پہاڑوں کے سینے میں نیا شاہراہ ریشم



 ایک سرنگ — ایک نئی تاریخ

‎چینی صدر شی جن پنگ کے قرغیزستان دورے کے فوراً بعد ایک اہم خبر آئی — چین، قرغیزستان اور ازبکستان کو ملانے والی ریلوے لائن کی قرغیزستانی پٹی میں پہلی سرنگ کامیابی سے تعمیر کر لی گئی۔ یہ خبر محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں — یہ ایک بدلتی ہوئی دنیا کی علامت ہے، جہاں تجارتی راستے نئے سرے سے ترتیب پا رہے ہیں اور روس کا عشروں پرانا جغرافیائی اثر و رسوخ آہستہ آہستہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

‎چین، قرغیزستان اور ازبکستان ریلوے کمپنی — جو تینوں حکومتوں کی جانب سے مجاز اداروں کی مشترکہ کمپنی ہے — کے مطابق 209.6 میٹر طویل "کوش دوبو نارتھ نمبر 2" سرنگ قرغیزستانی حصے میں پہلی مکمل سرنگ ہے۔

‎یہ لمحہ ان ہزاروں مزدوروں کا پسینہ ہے جو 3,000 میٹر کی بلندی پر چٹانوں کو کاٹتے رہے — اور ان دہائیوں کی کوشش کا نتیجہ ہے جب یہ خواب صرف کاغذوں پر تھا۔

‎تین دہائیوں کا انتظار

‎اس منصوبے کی پہلی بات چیت 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی، اور 1997 میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے — مگر اسے کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔

‎تین دہائیاں گزریں، حکومتیں بدلیں، دنیا بدلی — مگر یہ ریلوے لائن ایک خواب ہی رہی۔ پہاڑ راستہ نہیں دیتے تھے، سرمایہ نہیں ملتا تھا، سیاسی ارادہ کمزور تھا۔ قرغیزستان کے پہاڑی علاقے جہاں سرنگیں کھودنی تھیں، وہاں سطح سمندر سے 3,000 میٹر کی بلندی پر کام کرنا کسی آزمائش سے کم نہ تھا۔

‎مگر 2022 میں سب کچھ بدل گیا — جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا اور مغربی پابندیوں نے روسی زمین سے گزرنے والے تجارتی راستوں کو غیر یقینی بنا دیا۔ اچانک وہ خواب ضرورت بن گئی۔

‎روس کو نظرانداز کرنے کی ضرورت کیوں؟

‎2022 میں روس پر مغربی پابندیوں کے بعد سے متبادل راستوں کی مانگ بے تحاشا بڑھ گئی۔ ابھی تک چین اور یورپ کے درمیان مال بردار ریلوے کا مرکزی راستہ قازقستان اور روس سے گزرتا ہے۔ جب روسی زمین پر سفر کا خطرہ بڑھا، بیمہ کی قیمتیں بڑھیں اور بین الاقوامی کمپنیوں نے روسی راستے سے گریز شروع کیا، تو ایک نئے راستے کی ضرورت ناگزیر ہو گئی۔

‎سی کے یو ریلوے بالکل یہی فراہم کرتی ہے — ایک ایسا راستہ جو چین، وسطی ایشیا کو جوڑتا ہے اور ازبکستان کے ذریعے ایران، ترکی اور یورپ تک پہنچتا ہے — روسی سرزمین پر قدم رکھے بغیر۔

‎کتنی بڑی ہے یہ ریلوے؟

‎سی کے یو ریلوے 500 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے جس میں اکیلے قرغیزستان میں تقریباً 305 کلومیٹر شامل ہے۔ یہ چین کے مغربی سنکیانگ خطے کے شہر کاشغر سے شروع ہو کر قرغیزستان کے پہاڑوں سے گزرتی ہے اور ازبکستان کے شہر اندیجان میں ختم ہوتی ہے۔

‎ایک بار مکمل ہونے کے بعد یہ چین سے مشرق وسطیٰ اور یورپ تک کا سب سے چھوٹا زمینی راستہ بن جائے گی اور چین یورپ ریلوے ایکسپریس کے مقابلے میں ٹرانزٹ وقت آٹھ دن تک کم کر دے گی — جن کے تینوں مرکزی راستے روس یا قازقستان سے گزرتے ہیں۔

‎جون 2025 میں تعمیر شروع ہونے کے بعد سے اب تک 27 سرنگوں، 43 پلوں اور 88 سڑک کے حصوں پر کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ 20 ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر بھی جاری ہے۔

‎قرغیزستانی حصے میں مجموعی پیش رفت 17 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

‎پہاڑ کاٹنا آسان نہیں

‎پانچ ہزار مزدور — جو 3,000 میٹر کی بلندی پر پتھر کاٹ رہے ہیں، برف میں کام کر رہے ہیں، اور ایسی زمین سے گزر رہے ہیں جہاں ہر قدم پر خطرہ ہے — یہ وہ لوگ ہیں جن کی کہانی شاید سرخیوں میں نہ آئے مگر جن کے ہاتھ اس تاریخی لمحے کے پیچھے ہیں۔

‎قرغیزستان کا پہاڑی خطہ دنیا کے مشکل ترین تعمیراتی مقامات میں سے ایک ہے — یہاں درجہ حرارت انتہائی سرد ہوتا ہے، زمین ناہموار ہے اور بلندی کی وجہ سے کام کرنا جسمانی طور پر انتہائی مشکل ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کی متوقع تاریخ 2026 سے 2030 کے درمیان ہے۔

‎تجارتی امکانات — بے پناہ

‎2024 میں چین اور قازقستان کے درمیان مال برداری کا حجم 3 کروڑ 20 لاکھ ٹن تک پہنچ گیا — اور سی کے یو اس ٹریفک کا 47 فیصد تک جذب کر سکتی ہے۔

‎یہ محض ریلوے لائن نہیں — یہ ایک اقتصادی شاہراہ ہے جو وسطی ایشیا کے ان ممالک کو براہ راست چینی مارکیٹ سے جوڑے گی جو عشروں سے روسی بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ قرغیزستان اور ازبکستان کو نئی تجارتی آمدنی ملے گی، نئے روزگار پیدا ہوں گے، اور علاقائی معیشت میں ایک نئی جان آئے گی۔

‎روس کیا سوچتا ہے؟

‎ماسکو کے لیے یہ ریلوے لائن ایک واضح پیغام ہے — وسطی ایشیا روس کے گرد چکر لگانے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ یوکرین پر حملے کے بعد سے روس نے خود کو اس خطے میں کمزور پایا ہے — پابندیوں نے اس کی اقتصادی طاقت کم کی، اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے چین آگے آ گیا۔

‎یہ "نئی شاہراہ ریشم" دراصل ایک نئی جغرافیائی سیاست کا نقشہ ہے — جہاں چین وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور روس کی جگہ لے رہا ہے۔

‎آخری بات

‎209.6 میٹر کی یہ سرنگ — ایک ایسی خبر جو شاید بہت سوں کو چھوٹی لگے — دراصل اس صدی کے سب سے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سے ایک کا پہلا ٹھوس سنگ میل ہے۔ تین دہائیاں جو خواب تھا، آج پہاڑوں کے سینے میں اپنا راستہ بنا رہا ہے۔

‎کاشغر سے اندیجان تک — چین نے پہاڑ کاٹ کر تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا