ٹرمپ نے ایف ڈی اے کی قیادت کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے مشیر اوورٹن کو ٹیپ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈاکٹر ہائیڈی اوورٹن کو فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی سربراہی کے لیے نامزد کرنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ امریکی صحت پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ ایف ڈی اے ایسا ادارہ ہے جس کے فیصلے براہِ راست ادویات، ویکسینز، طبی آلات، غذائی مصنوعات اور جدید علاج سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس لیے اس ادارے کی قیادت میں تبدیلی واشنگٹن تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ہائیڈی اوورٹن کا نام ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ڈومیسٹک پالیسی کونسل میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں اور انتظامیہ کی صحت سے متعلق پالیسیوں سے گہری واقفیت رکھتی ہیں۔ ان کا طبی اور تحقیقی پس منظر بھی قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے نیو میکسیکو یونیورسٹی سے میڈیکل ڈگری حاصل کی، جبکہ جانز ہاپکنز میں سرجری کی تربیت کے ساتھ کلینیکل انویسٹی گیشن میں پی ایچ ڈی بھی مکمل کی۔
یعنی ان کے سامنے صرف سیاست کا تجربہ نہیں بلکہ طب، تحقیق اور صحت پالیسی کا ایک امتزاج موجود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہی خصوصیت انہیں اس عہدے کے لیے موزوں بناتی دکھائی دیتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک محنتی اور قابل رہنما قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کی توقع ہے کہ وہ ادویات کی قیمتوں میں کمی، ریگولیٹری عمل میں تیزی اور عوامی صحت سے متعلق منصوبوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کریں گی۔
تاہم ڈاکٹر اوورٹن کے لیے اصل امتحان نامزدگی نہیں بلکہ ایف ڈی اے کی قیادت سنبھالنے کے بعد شروع ہوگا۔ گزشتہ عرصے میں ادارے کو قیادت اور پالیسی کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ سابق سربراہ ڈاکٹر مارٹی مکیری کے استعفے کے بعد مستقل قیادت کا سوال اہم بن گیا، جبکہ ادارے کے اندر پالیسی اختلافات اور عملے سے متعلق مسائل نے بھی صورتحال کو پیچیدہ کیا۔
ایف ڈی اے کی ذمہ داریاں عام حکومتی اداروں سے کہیں زیادہ حساس ہیں۔ کسی نئی دوا کو مارکیٹ میں آنے کی اجازت دینا، کسی ویکسین کی منظوری، طبی آلات کی نگرانی یا غذائی مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانا ایسے فیصلے ہیں جن کا تعلق براہِ راست لاکھوں لوگوں کی زندگیوں سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایف ڈی اے کے سربراہ سے سیاسی وفاداری کے ساتھ ساتھ سائنسی اعتبار، شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کی بھی توقع کی جاتی ہے۔
یہی پہلو ڈاکٹر اوورٹن کی نامزدگی پر ہونے والی بحث کو دلچسپ بناتا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ ان کے مضبوط روابط ایف ڈی اے کو تیز رفتار فیصلوں اور مؤثر پالیسی سازی میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب امریکی عوام ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور صحت کے اخراجات سے پریشان ہیں، انتظامیہ کے ایجنڈے سے ہم آہنگ قیادت تبدیلی لا سکتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کے سوالات بھی کم اہم نہیں۔ بعض طبی ماہرین اور قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ ڈاکٹر اوورٹن کا انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلق ایف ڈی اے کی سائنسی اور ریگولیٹری آزادی کے بارے میں سوالات پیدا کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ویکسین اور عوامی صحت کی پالیسیوں کے معاملے میں ان کے سابقہ کردار کو بھی جانچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بحث دراصل ایک بنیادی سوال کے گرد گھومتی ہے: کیا ایف ڈی اے کو سیاسی ترجیحات کے مطابق تیزی سے کام کرنے والا ادارہ ہونا چاہیے یا ایسا سائنسی ادارہ جس کے فیصلے زیادہ سے زیادہ سیاسی اثرات سے آزاد ہوں؟ ممکنہ طور پر ڈاکٹر اوورٹن کی سینیٹ میں سماعت کے دوران یہی سوال سب سے زیادہ نمایاں ہوگا۔
اگر سینیٹ ان کی نامزدگی کی منظوری دے دیتی ہے تو ڈاکٹر اوورٹن کو ایک مشکل توازن قائم کرنا ہوگا۔ انہیں ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ کے صحت ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہوگا، جبکہ دوسری طرف ایف ڈی اے کی سائنسی ساکھ، عوامی اعتماد اور ریگولیٹری معیار کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
بالآخر ڈاکٹر ہائیڈی اوورٹن کی نامزدگی صرف ایک نئی سربراہ کے انتخاب کا معاملہ نہیں۔ یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ صحت، سائنس اور سیاست کے درمیان توازن کس طرح قائم کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں سینیٹ کی کارروائی اور ڈاکٹر اوورٹن کے جوابات یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ ایف ڈی اے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے یا واشنگٹن کی سیاسی کشمکش کا ایک اور مرکز بننے جا رہا ہے۔
.jpg)
Comments