جب اوٹاوا نے بیجنگ کی طرف ہاتھ بڑھایا
ایک خاموش لیکن اہم لمحہ
4 ستمبر 2026 کو کینیڈا کی سرزمین پر ایک ایسی ملاقات ہوئی جو بظاہر سرخیوں میں زیادہ نہیں آئی — مگر اس کے پس پردہ معنی بہت گہرے ہیں۔ چین اور کینیڈا کی فوجی قیادتوں کے درمیان "ڈیفنس کوآرڈینیشن ڈائیلاگ" کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا — اپریل 2018 کے بعد پہلی بار۔ آٹھ سال کی خاموشی کے بعد دو ایسے ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے بیٹھیں جن کے تعلقات عرصے تک سرد مہری کا شکار رہے تھے۔
چینی وزارت دفاع نے کہا کہ دونوں فریقوں نے مشترکہ دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر کھل کر اور گہرائی سے تبادلہ خیال کیا، اور دونوں فوجوں کے درمیان عملی تبادلوں اور تعاون کو مضبوط بنانے، اور باہمی اعتماد بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ مذاکرات 2013 میں شروع ہونے والے اس سلسلے کا پانچواں اجلاس تھا — مگر درمیان میں آٹھ سال کا خلا تھا جو بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔
یہ آٹھ سال کیوں رکے؟
2018 میں یہ سلسلہ کیوں رکا — اس کی وجہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے کینیڈا اور چین کے تعلقات کو برسوں کے لیے مسموم کر دیا۔ کینیڈا نے امریکی درخواست پر ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر منگ وان ژو کو ویمکوور ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا۔ چین نے جواب میں دو کینیڈائی شہریوں — مائیکل کووریگ اور مائیکل سپیور — کو حراست میں لے لیا۔ اس "یرغمالی سفارت کاری" نے دونوں ممالک کے درمیان ایسی دیوار کھڑی کر دی جو برسوں تک نہ گری۔
پھر 2024 میں کینیڈا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری محصولات لگائے، چین نے جواباً کینیڈائی زرعی مصنوعات پر ٹیرف عائد کر دیے — اور تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔
آٹھ سال میں بہت کچھ بدل گیا — مگر شاید سب سے بڑی تبدیلی وہ ہے جو جنوب میں آئی۔
امریکہ نے دھکا دیا، چین نے راستہ کھولا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو "51 واں ریاست" کہنا شروع کیا، بھاری ٹیرف لگائے، اور مئی 2026 میں امریکہ نے باضابطہ طور پر کینیڈا کے ساتھ "پرمینینٹ جوائنٹ بورڈ آن ڈیفنس" کی سرگرمیاں معطل کر دیں — وہ مشترکہ فوجی رابطہ کار ادارہ جو دہائیوں سے دونوں ملکوں کی دفاعی ہم آہنگی کا ستون تھا۔
پینٹاگون کے پالیسی سربراہ ایلبریج کولبی نے کہا کہ کینیڈا نے اپنے دفاعی وعدوں پر قابل اعتماد پیش رفت نہیں کی، اس لیے امریکہ اس فورم کو معطل کر رہا ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے صاف دیکھ لیا کہ روایتی اتحادی بدل رہا ہے — اور نئے راستے تلاش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
کارنی کا چین کا سفر — تاریخی موڑ
جنوری 2026 میں مارک کارنی نے بیجنگ کا دورہ کیا — 2017 کے بعد کینیڈا کے کسی وزیر اعظم کا چین کا پہلا دورہ۔ بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے "نئی اسٹریٹیجک شراکت داری" کا اعلان کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت 2025 میں تقریباً 90 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو سال بہ سال 4.9 فیصد زیادہ تھی، جبکہ چین کو کینیڈائی برآمدات 13.8 فیصد بڑھ گئیں۔
مئی 2026 میں چین کے اعلیٰ سفارتکار وانگ یی نے اوٹاوا کا دورہ کیا — یہ کسی چینی وزیر خارجہ کا ایک دہائی میں پہلا دورہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات نئے سرے سے پوری طرح بحال ہو گئے ہیں۔
فوجی مذاکرات — علامت اور عمل دونوں
فوجی مذاکرات کی بحالی محض ایک رسمی قدم نہیں — یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کینیڈا اپنی خارجہ پالیسی کو از سر نو ترتیب دے رہا ہے۔ چینی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ ملاقات اوٹاوا کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے درمیان بیجنگ کے ساتھ رابطہ بڑھانے کی کوشش کے دوران ہوئی۔
جولائی 2026 میں کینیڈا میں چینی سفارت خانے کے دفاعی اتاشی لی یاؤ نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل بہتری نے دونوں فوجوں کے درمیان قریبی رابطوں اور تبادلوں کے لیے سازگار حالات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ آسان کھیل نہیں
مگر یہ سفر آسان نہیں۔ کینیڈا ابھی بھی ناٹو کا رکن ہے، امریکہ کے ساتھ نوراڈ کے تحت فضائی دفاع مشترکہ ہے، اور چین کے حوالے سے اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ بنیادی تحفظات مشترک ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کینیڈا کے چین سے بڑھتے تعلقات کو شک کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔
کارنی کا یہ داؤ خطرات سے خالی نہیں — واشنگٹن کو ناراض کیے بغیر بیجنگ کو راضی کرنا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔
آخری بات — نئی دنیا کا نیا نقشہ
8 سال پہلے جو میز خالی ہوئی تھی، آج وہ پھر آباد ہے — مگر دنیا بالکل بدل چکی ہے۔ جو امریکہ کبھی سب سے قریبی دوست تھا، آج وہ تجارتی دشمن بنا ہوا ہے — اور جو چین کبھی سرد مہری کی علامت تھا، آج وہ نئی اسٹریٹیجک شراکت داری کا حوالہ دیتا ہے۔
کینیڈا کی یہ کہانی دراصل 2026 کی عالمی سیاست کی کہانی ہے — جہاں پرانے اتحاد ڈگمگا رہے ہیں، نئے رشتے بن رہے ہیں، اور ہر ملک اپنے مفادات کی روشنی میں اپنا راستہ خود چن رہا ہے۔
.jpg)
Comments