ترکی نے نیتن یاہو پر 'نسل کشی' کا الزام عائد کیا، اسرائیلی وزیراعظم کا ردعمل
ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ایک بار پھر شدید کشیدگی کی زد میں ہیں۔ برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی اختلافات، خاص طور پر فلسطین اور غزہ کے مسئلے پر، اب ایسی سطح تک پہنچ چکے ہیں جہاں سفارتی زبان بھی اکثر تلخ اور جارحانہ محسوس ہوتی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید نے اس تنازعے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
اردوان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت اور بنیادی انسانی ضروریات تک رسائی میں رکاوٹ انتہائی سنگین انسانی مسئلہ ہے۔ ترکی نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ بچوں، خواتین اور دیگر شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، تباہی اور انسانی بحران کو محض سکیورٹی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
ترکی کا یہ موقف صرف بیانات تک محدود نہیں رہا۔ انقرہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بھی سخت اقدامات کیے اور بین الاقوامی اداروں میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کیں۔ ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت ترکی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ نیتن یاہو اور اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں حماس کے خلاف ہیں اور ان کا بنیادی مقصد اسرائیلی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسرائیل ترکی پر یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ وہ حماس کے حوالے سے نرم رویہ رکھتا ہے، جبکہ ترکی حماس اور فلسطینی عوام کے معاملے میں اپنے موقف کو مختلف انداز میں پیش کرتا ہے۔
یہاں سے دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ مزید شدت اختیار کر جاتی ہے۔ ایک طرف اردوان اسرائیلی حکومت کو غزہ کی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، تو دوسری طرف اسرائیلی قیادت ترکی کے اندرونی اور علاقائی سیاسی کردار پر سوال اٹھاتی ہے۔ یوں معاملہ صرف اسرائیل اور فلسطین تک محدود نہیں رہتا بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خارجہ پالیسی اور سیاسی ترجیحات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
ترکی اور اسرائیل کے تعلقات کی تاریخ بھی خاصی پیچیدہ ہے۔ ایک وقت تھا جب دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں اہم اقتصادی، دفاعی اور سفارتی شراکت دار سمجھے جاتے تھے۔ دونوں کے درمیان تجارت اور دفاعی تعاون نے تعلقات کو خاص اہمیت دی تھی، لیکن 2010 میں غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے، خصوصاً ماوی مرمرا واقعے، کے بعد تعلقات میں شدید بحران پیدا ہوا۔ اگرچہ بعد کے برسوں میں دونوں ممالک نے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی، مگر فلسطین کا مسئلہ مسلسل ایک بنیادی رکاوٹ بنا رہا۔
حالیہ بحران نے اس پرانے اختلاف کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات، تجارتی اقدامات اور بین الاقوامی فورمز پر مختلف مؤقف نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس صورتحال کا اثر صرف انقرہ اور تل ابیب تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر پڑتا ہے۔
ترکی خود کو فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے ایک نمایاں آواز کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو اپنی بنیادی ترجیح قرار دیتا ہے۔ یہی دو مختلف بیانیے اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان یہ کشیدگی مستقبل میں مزید بڑھے گی یا کسی مرحلے پر سفارتی رابطوں کے ذریعے اسے کم کیا جا سکے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود وسیع تر سیاسی بحران کے درمیان ترکی اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دوری علاقائی سفارت کاری کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
آخرکار اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا انسانی پہلو غزہ کے عام شہری ہیں۔ سیاسی بیانات، سفارتی محاذ آرائی اور علاقائی طاقت کی کشمکش اپنی جگہ، لیکن جنگ کے نتیجے میں متاثر ہونے والے عام لوگوں کے لیے امن، خوراک، علاج اور تحفظ سب سے زیادہ اہم ہیں۔ جب تک خطے کی طاقتیں سیاسی اختلافات سے آگے بڑھ کر انسانی جانوں کے تحفظ اور پائیدار سیاسی حل پر توجہ نہیں دیں گی، مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن کا خواب بدستور مشکل نظر آئے گا۔
.jpg)
Comments