امریکی پوسٹل سروس اور میل ووٹنگ کی جنگ: عدالتی رکاوٹ کے باوجود نئے قواعد تیار
امریکہ میں نومبر کے کانگریسی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا مسئلہ ملک کی سیاست میں ایک نیا اور نہایت حساس محاذ بن چکا ہے۔ امریکی پوسٹل سروس (USPS) نے حال ہی میں ایک حتمی قاعدہ جاری کیا ہے جس کا مقصد میل اِن ووٹنگ کے عمل کو مزید سخت بنانا ہے، حالانکہ ایک وفاقی عدالت پہلے ہی اس تبدیلی کو نافذ ہونے سے روک چکی ہے۔ جمعے کی رات کو شائع ہونے والے اس 95 صفحات پر مشتمل قاعدے کا مقصد یہ تھا کہ اگر عدالت اپنی حکم امتناعی واپس لے لے تو یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو سکے اور آئندہ انتخابات کے لیے بروقت تیار رہے۔ اس قاعدے کے تحت پوسٹل سروس ان ریاستوں میں ووٹ نہیں پہنچائے گی جو نئے معیارات پر عمل نہیں کریں گی، اور امریکی پوسٹل سروس کے قاعدے کے مطابق ریاستوں کو ان ووٹرز کی فہرستیں فراہم کرنا ہوں گی جنہیں ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجے گئے ہوں۔
معاملے کی جڑ کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
اس پورے تنازعے کی بنیاد صدر ٹرمپ کے مارچ 2026 میں جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں پنہاں ہے جسے "شہریت کی تصدیق اور وفاقی انتخابات میں دیانتداری کو یقینی بنانا" کا عنوان دیا گیا۔ اس آرڈر کے تحت وفاقی ادارے امریکی شہریوں کی فہرستیں تیار کر کے ہر انتخاب سے پہلے ریاستوں کو بھیجنے کے پابند ہیں، جبکہ پوسٹل سروس کو "منظور شدہ" میل ووٹرز کی فہرست بنانے اور جو ووٹر اس فہرست میں شامل نہ ہوں ان کے بیلٹ ڈیلیور کرنے سے انکار کا حکم دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ آرڈر مکمل طور پر نافذ ہو جائے تو لاکھوں اہل شہریوں، خاص طور پر فوجی اہلکاروں، بیرونِ ملک مقیم امریکیوں، بزرگ افراد، حال ہی میں شہریت حاصل کرنے والوں اور معذور افراد کے ووٹ کے حق پر براہِ راست ضرب پڑ سکتی ہے، کیونکہ یہ طبقات میل ووٹنگ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
عدالتوں کا کیا کہنا ہے؟
معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب متعدد وفاقی عدالتوں نے اس آرڈر کے خلاف فیصلے دیے۔ بوسٹن کی وفاقی عدالت کی جج انڈیرا تلوانی نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا کہ کانگریس نے کبھی بھی پوسٹل سروس کو میل ووٹنگ کنٹرول کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت پوسٹل نظام کو یہ طے کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتی کہ کسے بیلٹ ملے گا، اور انہوں نے 23 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت 24 دائرہ اختیار والے علاقوں کے لیے حکم امتناعی جاری کیا، جن میں زیادہ تر ڈیموکریٹک اور سوئنگ ریاستیں شامل ہیں۔ اس سے قبل جون میں بھی اسی عدالت نے آرڈر کے کئی اہم حصوں کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
ایک تازہ ترین فیصلے میں عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ایگزیکٹو برانچ کو انتخابات کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اور یہ آرڈر ووٹرز اور حقوقِ رائے دہی کی تنظیموں کے لیے "ناقابلِ تلافی نقصان" کا باعث بن رہا ہے کیونکہ اس نے لاکھوں ووٹرز کے میل بیلٹس کے بارے میں شدید ابہام پیدا کر دیا ہے۔ دوسری جانب، ایک وفاقی اپیل عدالت نے جولائی میں پوسٹل سروس کو ملک کے کچھ حصوں میں رول میکنگ کا عمل جاری رکھنے کی اجازت بھی دے دی، جس سے قانونی صورتحال مزید الجھ گئی۔
USPS کا اصرار کیوں؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عدالت پہلے ہی رکاوٹ ڈال چکی ہے تو پوسٹل سروس نے قاعدہ جاری ہی کیوں کیا؟ اس کی وجہ وقت کا دباؤ ہے۔ نومبر کے انتخابات قریب ہیں اور اگر عدالتی رکاوٹ اپیل میں ختم ہو جاتی ہے تو ادارہ چاہتا ہے کہ قاعدہ فوری طور پر نافذ کرنے کے لیے پہلے سے تیار ہو۔ یہ قاعدہ 26 اگست کو باضابطہ طور پر شائع ہوگا، تاہم پوسٹل سروس نے واضح کیا ہے کہ جب تک عدالتی حکم قائم ہے، وہ اسے نافذ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔
عام ووٹرز پر اثرات
قانونی ماہرین اور حقوقِ رائے دہی کی تنظیموں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اگر یہ قاعدہ نافذ ہوا تو عام ووٹر کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ اس کا بیلٹ کبھی مقامی الیکشن دفتر تک پہنچا ہی نہیں۔ ماہرین کے مطابق، پوسٹل سروس کو یہ پابند نہیں کیا گیا کہ وہ ایسے ووٹرز کو مطلع کرے جن کا نام "منظور شدہ فہرست" میں شامل نہ ہو، جس کی وجہ سے بزرگ، معذور اور بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیے متبادل طریقے سے ووٹ دینا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
یہ قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ عدالتوں میں اپیلیں زیرِ سماعت ہیں اور نومبر کے انتخابات تک صورتحال واضح ہونے کا امکان کم ہے۔ ایک طرف انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات انتخابی دھوکہ دہی روکنے کے لیے ضروری ہیں، تو دوسری طرف حقوقِ رائے دہی کے کارکنان اسے آئین اور شہریوں کے بنیادی حق پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ جب تک اعلیٰ عدالتیں حتمی فیصلہ نہیں دیتیں، امریکی ووٹرز — خاص طور پر وہ جو ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے پر انحصار کرتے ہیں — ایک غیر یقینی صورتحال میں انتخابات کی تیاری کرنے پر مجبور رہیں گے۔
.jpg)
Comments