پمز ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا سیکرٹری صحت کو ہٹانے کا سخت فیصلہ



 اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک حادثے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا، جہاں نرسری میں آتشزدگی کے باعث چودہ سے زائد معصوم نوزائیدہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ اس دلخراش سانحے پر وزیراعظم شہباز شریف نے فوری اور سخت ایکشن لیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔

‎سانحہ کیسے پیش آیا

‎(cite index="14-1">یہ آتشزدگی بدھ کی صبح تقریباً سات بجے پمز ہسپتال کی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سنٹر کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں لگی، جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر چودہ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، تاہم بعد ازاں اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد پندرہ تک پہنچ گئی۔</cite> ریسکیو ذرائع کے مطابق (cite index="12-1">آگ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے باعث لگی، جسے بعد میں بجھا دیا گیا۔</cite>

‎اس افسوسناک واقعے نے ہسپتال کی حفاظتی تیاریوں پر شدید سوالات کھڑے کر دیے۔ (cite index="13-1">نرسری کے قریب واقع نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے یونٹ کے دروازے کے مبینہ طور پر بند ہونے اور امدادی کارکنوں کو درپیش مشکلات سے متعلق الزامات نے ہسپتال انتظامیہ پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔</cite>

‎وزیراعظم کا فوری ردعمل

‎خبر ملتے ہی وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں وزارتِ صحت اور اسلام آباد انتظامیہ کے حکام نے شرکت کی۔ (cite index="10-1">اس اجلاس کے دوران وزیراعظم نے متعلقہ حکام کی کارکردگی پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر کے ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔</cite> ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس واقعے کو ناقابلِ معافی غفلت قرار دیا اور واضح کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

‎معروف نشریاتی ادارے فوکس نیوز کے مطابق وزیراعظم نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا (cite index="9-1">"بچوں سے متعلق کوئی بھی سانحہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔"</cite>

‎اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

‎وزیراعظم نے محض سیکرٹری صحت کو ہٹانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سانحے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی۔ (cite index="10-1">اس کمیٹی کی سربراہی سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کریں گے، جبکہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر نبیل اعوان بھی اس کے رکن ہوں گے۔</cite> کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آگ لگنے کی حقیقی وجوہات، ہسپتال کی انتظامی و حفاظتی تیاریوں، اور نوزائیدہ بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کرے۔

‎اس کے علاوہ (cite index="10-1">وزیراعظم نے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کو فوری طور پر اسلام آباد پہنچ کر پمز ہسپتال کا دورہ کرنے اور صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔</cite>

‎سیاسی و حکومتی رہنماؤں کا ردعمل

‎اس سانحے پر ملک بھر کے سیاسی رہنماؤں نے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔ (cite index="15-1">صدر آصف علی زرداری نے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے ہسپتالوں کو آتشزدگی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اپنانے کی تلقین کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان ہلاکتوں کو ایک ناقابلِ برداشت سانحہ قرار دیتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔</cite>

‎(cite index="18-1">پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اور سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں کے لیے دعائے مغفرت کی۔</cite>

‎عوامی غم و غصہ اور سوالات

‎اس سانحے نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ان خاندانوں میں جنہوں نے اپنے نومولود بچوں کو کھو دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے سرکاری ہسپتالوں کی حفاظتی تیاریوں اور نگرانی کے نظام پر شدید تنقید کی ہے۔ لوگوں کا سوال ہے کہ ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے ایک میں ایسی بنیادی حفاظتی کوتاہی کیسے ممکن ہوئی، اور کیا اس سے قبل بھی ایسی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

‎(cite index="13-1">حکومت نے تاحال آگ لگنے کی حتمی وجہ یا حفاظتی نظام میں کسی خامی کے حوالے سے کوئی باضابطہ نتائج جاری نہیں کیے، جبکہ حکام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ واضح کریں کہ آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی اور اتنی بڑی تعداد میں نوزائیدہ بچوں کو بروقت کیوں نہ نکالا جا سکا۔</cite>

‎آگے کیا؟

‎اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کی حفاظتی صورتحال اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ سانحہ محض تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا انتظامی غفلت اور حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی اس کا اصل سبب بنی۔ اس دوران عوام اور متاثرہ خاندان انصاف اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کے منتظر ہیں، تاکہ مستقبل میں کسی اور ہسپتال میں ایسا دلخراش واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا