کیا کینیڈا چین کے ساتھ تجارت بڑھانے والا ہے؟



 ‎کیا کینیڈا اب اپنی سب سے بڑی تجارتی منڈی امریکہ پر انحصار کم کرکے چین کی طرف بڑھ رہا ہے؟ یہ سوال اس وقت خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ دوسری طرف اوٹاوا نے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے لیے پہلے ہی اہم اقدامات کیے ہیں۔ اس لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کینیڈا اپنی معیشت کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

‎کینیڈا اور چین کے درمیان تعلقات گزشتہ چند برسوں میں مسلسل کشیدگی کا شکار رہے۔ کینیڈا نے 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جبکہ چینی اسٹیل اور ایلومینیم پر بھی اضافی محصولات لگائے گئے۔ چین نے اس کے جواب میں کینیڈین زرعی مصنوعات سمیت بعض اہم اشیا پر تجارتی پابندیاں اور محصولات عائد کیے۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو نقصان پہنچایا۔

‎لیکن 2026 میں منظرنامہ بدلنا شروع ہوا۔ وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ متوازن کرنے کی کوشش کی۔ جنوری 2026 میں کارنی کے چین کے دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، زراعت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی سمت اہم پیش رفت کی۔ سب سے نمایاں معاملہ کینیڈین کینولا کا تھا۔ چین نے کینیڈین کینولا بیج پر مجموعی ٹیرف تقریباً 85 فیصد سے کم کرکے 14.9 فیصد کر دیا، جبکہ کینولا میل، مٹر، لابسٹر اور کیکڑے پر بعض اضافی محصولات بھی معطل کیے گئے۔

‎یہ تبدیلی صرف ایک زرعی معاہدہ نہیں بلکہ کینیڈا کے کسانوں کے لیے ایک بڑی معاشی خبر ہے۔ چین کینیڈین کینولا کے لیے تقریباً 4 ارب کینیڈین ڈالر کی سالانہ مارکیٹ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے چینی مارکیٹ تک دوبارہ بہتر رسائی کینیڈین زرعی شعبے کے لیے آمدنی اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

‎دوسری طرف کینیڈا نے بھی چینی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے اپنی پالیسی میں نرمی کی۔ 2026 میں کینیڈا نے محدود مقدار میں، ابتدائی طور پر 49 ہزار چینی الیکٹرک گاڑیوں کو 6.1 فیصد ٹیرف پر درآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ 2024 میں عائد کیے گئے 100 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں بہت بڑی تبدیلی ہے۔

‎یہاں سے ایک واضح اشارہ ملتا ہے کہ دونوں ممالک کم از کم تجارت کے کچھ شعبوں میں تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کینیڈا نے 2030 تک چین کو مجموعی برآمدات میں 50 فیصد اضافے کا ہدف بھی رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوٹاوا صرف موجودہ تجارت بحال کرنے پر نہیں بلکہ مستقبل میں چین کو ایک بڑی برآمدی منڈی بنانے پر بھی غور کر رہا ہے۔

‎اس حکمت عملی کے پیچھے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ستمبر 2026 میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع دوبارہ شدید ہوا اور کینیڈا نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا پر جوابی محصولات نافذ کیے۔ کینیڈا کی معیشت اب بھی امریکی مارکیٹ پر بہت زیادہ منحصر ہے، لیکن حالیہ حالات نے اوٹاوا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر غیر معمولی انحصار مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

‎یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوشش کو صرف ایک معاشی فیصلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ کینیڈا کی وسیع تر تجارتی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے۔ اگر کینیڈا ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں میں اپنی برآمدات بڑھاتا ہے تو اسے امریکی منڈی میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ سے نمٹنے کے لیے زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔

‎تاہم چین کے ساتھ قربت کی بھی اپنی حدود ہیں۔ کینیڈا اور چین کے درمیان انسانی حقوق، قومی سلامتی، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاست جیسے معاملات اب بھی موجود ہیں۔ کینیڈا کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تاریخی، جغرافیائی اور اقتصادی تعلقات کو اچانک چین کے ساتھ تجارت کے حق میں چھوڑ دے۔ بلکہ زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ کینیڈا دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات کے مطابق تعلقات برقرار رکھے۔

‎آخرکار سوال یہ نہیں کہ کینیڈا امریکہ کو چھوڑ کر چین کے ساتھ کھڑا ہونے والا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کینیڈا اپنی تجارت کو ایک ہی سمت میں رکھنے کے بجائے اسے مختلف عالمی منڈیوں میں پھیلانا چاہتا ہے؟ موجودہ اقدامات کا جواب ہاں میں دکھائی دیتا ہے۔

‎چین کے ساتھ کینولا، زرعی مصنوعات، سمندری خوراک اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ کینیڈا چین کو دوبارہ ایک اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ لیکن یہ مکمل اتحاد نہیں بلکہ معاشی مفادات پر مبنی ایک محتاط تجارتی ری سیٹ ہے۔

‎آنے والے برسوں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ کینیڈا اس نئے تجارتی توازن کو کس حد تک کامیاب بناتا ہے۔ اگر چین کے ساتھ برآمدات واقعی تیزی سے بڑھتی ہیں اور امریکہ پر انحصار کم ہوتا ہے تو کینیڈا کی عالمی تجارتی پوزیشن نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا