امریکی خارجہ پالیسی کا نیا موڑ: ٹرمپ کی کم جونگ اُن سے دوبارہ بات چیت کی خواہش



 عالمی سیاست میں کچھ ملاقاتیں صرف ملاقاتیں نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر پوری دنیا کے لیے بڑے سوالات چھپائے ہوتی ہیں۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ دوبارہ مذاکرات بھی کچھ ایسی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ براہِ راست بات چیت کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پیانگ یانگ کا رویہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محتاط اور سخت دکھائی دیتا ہے۔

‎ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی کہانی عالمی سفارت کاری میں غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے۔ چند سال پہلے دونوں رہنما ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے تھے۔ کبھی میزائلوں اور جنگ کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، تو کبھی ایک دوسرے کے لیے طنزیہ القابات استعمال کیے جاتے تھے۔ پھر اچانک حالات نے ایسا رخ بدلا کہ دونوں ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آئے۔

‎سنگاپور میں ہونے والی تاریخی ملاقات نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے بعد ہنوئی میں مذاکرات ہوئے اور پھر دونوں کوریاؤں کی سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے، یعنی ڈی ایم زیڈ، میں بھی ٹرمپ اور کم جونگ اُن نے ملاقات کی۔ اس دوران ٹرمپ نے کم کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو خاص اہمیت دی اور بارہا کہا کہ ان کے درمیان ایک منفرد سمجھ بوجھ پیدا ہو چکی ہے۔

‎لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ذاتی تعلقات سفارتی اختلافات کو ختم نہیں کر سکے۔

‎ہنوئی کا اجلاس اس کی سب سے واضح مثال تھا۔ امریکہ چاہتا تھا کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی جانب بڑے اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، جبکہ پیانگ یانگ اقتصادی پابندیوں میں خاطر خواہ نرمی چاہتا تھا۔ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہ ہوئے اور مذاکرات بغیر کسی بڑے معاہدے کے ختم ہو گئے۔

‎اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فاصلے ایک بار پھر بڑھنے لگے۔

‎اب صورت حال پہلے جیسی نہیں رہی۔ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ بات چیت کی خواہش ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب شمالی کوریا اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو پہلے سے زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔ پیانگ یانگ کے نزدیک یہ صلاحیتیں صرف ہتھیار نہیں بلکہ حکومت کے بقا کے لیے ایک بنیادی ضمانت ہیں۔

‎اسی لیے شمالی کوریا کا موجودہ رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محض ایک خوبصورت تصویر یا سربراہی ملاقات کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار نہیں۔ پیانگ یانگ چاہتا ہے کہ اگر امریکہ واقعی تعلقات میں تبدیلی چاہتا ہے تو اسے اپنی پالیسی میں بھی عملی تبدیلی دکھانا ہوگی۔

‎یہاں ایک اور اہم عنصر روس ہے۔

‎روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد ماسکو اور پیانگ یانگ کے تعلقات میں نمایاں قربت پیدا ہوئی ہے۔ شمالی کوریا کو روس میں ایک ایسا شراکت دار ملا ہے جو اسے سفارتی اور اقتصادی دباؤ کے باوجود عالمی سطح پر کچھ سہارا فراہم کر سکتا ہے۔ اس صورتحال نے پیانگ یانگ کے لیے واشنگٹن سے فوری سمجھوتے کی ضرورت کو پہلے کے مقابلے میں کم کر دیا ہے۔

‎یہی وجہ ہے کہ آج ٹرمپ کے لیے کم جونگ اُن کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

‎تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ سفارت کاری کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ اور کم کے درمیان پہلے بھی غیر متوقع انداز میں رابطہ قائم ہوا تھا، اس لیے مستقبل میں دوبارہ ملاقات کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر ایسی ملاقات ہوتی ہے تو اس بار دونوں فریقوں کے سامنے توقعات بھی زیادہ اور اختلافات بھی زیادہ واضح ہوں گے۔

‎امریکہ کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں کے مسئلے پر کوئی قابلِ عمل راستہ تلاش کرے۔ دوسری طرف پیانگ یانگ اس بات پر زور دے گا کہ اس کی سلامتی اور خودمختاری کو نظر انداز کرکے کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔

‎یوں ٹرمپ کی کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کی خواہش ایک نئے سفارتی باب کا آغاز تو کر سکتی ہے، مگر یہ باب آسانی سے نہیں لکھا جائے گا۔ ماضی کی ملاقاتوں نے ثابت کیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی رابطہ ممکن ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ رابطہ کسی ٹھوس اور دیرپا معاہدے میں تبدیل ہو۔

‎دنیا اب اسی سوال کا جواب تلاش کر رہی ہے: کیا ٹرمپ اور کم ایک بار پھر ایک ہی میز پر بیٹھیں گے، اور اگر بیٹھے تو کیا اس بار بات صرف تصویروں اور بیانات تک محدود رہے گی، یا واقعی کوئی ایسا راستہ نکلے گا جو جزیرہ نما کوریا کو ایک نئے اور نسبتاً پُرامن دور کی طرف لے جا سکے؟ وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا