جاپان اور روس کے تعلقات میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس کی وجہ روس کے مشرق بعید میں واقع شہر خاباروفسک میں نصب کیا گیا ایک نیا یادگاری مجسمہ ہے۔



 جاپانی خبررساں ادارے کیودو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے ہفتے کے روز روس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مشرقی علاقے میں نصب کیا گیا وہ جنگی یادگار مجسمہ ہٹا دے جس میں جاپان کی قومی علامت کی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔ جاپانی وزیرِ خارجہ توشیمیتسو موتیگی کے مطابق یہ کانسی کا مجسمہ جمعہ کے روز خاباروفسک میں نصب کیا گیا، جس میں ایک سوویت فوجی کو ایک پتھر کی تختی توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس پر کرسنتھیمم کا نشان کندہ ہے۔

‎کرسنتھیمم کا نشان محض ایک پھول کی تصویر نہیں، بلکہ یہ صدیوں سے جاپان کے شاہی خاندان اور خود جاپانی قوم کی شناخت کی علامت ہے۔ یہ نشان تیرہویں صدی سے دراصل استعمال ہو رہا ہے اور اسے باضابطہ طور پر 1926 میں قانونی حیثیت دی گئی۔ یہ جاپانی شہریوں کے پاسپورٹوں سے لے کر سرکاری دستاویزات تک ہر جگہ نظر آتا ہے، اور اسے جاپان کے قومی نشان کی حیثیت حاصل ہے، بالکل ویسے ہی جیسے دیگر ممالک کے قومی کوٹ آف آرمز ہوتے ہیں۔ ایسے میں کسی مجسمے میں اس نشان کی جان بوجھ کر تباہی کو دکھانا جاپانی عوام کے لیے محض ایک فنی کام نہیں بلکہ ایک گہری تذلیل کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

‎وزیرِ اعظم تاکائیچی نے اس مجسمے کو "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دیا۔ وزیرِ خارجہ موتیگی نے بھی اس اقدام کو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے لیے "غیر تعمیری" اور جاپانی قومی جذبات کے حوالے سے "ناقابلِ قبول اور انتہائی افسوسناک" قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جاپان نے سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے روس سے سختی سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مجسمے کی تنصیب روکے اور اسے ہٹا دے۔ تاہم اب تک روس کی جانب سے اس درخواست کا کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا، جسے جاپانی حکام نے "انتہائی افسوسناک" قرار دیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ٹوکیو اپنا مطالبہ دہراتا رہے گا۔

‎اس مجسمے کی تنصیب کا وقت بھی خاصا معنی خیز ہے۔ اس مجسمے کی نقاب کشائی جمعرات کو منائی جانے والی اس سالگرہ کے موقع پر کی گئی جب روس نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان پر فتح حاصل کی تھی۔ واضح رہے کہ جاپان نے 15 اگست 1945 کو ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ باضابطہ ہتھیار ڈالنے کی دستاویزات پر ستمبر کے اوائل میں دستخط کیے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2023 میں روس نے 3 ستمبر کی سالگرہ کا نام تبدیل کر کے اسے "دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کا دن" سے بدل کر "عسکریت پسند جاپان پر فتح اور دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کا دن" رکھ دیا تھا۔ یہ نام کی تبدیلی خود اس بات کی غماز ہے کہ ماسکو اس تاریخی واقعے کو کس زاویے سے یاد رکھنا چاہتا ہے۔

‎یہ تنازع محض ایک مجسمے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑیں جاپان اور روس کے درمیان برسوں پرانے سرزمینی اور تاریخی اختلافات میں پیوست ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان شمالی جزائر (جنہیں روس میں جنوبی کوریل کہا جاتا ہے) پر ملکیت کا تنازع دہائیوں سے حل طلب ہے، اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک نے آج تک باضابطہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ ایسے میں یہ نیا مجسمہ محض ایک علامتی اشتعال انگیزی معلوم ہوتا ہے، جو پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی گھول سکتا ہے۔

‎جاپان کی نئی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی، جو حال ہی میں اقتدار میں آئی ہیں، کے لیے یہ ایک اہم امتحان بھی ہے۔ ان کی حکومت پہلے ہی خطے میں سلامتی کے کئی چیلنجوں سے نبردآزما ہے، اور اب انہیں ایک ایسے سفارتی معاملے کا سامنا ہے جو قومی وقار سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اگر روس اس مجسمے کو ہٹانے سے انکار کرتا ہے، تو یہ معاملہ محض احتجاجی بیانات سے آگے بڑھ کر دوطرفہ تعلقات میں دیرپا کشیدگی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

‎مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی کی جنگوں کی یادیں آج بھی کس طرح موجودہ سفارتی تعلقات پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ایک طرف روس اپنی تاریخی فتح کو یاد کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف جاپان اپنی قومی علامت کی بے حرمتی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ماسکو ٹوکیو کے احتجاج پر کوئی نرمی دکھاتا ہے، یا یہ معاملہ مزید سفارتی کشیدگی کی نذر ہو جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا