امریکی لیبر مارکیٹ کا نیا رخ: بے روزگاری کے دعووں میں کمی اور معاشی استحکام کی جھلک ‎



 امریکی معیشت اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ہر معاشی اعداد و شمار کو غیر معمولی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مہنگائی، بلند شرح سود، عالمی بے یقینی اور معاشی سست روی کے خدشات کے درمیان روزگار کی مارکیٹ سے آنے والی ایک حالیہ خبر نے کچھ اطمینان ضرور پیدا کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ میں پہلی بار بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد کم ہو کر 2 لاکھ 6 ہزار رہ گئی۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا عدد ہے، لیکن معاشی ماہرین کے لیے اس کے اندر کئی اہم اشارے چھپے ہوئے ہیں۔

‎سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی کمپنیاں اس وقت بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ اگرچہ نئی بھرتیوں کی رفتار بعض شعبوں میں پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، لیکن موجودہ ملازمین کو برقرار رکھنے کا رجحان کافی مضبوط ہے۔ یہی صورتحال امریکی لیبر مارکیٹ کو غیر معمولی لچک فراہم کر رہی ہے۔

‎کمپنیوں کی پالیسی کیوں بدلی؟

‎کرونا وبا کے بعد امریکی کاروباری اداروں نے ملازمین کی شدید کمی کا سامنا کیا تھا۔ اس وقت کمپنیوں کے لیے قابل اور تجربہ کار کارکن تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔ بہت سے اداروں نے بھاری تنخواہوں اور مراعات کے ذریعے ملازمین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اب حالات بدل چکے ہیں، لیکن اس تجربے نے کمپنیوں کو ایک اہم سبق دیا ہے۔

‎آجر یہ سمجھ چکے ہیں کہ اگر موجودہ عملہ بڑی تعداد میں فارغ کر دیا گیا تو حالات بہتر ہونے پر انہی ماہر افراد کو دوبارہ بھرتی کرنا مشکل اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بہت سی کمپنیاں اخراجات کم کرنے کے لیے دوسرے راستے اختیار کر رہی ہیں، مگر ملازمین کی چھانٹی کو آخری قدم کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ معاشی اصطلاح میں اس رجحان کو "Labor Hoarding" کہا جاتا ہے، یعنی مشکل حالات میں بھی کارکنوں کو ممکن حد تک اپنے پاس برقرار رکھنا۔

‎شرح سود کے باوجود روزگار کی مضبوطی

‎یہ صورتحال اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، کئی عرصے سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ بلند شرح سود کاروباروں کے لیے قرض مہنگا کرتی ہے، سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتی ہے اور معاشی سرگرمیوں کی رفتار کم کر سکتی ہے۔

‎عام طور پر ایسی صورتحال میں روزگار کی مارکیٹ پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ امریکی لیبر مارکیٹ نے توقع سے زیادہ مضبوطی دکھائی ہے۔ بے روزگاری الاؤنس کے دعووں میں کمی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ کاروباری ادارے ابھی بڑے پیمانے پر ملازمین سے چھٹکارا حاصل کرنے پر مجبور نہیں ہوئے۔

‎عام امریکی شہری کے لیے اس کا مطلب بہت سادہ ہے: ملازمت کا تحفظ۔ ایسے وقت میں جب گھریلو اخراجات پہلے ہی بلند ہیں، مستقل آمدنی کا برقرار رہنا خاندانوں کے لیے بہت اہم ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ اعتماد ہو کہ اس کی ملازمت محفوظ ہے تو وہ اپنے اخراجات، گھر کے بجٹ اور مستقبل کی منصوبہ بندی زیادہ اطمینان سے کر سکتا ہے۔

‎ہر شعبہ یکساں مضبوط نہیں

‎تاہم یہ تصویر مکمل طور پر یکساں نہیں۔ ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بڑے پیمانے کی چھانٹیوں کا رجحان نسبتاً محدود ہوا ہے، لیکن نئی بھرتیوں میں وہ تیزی نہیں جو وبا کے بعد دیکھی گئی تھی۔

‎دوسری جانب صحت اور مہمان نوازی جیسے شعبوں میں کارکنوں کی طلب اب بھی موجود ہے۔ ان شعبوں میں وبا کے بعد پیدا ہونے والی افرادی قوت کی کمی نے روزگار کے مواقع کو سہارا دیا ہے۔

‎تعمیرات اور صنعتکاری میں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ بلند شرح سود اور قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت نے نئی سرمایہ کاری اور بھرتیوں پر اثر ڈالا ہے، لیکن اس کے باوجود بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا منظرنامہ سامنے نہیں آیا۔

‎کیا یہ "Soft Landing" کی علامت ہے؟

‎اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکی معیشت واقعی ایک Soft Landing کی طرف بڑھ رہی ہے؟

‎سافٹ لینڈنگ سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں مرکزی بینک مہنگائی کو قابو میں لانے میں کامیاب ہو، لیکن اس عمل میں معیشت شدید کساد بازاری کا شکار نہ ہو۔ موجودہ لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار اس امکان کو کچھ تقویت ضرور دیتے ہیں۔

‎لیکن ابھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ اگر روزگار کی مارکیٹ ضرورت سے زیادہ مضبوط رہتی ہے تو اجرتوں اور طلب پر دباؤ کے باعث مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کاروباری اعتماد اچانک کم ہوا اور بڑے پیمانے پر برطرفیاں شروع ہوئیں تو معاشی سست روی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

‎اسی لیے آنے والے مہینوں میں بے روزگاری کے دعووں، نئی بھرتیوں، اجرتوں اور مجموعی معاشی سرگرمی کے اعداد و شمار انتہائی اہم ہوں گے۔

‎فی الحال 2 لاکھ 6 ہزار ابتدائی بے روزگاری دعوے امریکی معیشت کے لیے ایک نسبتاً حوصلہ افزا اشارہ ہیں۔ یہ اعداد اس بات کی تصویر پیش کرتے ہیں کہ بلند شرح سود اور عالمی معاشی خدشات کے باوجود امریکی لیبر مارکیٹ نے ابھی تک اپنی بنیاد نہیں کھوئی۔

‎دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں روزگار کا استحکام صرف امریکی شہریوں کے لیے اہم نہیں۔ امریکی صارفین کا مضبوط رہنا عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وال اسٹریٹ سے لے کر دنیا کے دوسرے مالیاتی مراکز تک، امریکی روزگار کے ہر نئے اعداد و شمار کو گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

‎فی الحال منظرنامہ محتاط امید کا ہے۔ امریکی معیشت مشکلات سے آزاد نہیں، مگر کم از کم روزگار کی مارکیٹ یہ پیغام ضرور دے رہی ہے کہ معاشی دباؤ کے باوجود امریکی کارکن اور کاروباری ادارے ابھی بھی کافی حد تک مضبوط کھڑے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا