تہران اور مسقط کا نیا روٹ، واشنگٹن کی خاموشی اور ہرمز کا بدلتا منظرنامہ
دنیا کے نقشے پر کچھ سمندری راستے ایسے ہیں جن کی اہمیت ان کے حجم سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی انہی راستوں میں شامل ہے۔ بظاہر یہ ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے، لیکن عالمی توانائی، تجارت اور معیشت کے لیے اس کی اہمیت کسی شاہراہ سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران، عمان یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں میں بے چینی محسوس کی جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں تہران اور مسقط کے درمیان ایک نئے بحری انتظام کی بات سامنے آئی ہے جس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال رکھنے کے لیے ایک عارضی سمندری راہداری قائم کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایران نے غیر علاقائی عسکری قوتوں، بالخصوص امریکی جنگی جہازوں کی موجودگی پر اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں معاملہ محض تجارتی جہازرانی سے نکل کر ایک بڑے جغرافیائی اور عسکری تنازعے کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
منصوبے کے پیچھے اصل سوچ کیا ہے؟
تہران اور مسقط کے درمیان زیرِ غور انتظام کا بنیادی مقصد بظاہر تجارتی بحری ٹریفک کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ تیل، گیس اور دیگر سامان لے جانے والے جہازوں کے لیے مخصوص طریقہ کار، نگرانی اور معائنے کے ذریعے آمدورفت بحال رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ایران چاہتا ہے کہ آبنائے کے ساحلی ممالک، یعنی ایران اور عمان، سیکیورٹی اور نیویگیشن کے معاملات میں زیادہ نمایاں کردار ادا کریں۔ تہران کی نظر میں خطے کے معاملات میں بیرونی عسکری طاقتوں کی موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھاتی ہے۔
لیکن واشنگٹن کے لیے صورتحال اتنی سادہ نہیں۔ امریکہ طویل عرصے سے خلیج میں اپنی بحری موجودگی کو علاقائی سلامتی اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کا اہم ذریعہ سمجھتا آیا ہے۔ اس لیے اگر کسی انتظام کے تحت امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ واشنگٹن کے لیے ایک انتہائی حساس معاملہ بن سکتا ہے۔
واشنگٹن خاموش کیوں ہے؟
اس پورے معاملے کا شاید سب سے دلچسپ پہلو امریکی حکومت کی محتاط خاموشی ہے۔ عام حالات میں واشنگٹن ایران کی جانب سے ایسی کسی تجویز پر فوری اور سخت ردعمل دے سکتا تھا، لیکن فی الحال محتاط انداز اختیار کیا جا رہا ہے۔
اس خاموشی کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔
ممکن ہے امریکہ پہلے یہ جاننا چاہتا ہو کہ عمان اس تجویز کو کس حد تک قبول کرتا ہے۔ مسقط ایک غیر معمولی سفارتی کردار رکھتا ہے اور ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ واشنگٹن کسی وسیع تر سفارتی حکمت عملی کے تحت فوری ردعمل سے گریز کر رہا ہو۔ ایسے حساس ماحول میں ایک سخت بیان بھی مذاکرات کے دروازے بند کر سکتا ہے۔
تاہم خاموشی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکہ ایران کے مطالبات تسلیم کر چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت اور عالمی جہازرانی کے اصول اس معاملے کو کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
عمان سب سے مشکل پوزیشن میں
اس صورتحال میں سب سے زیادہ دباؤ شاید عمان پر ہے۔ مسقط ایک طرف ایران کا ہمسایہ ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اس کے دیرینہ سیکیورٹی تعلقات ہیں۔ عمان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے توازن، ثالثی اور خاموش سفارت کاری کے لیے جانی جاتی ہے۔
اگر عمان ایران کے ایسے انتظام کی حمایت کرتا ہے جس میں امریکی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہو، تو واشنگٹن کے ساتھ اس کے تعلقات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر مسقط ایرانی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے تو ایران کے ساتھ اس کی سفارتی پوزیشن متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
یوں عمان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا۔
دنیا کی نظریں تیل کی منڈی پر
آبنائے ہرمز کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی اہمیت میں ہے۔ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرمز میں پیدا ہونے والی معمولی کشیدگی بھی تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس اور عالمی تجارتی اخراجات کو متاثر کر سکتی ہے۔
اگر تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد راستہ قائم ہو جاتا ہے تو عالمی مارکیٹ کو کچھ اطمینان مل سکتا ہے۔ لیکن اگر ایران اور امریکہ کے درمیان بحری موجودگی کا تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو صورتحال اس کے برعکس بھی جا سکتی ہے۔
خاص طور پر کسی بھی غلط فہمی، بحری تصادم یا اچانک فوجی اقدام کے نتیجے میں خطرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے
تہران اور مسقط کے درمیان زیرِ غور بحری انتظام کو صرف ایک شپنگ روٹ کے طور پر دیکھنا شاید درست نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے علاقائی خودمختاری، عالمی جہازرانی، امریکی عسکری موجودگی اور ایران کی سیکیورٹی پالیسی جیسے کئی بڑے سوالات موجود ہیں۔
اب اصل امتحان عمان کی سفارت کاری، ایران کی شرائط اور واشنگٹن کے اگلے قدم کا ہے۔ اگر تینوں فریق کسی درمیانی راستے پر پہنچ جاتے ہیں تو ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کی ایک نئی مثال قائم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر عسکری مفادات سفارتی کوششوں پر غالب آ گئے تو یہی تنگ سمندری راستہ ایک بار پھر عالمی بحران کا مرکز بن سکتا ہے۔
فی الحال واشنگٹن کی خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے، مگر اس خاموشی کا مطلب کیا ہے، اس کا جواب شاید آنے والے دنوں میں ملے گا۔ ایک بات البتہ واضح ہے: آبنائے ہرمز کا مستقبل صرف خلیج کے ممالک کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے ایک اہم سوال بن چکا ہے۔
.jpg)
Comments