ایران کے ہائپر سونک میزائل اتنے مہلک کیوں ہیں؟
ایران کے ہائپر سونک میزائل، خصوصاً فتاح سیریز، گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی دفاعی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ایران ان میزائلوں کو اپنی جدید دفاعی صلاحیتوں کی علامت قرار دیتا ہے، جبکہ مخالف ممالک اور دفاعی ماہرین اس ٹیکنالوجی کو ایک ایسے چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے مقابلے کے لیے موجودہ میزائل ڈیفنس نظاموں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
لیکن آخر ہائپر سونک میزائل میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اسے عام میزائلوں سے مختلف بناتی ہے؟ اس کا جواب صرف رفتار میں نہیں، بلکہ رفتار، پرواز کے انداز اور ممکنہ طور پر راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت کے مجموعے میں چھپا ہے۔
رفتار: دفاع کے لیے انتہائی کم وقت
ہائپر سونک میزائل کی بنیادی تعریف ہی اس کی رفتار سے شروع ہوتی ہے۔ عام طور پر Mach 5 یا اس سے زیادہ رفتار سے سفر کرنے والی اشیا کو ہائپر سونک کہا جاتا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ فتاح میزائل کی رفتار تقریباً 13 سے 15 ماخ تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ان دعوؤں کے تمام پہلو آزاد ذرائع سے یکساں طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
اتنی رفتار کا مطلب یہ ہے کہ کسی میزائل کے لانچ ہونے اور ہدف تک پہنچنے کے درمیان وقت بہت کم رہ جاتا ہے۔ دفاعی نظام کو میزائل کی شناخت، اس کی سمت کا اندازہ، فیصلہ سازی اور پھر انٹرسیپٹر لانچ کرنے کے لیے انتہائی محدود وقت مل سکتا ہے۔
یہی چند لمحے جدید جنگ میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
صرف رفتار نہیں، راستے کی غیر یقینی
روایتی بیلسٹک میزائل عموماً اپنی پرواز کے ایک بڑے حصے میں نسبتاً قابلِ پیش گوئی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ دفاعی نظام اسی پیش گوئی کی بنیاد پر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میزائل کہاں پہنچے گا۔
ہائپر سونک ہتھیاروں کا چیلنج یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ کچھ ہائپر سونک گلائیڈ وہیکلز اور متعلقہ نظام فضا میں اپنی سمت اور اونچائی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر لمحے من مانی سمت میں مڑ سکتے ہیں، لیکن ان کی پرواز روایتی بیلسٹک راستے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
دفاعی نظام کے لیے اصل مشکل یہی ہے کہ اگر ہدف کی مستقبل کی پوزیشن کا اندازہ مسلسل تبدیل ہو رہا ہو تو اسے روکنے کے لیے صحیح وقت اور مقام کا تعین زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
کیا پیٹریاٹ یا آئرن ڈوم اسے روک نہیں سکتے؟
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہائپر سونک میزائل کو روکنا ناممکن ہے۔ جدید فضائی دفاعی نظام مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن ہر نظام کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔
مثلاً کسی نظام کو بیلسٹک میزائل کے مقابلے کے لیے بہتر بنایا گیا ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرا کم بلندی پر آنے والے کروز میزائل کے لیے زیادہ موزوں ہو۔ ہائپر سونک ہتھیار ان دونوں کے درمیان ایک پیچیدہ دفاعی مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب رفتار بہت زیادہ ہو اور پرواز کا راستہ روایتی انداز سے مختلف ہو۔
اسی لیے امریکہ، چین، روس اور دیگر ممالک خود بھی ہائپر سونک ہتھیاروں اور ان کے خلاف دفاعی ٹیکنالوجی پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔
رفتار سے پیدا ہونے والی تباہ کن توانائی
بہت زیادہ رفتار اپنے اندر بھی زبردست حرکیاتی توانائی رکھتی ہے۔ کسی بھاری جسم کی رفتار جتنی زیادہ ہوگی، تصادم کے وقت اس کی حرکیاتی توانائی بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
تاہم یہ تصور بھی درست نہیں کہ صرف رفتار کی وجہ سے ہر ہائپر سونک میزائل بغیر وار ہیڈ کے لازماً کسی بڑے بنکر کو تباہ کر دے گا۔ حقیقی تباہی کا انحصار میزائل کے وزن، رفتار، وار ہیڈ، ہدف کی نوعیت اور تصادم کے زاویے سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔
ایران کے لیے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت
فتاح پروگرام ایران کے لیے صرف ایک میزائل منصوبہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک طاقت کے اظہار کا ذریعہ بھی ہے۔ ایران طویل عرصے سے میزائل ٹیکنالوجی کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں اسے فضائی طاقت اور جدید مغربی ہتھیاروں کے مقابلے کا سامنا رہتا ہے۔
مقامی سطح پر میزائل تیار کرنے کی صلاحیت ایران کو بیرونی سپلائی پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صنعت کو برقرار رکھنا تہران کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک مقصد رہا ہے۔
اصل چیلنج کیا ہے؟
ہائپر سونک میزائلوں کے بارے میں سب سے اہم بات شاید یہ ہے کہ انہیں صرف ایک تیز رفتار میزائل سمجھنا کافی نہیں۔ اصل چیلنج رفتار، سینسرز، رہنمائی، ممکنہ maneuverability اور دفاعی نظام کے ردعمل کے وقت کے درمیان تعلق ہے۔
اسی لیے فتاح جیسے میزائلوں نے عالمی دفاعی بحث کو ایک اہم سوال کی طرف دھکیل دیا ہے: اگر مستقبل کی جنگ میں حملہ آور ہتھیار تیز بھی ہوں، کم وقت میں پہنچیں اور اپنی پرواز کو کسی حد تک تبدیل بھی کر سکیں، تو دفاعی نظام کس طرح ان کا مقابلہ کریں گے؟
فی الحال ایران کے بعض دعووں کے بارے میں آزادانہ تصدیق محدود ہے، اس لیے فتاح کی حقیقی کارکردگی کے بارے میں حتمی فیصلے احتیاط سے کرنے چاہییں۔ لیکن ایک بات واضح ہے: ہائپر سونک ٹیکنالوجی نے جدید میزائل جنگ کی دوڑ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اور آنے والے برسوں میں صرف تیز ترین میزائل بنانا ہی نہیں، بلکہ انہیں روکنے کی صلاحیت بھی عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑی ترجیح بننے والی ہے۔
.jpg)
Comments