آبنائے ہرمز: خاموش لہروں کے نیچے امریکہ اور ایران کی کشیدگی



 آبنائے ہرمز کی نیلی لہریں بظاہر پرسکون دکھائی دیتی ہیں، مگر ان پرسکون لہروں کے نیچے ایک ایسی کشیدگی موجود ہے جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی سیاست، تجارت اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی یہ اہم سمندری گزرگاہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش کا ایک حساس مرکز بنی ہوئی ہے۔

‎یہاں سے گزرنے والے ہر بڑے تجارتی جہاز کے ساتھ صرف تیل یا سامان ہی سفر نہیں کرتا، بلکہ عالمی معیشت کی ایک بڑی امید بھی جڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو دنیا کی نظریں فوراً آبنائے ہرمز کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ کسی بحری جہاز کی گرفتاری، کسی ڈرون کا گرایا جانا یا سمندر میں دونوں ممالک کی افواج کا آمنے سامنے آ جانا معمولی واقعہ نہیں رہتا، بلکہ اس کے سفارتی نتائج بہت دور تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

‎امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی اعتماد کے شدید بحران کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے سیاسی اختلافات، جوہری پروگرام، معاشی پابندیوں اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں مذاکرات کی میز پر ہونے والی معمولی پیش رفت بھی انتہائی نازک ہوتی ہے۔ ایک طرف سفارت کار بات چیت کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف سمندر میں پیدا ہونے والا کوئی نیا واقعہ اس پوری کوشش کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

‎ایران کے لیے آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی اثاثہ بھی ہے۔ تہران جانتا ہے کہ دنیا کی توانائی کی منڈی کے لیے اس گزرگاہ کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اسی لیے ایران اکثر اپنی بحری صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ واضح کرتا رہا ہے کہ خلیج میں اس کے مفادات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ تہران کے نزدیک یہ طاقت صرف فوجی برتری دکھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ امریکہ پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتی ہے۔

‎دوسری جانب امریکہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کھلا دیکھنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن کے لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف اس کے علاقائی اتحادیوں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکی بحری موجودگی خلیج میں مسلسل ایک اہم عنصر رہی ہے۔

‎مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے اقدامات کو دفاع کے بجائے جارحیت کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ ایران امریکی بحری موجودگی کو اپنے گرد دباؤ بڑھانے کی کوشش سمجھ سکتا ہے، جبکہ امریکہ ایران کی بحری سرگرمیوں کو جہاز رانی کے لیے خطرہ تصور کر سکتا ہے۔ یوں ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس میں ہر فریق اپنے اگلے قدم کو دفاعی قرار دیتا ہے، مگر دوسرا اسے اشتعال انگیزی سمجھتا ہے۔

‎اس کشیدگی کا سب سے بڑا نقصان صرف حکومتوں کو نہیں بلکہ عام انسانوں کو بھی پہنچتا ہے۔ تیل بردار بحری جہازوں پر کام کرنے والے ملاح، تجارتی کمپنیوں کے ملازمین اور وہ خاندان جو عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، بالآخر اس کشمکش کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ اگر سمندری راستے غیر محفوظ ہوں تو جہاز رانی کے اخراجات بڑھتے ہیں، انشورنس مہنگی ہوتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بھی غیر یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔

‎حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ صرف فوجی طاقت سے حل نہیں ہو سکتا۔ اگر امریکہ اور ایران واقعی خطے میں دیرپا استحکام چاہتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھنے کے لیے عملی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ جوہری پروگرام اور پابندیوں جیسے بڑے مسائل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن خلیج میں بحری تصادم روکنے کے لیے براہِ راست رابطے کا ایک مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔

‎ممکن ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا علاقائی سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے کسی بھی بحری واقعے کو فوری طور پر سفارتی سطح پر حل کیا جا سکے۔ اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں کو سمجھنے اور غلط فہمیوں کو فوری طور پر دور کرنے کا طریقہ پیدا کر لیں تو مذاکرات کے لیے ماحول بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

‎آخرکار آبنائے ہرمز ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عالمی سیاست میں سمندر کبھی صرف پانی نہیں ہوتا۔ اس کے راستوں میں معیشت، طاقت، خوف، سیاست اور سفارت کاری سب ایک ساتھ بہتے ہیں۔ جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اعتماد بحال نہیں ہوتا، ان لہروں میں چھپی بے چینی ختم ہونا مشکل ہے۔ لیکن اگر طاقت کے بجائے بات چیت کو راستہ دیا جائے تو شاید یہی پرسکون لہریں ایک دن کشیدگی کی نہیں، امن کی علامت بن سکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا