سیاسی ہوا کا رخ اور وائٹ ہاؤس کے سامنے ابھرتے نئے چیلنجز
امریکی سیاست میں حالات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں، اس کا اندازہ آج کے سیاسی منظرنامے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے کسی بھی صدر کے لیے سب سے بڑا امتحان صرف مخالف سیاسی جماعت نہیں ہوتی، بلکہ عوام کا بدلتا ہوا مزاج بھی ہوتا ہے۔ حالیہ رائٹرز/ایپسوس سروے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اسی بدلتی ہوئی سیاسی فضا کی ایک واضح تصویر پیش کی ہے۔ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت گر کر 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ان کے موجودہ دورِ صدارت کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے، جبکہ 64 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔
یہ اعداد و شمار محض سیاسی بحث کا حصہ نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ بھی سمجھے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی مقبولیت کو اس مقام تک پہنچا دیا؟
ایران جنگ اور خارجہ پالیسی کا دباؤ
ٹرمپ کی سیاست کا ایک اہم وعدہ یہ تھا کہ امریکہ کو غیر ضروری بیرونی جنگوں سے دور رکھا جائے گا۔ ان کے حامیوں کو امید تھی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں امریکہ کی براہِ راست شمولیت کم کریں گے۔ لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور خطے میں امریکی کردار نے اس وعدے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رائٹرز/ایپسوس سروے میں تقریباً 80 فیصد امریکیوں نے رائے دی کہ ایران سے متعلق موجودہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہونے کے بجائے طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تشویش صرف ڈیموکریٹس تک محدود نہیں۔ تقریباً 71 فیصد ریپبلکن بھی سمجھتے ہیں کہ بحران جلد ختم نہیں ہوگا۔
یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ جنگ کے بارے میں عوامی خدشات براہِ راست ان کی اس سیاسی تصویر کو متاثر کر سکتے ہیں جس میں وہ خود کو امن اور طاقت کے امتزاج کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔
تیل کی قیمتیں اور عام امریکی کی پریشانی
جنگ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا اثر صرف سفارتی ایوانوں تک محدود نہیں رہتا۔ جب عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا اثر چند ہی دنوں میں عام شہری کی جیب تک پہنچ جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ امریکی خاندانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ ہے، کیونکہ گاڑی چلانے، سفر کرنے اور روزمرہ اخراجات سے لے کر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک اس کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔
ٹرمپ اگر یہ دلیل دیتے ہیں کہ قومی سلامتی اور ایران کے جوہری خطرے کے مقابلے میں زیادہ پٹرول قیمت ایک قابلِ قبول قیمت ہے، تو سیاسی طور پر اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام امریکی بھی اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے؟ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں وائٹ ہاؤس اور عوامی سوچ کے درمیان فاصلہ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
مڈٹرم انتخابات کا امتحان
یہ تمام صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ مڈٹرم انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا ریپبلکن پارٹی کے لیے انتہائی اہم ہوگا، لیکن کم ہوتی صدارتی مقبولیت پارٹی کے امیدواروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
خاص طور پر معیشت ایک اہم سیاسی میدان بن چکی ہے۔ اگر مہنگائی، پٹرول کی قیمتیں اور جنگ کے معاشی اثرات عوام کی روزمرہ زندگی پر دباؤ بڑھاتے رہے تو اپوزیشن کو حکومت پر حملہ کرنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی موضوع مل سکتا ہے۔
تاہم سیاست میں کوئی سروے آخری فیصلہ نہیں ہوتا۔ عوامی رائے بدل سکتی ہے، حالات بدل سکتے ہیں اور ایک کامیاب معاشی یا سفارتی پیش رفت سیاسی منظرنامے کو دوبارہ تبدیل کر سکتی ہے۔
لیکن اس وقت رائٹرز/ایپسوس کے اعداد و شمار وائٹ ہاؤس کے لیے ایک واضح پیغام ضرور رکھتے ہیں: امریکی عوام جنگ، معیشت اور پٹرول کی قیمتوں کو الگ الگ مسائل نہیں سمجھ رہے۔
اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے بحران کو قابو میں رکھنے، توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور امریکی معیشت پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو سیاسی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ مسائل مزید گہرے ہوئے تو آنے والے مڈٹرم انتخابات ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک سخت سیاسی امتحان بن سکتے ہیں۔
آخرکار وائٹ ہاؤس کی طاقت صرف صدارتی اختیارات میں نہیں ہوتی؛ اصل طاقت عوام کے اعتماد سے آتی ہے۔ اور موجودہ سروے یہ بتا رہا ہے کہ اس اعتماد کو برقرار رکھنا آنے والے دنوں میں ٹرمپ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
.jpg)
Comments