روبوٹ فوجی — چین کا کل کی جنگ کا خواب
ناچنے سے لڑنے تک
اگست 2026 میں بیجنگ کے نیشنل اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں ایک انوکھا مقابلہ ہوا — ورلڈ ہیومینوئڈ روبوٹ گیمز۔ یہاں روبوٹ بھاگے، مکہ بازی کی، کشتی لڑی اور رقص کیا۔ دنیا نے تالیاں بجائیں اور سوچا — کتنی دلچسپ ٹیکنالوجی ہے۔
مگر اس تقریب کے محض دو دن بعد چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے سرکاری اخبار پی ایل اے ڈیلی نے ایک بالکل مختلف نتیجہ نکالا — انہوں نے محققین سے کہا کہ وہ جدید ترین ٹیکنالوجی کو لیبارٹریوں سے فوجی تربیتی میدانوں میں منتقل کریں، روبوٹ "جنگجوؤں" کے لیے۔
یعنی یہ کھیل نہیں تھا — یہ مستقبل کی فوج کا پریکٹس سیشن تھا۔
100 سے زیادہ سرکاری دستاویزات — ایک چھپی ہوئی کہانی
رائٹرز نے 100 سے زیادہ چینی فوجی خریداری کے نوٹسز، تعلیمی مطالعات، پیٹنٹس، سرکاری اشاعتوں، حکومتی ریکارڈز اور دفاعی کمپنیوں کے مواد کا جائزہ لیا — اور جو تصویر سامنے آئی وہ حیران کن ہے۔
پہلے کبھی شائع نہ ہونے والے ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ادارے انسان نما روبوٹوں کی میدان جنگ کی ضروریات کے خلاف جانچ کر رہے ہیں، روبوٹ اور انہیں تربیت دینے کے لیے درکار ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ مطالعہ کر رہے ہیں کہ وہ انسانی فوجیوں کے ساتھ کس طرح کام کر سکتے ہیں۔ اس کوشش نے 2025 اور 2026 میں خاصی رفتار پکڑی، جس میں روبوٹک پہچان، جسمانی جوڑ توڑ اور تربیت پر خاص توجہ دی گئی۔
پی ایل اے ڈیلی کا اعلان — "معاون" سے "مرکزی جنگجو"
جولائی 2025 میں پی ایل اے ڈیلی کے ایک مضمون نے دلیل دی کہ انسان نما روبوٹوں کی مہمات بالآخر "معاون جنگ سے پرائمری جنگ کی طرف" تبدیل ہو سکتی ہیں، اور اس میں اس بات پر بھی بحث کی گئی کہ روبوٹوں کو کسی ایسے زندہ ہدف پر گولی چلانے کی اجازت کیسے دی جائے جسے کسی انسان نے تصدیق کر دی ہو۔
یہ ایک اہم نکتہ ہے — مطلب یہ ہے کہ انسان ہدف کی تصدیق کرے، اور روبوٹ گولی چلائے۔ فیصلہ انسان کا، عمل مشین کا۔
دسمبر 2025 میں پی ایل اے کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ نے ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو جاری کی جس میں فوجی روبوٹ بشمول انسان نما اور چار ٹانگوں والے روبوٹ، ایک فرضی مستقبل کے تنازع میں تائیوان کے دفاع کو تہس نہس کرتے دکھائے گئے۔
دشمن کی لائنوں میں گھسنا — مشق شروع ہو گئی
جون 2025 میں نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی میں ایک مقابلے میں ایک ایسا منظر نامہ شامل تھا جس میں روبوٹ دشمن کی لائنوں کے پیچھے گھس کر، کسی علاقے کا نقشہ بنائیں اور اہداف تلاش کریں۔
اگست 2025 میں نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کے زیان میں واقع ٹیسٹ سینٹر کے محققین کے ایک مقالے میں ایک ایسی شہری حملہ آور قوت کا نمونہ پیش کیا گیا جس میں چھ جنگی روبوٹ — بشمول انسان نما روبوٹ، روبوٹ کتے اور بغیر عملہ گاڑیاں — زمینی فوجیوں کے ساتھ مل کر دشمن کے قبضے والی عمارت کو منزل بہ منزل اور کمرہ بہ کمرہ صاف کریں گے۔ محققین نے اندازہ لگایا کہ اس منظر نامے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار آلات ممکنہ طور پر پانچ سے دس سال کے اندر دستیاب ہو سکتے ہیں۔
فوجی خریداری — روبوٹ فوج کی بنیاد
مئی 2025 میں پی ایل اے نے ایک انسان نما روبوٹ خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا۔ مہینوں بعد ایک اور خریداری نوٹس میں ایک "مجسم انسان نما روبوٹ ذہین ادراک اور ہوشیار آپریشن سسٹم" مانگا گیا۔ جون 2026 میں پی ایل اے نے انسان نما روبوٹوں کے لیے کیمرہ، ریڈار، حرکت اور خطوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور لیبل لگانے کے لیے ڈیزائن کردہ ایک سسٹم کے لیے تقریباً 3 لاکھ ڈالر کا بجٹ مختص کیا۔
فوکسی — نوری نکو کا نیا روبوٹ فوجی
اگست 2026 میں دفاعی ادارے نوری نکو نے اپنا مکمل سائز کا فوکسی انسان نما روبوٹ پیش کیا۔ کمپنی نے کہا کہ یہ روبوٹ سنتری کی ذمہ داریاں، ہر موسم میں جاسوسی، ذہین گشت اور خطرناک علاقوں میں آپریشن انجام دے سکتا ہے۔ فوکسی کو دور سے بھی ایک انسانی آپریٹر کنٹرول کر سکتا ہے — روبوٹ آپریٹر کی حرکات کی نقل کرتا ہے۔
چین کی صنعتی برتری — 95 فیصد عالمی پیداوار
رائٹرز کے جائزہ کردہ مواد کے مطابق چینی مینوفیکچررز نے 2025 میں عالمی سطح پر انسان نما روبوٹ کی ترسیل کا تقریباً 95 فیصد حصہ اکٹھا کیا۔
یہ اعداد و شمار سب کچھ کہہ دیتے ہیں — دنیا میں جتنے بھی انسان نما روبوٹ بنے، ان میں سے 19 میں سے 18 چین نے بنائے۔ اور یہی تجارتی برتری فوجی منصوبوں کی بنیاد ہے۔
ابھی تعینات نہیں — مگر راستہ واضح ہے
مشینیں ابھی توانائی کی بھوکی اور قابو سے باہر ماحول میں غیر قابل اعتماد ہیں۔ لیکن فوجی ادارے پہلے سے ہی میدان جنگ کی ضروریات کے خلاف صلاحیتوں کی جانچ کر رہے ہیں اور ایسی ٹیکنالوجیاں خرید رہے ہیں جو روبوٹوں کو آپریشنل استعمال کے قریب لانے کے لیے ہیں۔
چین اکیلا نہیں ہے۔ ستمبر 2025 میں امریکی فوج کے ایکس ٹیک ہیومینوئڈ مقابلے نے ایسے نمونہ جاتی فوجی صلاحیتوں کی تلاش کی جو فوجیوں کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔
آخری بات — کل کی جنگ آج لکھی جا رہی ہے
تاریخ میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی سامنے آئی — گھوڑا، بارود، ٹینک، ہوائی جہاز — اس نے جنگ کا چہرہ بدل دیا۔ آج روبوٹ اسی دہلیز پر کھڑا ہے۔
چین کی یہ کوشش ابھی لیبارٹریوں اور مقابلوں میں ہے — مگر خریداری کے نوٹسز، تحقیقی مقالے، فوجی مشقیں اور پی ایل اے ڈیلی کے اداریے مل کر ایک واضح سمت کا اشارہ دیتے ہیں۔
وہ دن شاید دور نہیں جب میدان جنگ میں انسانی فوجی کے ساتھ ایک ایسا "ساتھی" کھڑا ہوگا جو نہ تھکتا ہے، نہ ڈرتا ہے، نہ درد محسوس کرتا ہے — اور جو حکم ملے، فوری عمل کرتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے — جب مشین کو مارنے کا حکم دیا جائے، تو جواب دہ کون ہوگا؟ یہ سوال آج کا نہیں، کل کا نہیں — یہ سوال ابھی سے جواب مانگ رہا ہے۔
.jpg)
Comments