روس کا امریکہ کو پیغام: زمینی حقائق دیکھیں، پیوٹن کا تین روزہ فضائی وقفہ
روس اور یوکرین کی جنگ ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں چند گھنٹوں کی خاموشی بھی بڑی سفارتی خبر بن جاتی ہے۔ برسوں سے جاری میزائل حملوں، ڈرونز، تباہ شدہ عمارتوں اور مسلسل خوف کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کیف کے خلاف فضائی حملوں میں تین روزہ وقفے کا حکم دیا ہے۔ بظاہر یہ صرف 72 گھنٹوں کا فیصلہ ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا سیاسی پیغام چھپا ہوا ہے۔
روسی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ کو جنگ کے حل کے لیے "زمینی حقائق" کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کی روسی قیادت سے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ان کا یوکرین جانے کا منصوبہ ہے۔
یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ حالیہ ہفتوں میں جنگ نے فضائی حملوں کی ایک نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ کیف سمیت یوکرین کے کئی علاقوں میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب یوکرین بھی روسی سرزمین کے اندر ڈرون حملوں کی صلاحیت بڑھا رہا ہے، جس سے روس کے اندر ہوائی اڈوں، توانائی کے مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھا ہے۔
ایسے ماحول میں پیوٹن کا تین روزہ فضائی وقفہ محض فوجی فیصلہ نہیں سمجھا جا رہا۔ یہ واشنگٹن کو ایک سفارتی اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ ماسکو مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔ روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے بھی کہا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ حقیقی حل تلاش کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہے اور کیا وہ "زمینی حقائق" کو مدنظر رکھتی ہے۔
لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ روس جن "زمینی حقائق" کی بات کر رہا ہے، ان سے مراد کیا ہے؟
ماسکو کی پوزیشن میں ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جنگ کے دوران روس نے یوکرین کے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور وہ مذاکرات میں اپنی فوجی پوزیشن کو نظرانداز نہیں کرنا چاہتا۔ روسی قیادت یوکرین کے مستقبل، نیٹو میں شمولیت اور مقبوضہ علاقوں کے مسئلے پر اپنی شرائط رکھتی رہی ہے۔ دوسری جانب کیف ان علاقوں کو روس کے حوالے کرنے کے مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔
یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو کسی بھی امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ایک طرف واشنگٹن جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، دوسری طرف ماسکو چاہتا ہے کہ مذاکرات اس کی فوجی پوزیشن کو تسلیم کرتے ہوئے ہوں، جبکہ یوکرین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
تین روزہ فضائی وقفہ اسی لیے انتہائی اہم ہے۔ اگرچہ یہ مکمل جنگ بندی نہیں، لیکن اس سے کم از کم سفارت کاروں کو یہ موقع مل سکتا ہے کہ وہ میزائلوں اور ڈرونز کے شور کے بغیر ایک دوسرے کی بات سن سکیں۔ پیوٹن کا فیصلہ امریکی نمائندوں کی موجودگی کے ساتھ سامنے آیا ہے، جبکہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی امریکی سفارتی مشن کے دوران حملوں میں عارضی وقفے کی حمایت کی ہے۔
مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل امن کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہوتا ہے۔
تین دن کی خاموشی اس وقت ہی معنی رکھے گی جب اسے ایک بڑے سفارتی عمل کی ابتدا بنایا جائے۔ اگر تین دن بعد دوبارہ میزائل فضا میں گونجنے لگیں، تو یہ وقفہ صرف ایک مختصر سانس ثابت ہوگا۔ لیکن اگر اس دوران ماسکو، واشنگٹن اور کیف کے درمیان کوئی قابلِ عمل فارمولا سامنے آتا ہے تو یہی مختصر وقفہ ایک بڑے سفارتی عمل کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔
روس کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ یوکرینی ڈرون حملوں نے روس کے اندر جنگ کے اثرات کو نمایاں کیا ہے، جبکہ طویل جنگ نے معیشت، فوجی وسائل اور عوامی زندگی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ دوسری طرف یوکرین بھی مسلسل حملوں، بنیادی ڈھانچے کے نقصانات اور انسانی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
اسی لیے آج اصل جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جا رہی۔ ایک جنگ میزائلوں اور ڈرونز سے جاری ہے، جبکہ دوسری جنگ مذاکرات کی میز پر الفاظ، شرائط اور سیاسی دباؤ کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔
پیوٹن کا تین روزہ فضائی وقفہ شاید جنگ ختم نہ کرے، لیکن یہ ایک اہم سوال ضرور سامنے لے آیا ہے: کیا روس، امریکہ اور یوکرین واقعی ایسے سمجھوتے کے قریب آ سکتے ہیں جس میں کسی ایک فریق کو مکمل فتح کے بجائے قابلِ قبول راستہ مل جائے؟
فی الحال اس سوال کا جواب واضح نہیں۔
لیکن اتنا ضرور ہے کہ 72 گھنٹوں کی یہ خاموشی معمولی نہیں۔ یہ اس وقت آئی ہے جب امریکی نمائندے ماسکو پہنچ چکے ہیں، کیف مذاکرات کی امید دیکھ رہا ہے اور روس بار بار واشنگٹن کو زمینی صورتحال سمجھنے کا پیغام دے رہا ہے۔
اب دنیا کی نظریں ان تین دنوں پر ہیں۔
کیونکہ کبھی کبھی جنگ کے سب سے خطرناک مرحلے میں گونجتی ہوئی آوازیں نہیں بلکہ اچانک چھا جانے والی خاموشی زیادہ کچھ کہتی ہے۔
.jpg)

Comments