ایران کے سکیورٹی سربراہ کا بیرن ٹرمپ کے خلاف مبینہ سازش کی رپورٹ کی تردید
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے صدر ٹرمپ کے سب سے چھوٹے بیٹے بیرن ٹرمپ کے خلاف قتل کی مبینہ سازش سے متعلق رپورٹس کو مکمل طور پر جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی خفیہ ایجنسی سیکرٹ سروس نے چند دن قبل اس معاملے کی تحقیقات کی تصدیق کی تھی۔
معاملہ کیا ہے؟
(cite index="24-1">ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے لبنان کے المنار ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے سب سے چھوٹے بیٹے بیرن ٹرمپ کو قتل کرنے کی ممکنہ سازش سے متعلق رپورٹ سراسر جھوٹ ہے۔</cite> یہ انٹرویو جمعرات کے روز نشر کیا گیا۔
اس تردید سے قبل (cite index="24-1">امریکی سیکرٹ سروس نے منگل کے روز تصدیق کی تھی کہ وہ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک ایسی ویڈیو سے آگاہ ہے جس میں بیرن ٹرمپ کو قتل کرنے کی ممکنہ سازش پر گفتگو کی گئی تھی۔</cite> اگرچہ اس ویڈیو کی مکمل تفصیلات یا اس کے پیچھے کارفرما محرکات سرکاری طور پر واضح نہیں کیے گئے، تاہم امریکی حکام نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس پر نظر رکھنے کی تصدیق کی تھی۔
رضائی کون ہیں؟
محسن رضائی ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی قیادت کا حصہ ہیں اور ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ حالیہ برسوں میں ایران کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی سے متعلق اہم بیانات دینے کے حوالے سے نمایاں رہے ہیں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں۔ یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای رواں سال فروری میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد سے ایران کی اعلیٰ قیادت کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔
آبنائے ہرمز پر بھی گفتگو
اسی انٹرویو کے دوران رضائی نے ایک اور اہم موضوع پر بھی روشنی ڈالی — آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ۔ (cite index="27-1">انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کا مسئلہ پورے خطے میں جنگوں کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے، خاص طور پر لبنان اور غزہ میں، اور اگر امریکہ آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے تو اسے اس شرط کا پابند ہونا ہوگا۔</cite>
رضائی نے مزید بتایا کہ (cite index="23-1">ثالثوں نے ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اس کی شرائط طلب کی ہیں، اور تہران ان شرائط کی فہرست تیار کر رہا ہے جس میں خطے میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ شامل ہے۔</cite> انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ (cite index="23-1">ایران نے عمان کے ساتھ ایک راہداری قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا کچھ حصہ عمانی پانیوں میں اور کچھ ایرانی پانیوں میں ہوگا۔</cite> (cite index="28-1">انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر امریکہ ایران کی شرائط پوری کرتا ہے تو بحری جہاز ایک مخصوص مرکزی راستے سے گزر سکیں گے۔</cite>
کشیدگی کا وسیع تر پس منظر
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات ایک انتہائی نازک اور کشیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم، سخت معاشی پابندیوں کے تبادلے، اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ایسے حساس ماحول میں امریکی صدر کے خاندان کے کسی فرد کے خلاف مبینہ سازش کی خبر، چاہے اسے جھوٹ ہی کیوں نہ قرار دیا جائے، دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود عدم اعتماد میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
تجزیہ: تردید کے باوجود تشویش برقرار
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ رضائی کی جانب سے فوری اور واضح تردید سامنے آئی ہے، مگر امریکی سیکرٹ سروس کی جانب سے اس ویڈیو کے حوالے سے دی گئی تصدیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن اس معاملے کو ہلکا نہیں لے رہا۔ ماضی میں بھی ایرانی حکام کی جانب سے امریکی رہنماؤں یا ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانے سے متعلق بیانات یا رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، جنہیں تہران اکثر مکمل طور پر مسترد کرتا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں، چاہے حتمی طور پر درست ثابت ہوں یا نہ ہوں، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی اور کشیدگی کی ایک اور علامت ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی بامعنی سفارتی رابطہ موجود نہیں اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر مذاکرات بھی سست روی کا شکار ہیں۔
آگے کیا؟
فی الحال اس معاملے پر امریکی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم مبصرین کے مطابق یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکی حکام رضائی کی تردید کو قبول کریں گے یا اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری رکھیں گے۔ اسی دوران آبنائے ہرمز اور خطے میں جنگوں کے خاتمے سے متعلق ایرانی شرائط پر بھی بین الاقوامی برادری کی نظریں جمی رہیں گی، کیونکہ یہ مسئلہ عالمی توانائی کی ترسیل اور خطے کے استحکام کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتا ہے۔
.jpg)
Comments