جب پہاڑ نے آنکھیں کھولیں — گیرونگ کی تباہی
سات منٹ — اور سب کچھ ختم
26 اگست 2026 کی صبح چین کے تبت علاقے میں واقع گیرونگ پورٹ کے سی سی ٹی وی کیمرے نے جو منظر ریکارڈ کیا، وہ دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دیتا ہے — لوگ بھاگ رہے تھے، چیخ رہے تھے، مگر پانی، مٹی اور پتھروں کا وہ دیو ہیکل طوفان ان سے تیز تھا۔ چینی حکام کے مطابق لینگتانگ لیرنگ چوٹی کے قریب گلیشیر ٹوٹنے کے محض سات منٹ بعد وہ سیلاب گیرونگ بندرگاہ کو نگل چکا تھا۔
سات منٹ۔ بس سات منٹ میں ایک پوری دنیا اُلٹ گئی۔
کیا ہوا تھا؟
26 اگست 2026 کو نیپال اور چین کی تبت سرحد پر ایک ہلا دینے والا سانحہ پیش آیا — ابتدائی رپورٹوں کے مطابق لینگتانگ لیرنگ پہاڑ سے گلیشیر اور چٹانوں کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے دریا میں جا گرا، جس نے پانی، مٹی اور ملبے کا ایک سیلاب بنا دیا جو نیچے کی طرف بہتا چلا گیا۔
اس گلیشیر کے ٹوٹنے کی وجہ سے ایک ایسا زلزلہ نما جھٹکا محسوس ہوا جو 5.7 شدت کا تھا — جرمنی کے جی ایف زیڈ ہیلم ہولٹز مرکز نے اس کی تصدیق کی۔ اس کے ٹھیک سات منٹ بعد گیرونگ پورٹ کے سرحدی گزرگاہ کو سیلاب نے تباہ کر دیا۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گلیشیر کا بڑا حصہ ہزاروں میٹر نیچے گرا اور رگڑ اور تصادم کی وجہ سے پگھل گیا، جس نے ایک مہلک طوفان کی شکل اختیار کر لی۔
چین کا زخمی سرحدی علاقہ
گیرونگ، چین اور نیپال کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ ہے — یہ گزرگاہ نیپال اور چین کی کل تجارت کا 30 فیصد سنبھالتی تھی، اور 2026 کی پہلی ششماہی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد یہاں سے گزرے تھے۔
چین میں سڑکیں، رابطہ نظام اور بجلی سب کچھ ٹھپ ہو گیا۔ ایک امدادی کارکن نے موقع کا حال بیان کرتے ہوئے کہا — "یہاں کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں۔" گیرونگ علاقے میں 27 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، اور تقریباً 80 ٹرک اور 170 کنٹینر وہاں پھنس گئے کیونکہ شہر تک جانے والی 5 کلومیٹر سڑک تباہ ہو چکی تھی۔
چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں 16 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 546 لوگ — جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں — اب بھی لاپتا ہیں۔
کیچڑ میں ڈوبا ایک کھلونا
گیرونگ پورٹ کے قریب بچاؤ مرکز کے پاس دریا کے کنارے ایک کیچڑ میں لتھڑا ہوا خرگوش کا کھلونا ملا — تبت کے سرکاری ٹی وی نے اس کی تصویر نشر کی۔ جمعے کی شام سے جب امدادی ٹیم وہاں پہنچی، کوئی زندہ بچ جانے والا نہیں ملا۔
یہ کھلونا کسی بچے کا تھا۔ وہ بچہ اب کہاں ہے — یہ سوال جواب کا منتظر ہے۔
سینکڑوں افراد — انجام نامعلوم
مجموعی طور پر کم از کم 955 افراد ہلاک اور 4,471 سے زیادہ لاپتا ہیں — نیپال میں 939 اموات اور 3,925 لاپتا، جبکہ چین میں 16 ہلاک اور 546 لاپتا۔
لاپتا افراد میں 700 سے زیادہ غیر ملکی سیاح ہیں — جن میں درجنوں امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نیپال کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
امدادی ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں اتر نہیں پا رہے تھے، گھر بہہ گئے، گاڑیاں تیرتی نظر آئیں اور دھاتی پل بہتے ہوئے دیکھے گئے — ایک مقامی صحت کارکن نے کہا — "ہر طرف تباہی ہے، دریا کے کنارے کی تمام بستیاں بہہ گئی ہیں، میرے اپنے پانچ رشتہ دار لاپتا ہیں۔"
خطرہ ابھی ٹلا نہیں
ایک اور خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا — ملبے سے بنا ایک عارضی ڈیم ٹوٹنے کا ڈر، جو گیرونگ پورٹ سے ایک کلومیٹر اوپر بن گیا تھا۔ اس وجہ سے بچاؤ کارروائی عارضی طور پر روکنی پڑی۔ بعد میں یہ خطرہ قابو میں آ گیا اور آپریشن دوبارہ شروع ہوا، مگر چینی حکام نے خبردار کیا کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
موسمیاتی تبدیلی — خاموش قاتل
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے باعث ہمالیہ میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے — "گرمی کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ میں تیزی آ رہی ہے — ہر سال دریا بلاک ہوتے ہیں اور پھر ٹوٹتے ہیں۔"
گلیشیر ہزار سال پرانے تھے۔ ہم نے دہائیوں میں انہیں کمزور کر دیا۔
آخری بات
گیرونگ اب ایک نام نہیں — ایک زخم ہے۔ سڑکیں بند ہیں، پل بہہ گئے، فون نہیں ملتے — اور سینکڑوں خاندان دنیا کے ہر کونے سے صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا نہیں۔
کیچڑ میں ڈوبا وہ خرگوش کا کھلونا ایک پوری نسل کے دکھ کی علامت ہے — ہم نے فطرت کو نظرانداز کیا، اور فطرت نے اپنا حساب لے لیا۔
.jpg)
Comments