوتا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا