کانگ کون — الٹنے سے بحری بیڑے تک
وہ جہاز جو ڈوبتے ڈوبتے بچا
مئی 2025 کا وہ دن شمالی کوریا کے لیے کسی بُرے خواب سے کم نہیں تھا — ایک عظیم الشان جنگی جہاز، جسے دھوم دھام سے پانی میں اتارا جانا تھا، اپنی پہلی چھلانگ میں ہی الٹ گیا۔ لانچنگ کے طریقہ کار میں خرابی آئی، جہاز کا پچھلا حصہ وقت سے پہلے پانی میں چلا گیا، جس سے پورے ڈھانچے کا توازن بگڑ گیا اور جہاز کی پیشانی شپ یارڈ کی ڈھلوان پر اٹکی رہ گئی۔
کم جونگ اُن نے اس واقعے کو "مجرمانہ فعل" قرار دیا — یہ ان کی زبان سے نکلنے والے سخت ترین الفاظ تھے۔
مگر 6 ستمبر 2026 کو وہی کم جونگ اُن اپنی بیٹی جو اے کے ساتھ ایک کمیشننگ تقریب میں کھڑے تھے — اور وہی جہاز، جو ایک سال پہلے الٹا پڑا تھا، آج فخر سے شمالی کوریا کے بحری بیڑے کا حصہ بن چکا تھا۔
کانگ کون — ایک نام، ایک انقلاب
جنگی بحری جہاز "کانگ کون" شمالی کوریا کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے — تقریباً 5,000 ٹن وزنی، چوئے ہیون کلاس کے ڈسٹرائرز میں سے دوسرا جہاز۔ یہ ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر ہے جو جوہری صلاحیت کا حامل ہے۔
کم جونگ اُن نے کہا کہ کانگ کون کی کمیشننگ ملک کی "خود اعتمادی، ارادے اور مضبوط جذبے" کا نتیجہ ہے — اور یہ جوہری صلاحیت کا حامل جنگی جہاز شمالی کوریا کے دشمنوں کو ایک مضبوط پیغامِ بازدارندگی بھیجے گا۔
کم جونگ اُن نے کانگ کون کی کمیشننگ کو بحری افواج کی صلاحیتوں کے لیے ایک "تاریخی واقعہ" قرار دیا۔
وہ رات جب سب کچھ ڈوبا
مئی 2025 میں جب کانگ کون کو پانی میں اتارنے کی کوشش ہوئی تو لانچنگ کے طریقہ کار میں خرابی کی وجہ سے جہاز کا پچھلا حصہ قبل از وقت پانی میں چلا گیا، جس سے پورے ڈھانچے کا توازن بگڑ گیا اور آگے کا حصہ شپ وے پر اٹکا رہ گیا۔
یہ منظر شمالی کوریا کی فوجی تاریخ کی سب سے شرمناک لمحات میں سے ایک تھا۔ کم جونگ اُن نے اسے "مجرمانہ فعل" قرار دیا — اور شمالی کوریا میں اس طرح کی ناکامی کا مطلب عموماً ذمہ داروں کے لیے سخت نتائج ہوتا ہے۔
اگلے روز، سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ نقصان ابتدائی خدشوں سے کم سنگین تھا۔ مگر اصل سوال یہ تھا — کیا اس جہاز کو بحال کیا جا سکتا ہے؟
ایک سال میں معجزہ
جواب تھا — ہاں۔
شمالی کوریا کے انجینیروں اور مزدوروں نے دن رات ایک کر کے کانگ کون کو نہ صرف بحال کیا بلکہ اسے مکمل طور پر تیار کر کے بحری بیڑے میں شامل کر دیا — یہ محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریاتی پیغام بھی ہے کہ شمالی کوریا کا نظام ناکامی کو ہار نہیں مانتا۔
کم جونگ اُن نے اتوار کو کہا: "ہم اپنی بحری طاقت بڑھانے کا ایک اہم منصوبہ چلا رہے ہیں — آٹھ ماہ بعد میں دنیا کو پھر ثابت کر دوں گا۔"
یہ الفاظ ایک انتباہ بھی ہیں اور ایک وعدہ بھی۔
بیٹی کی موجودگی — ایک اشارہ
کمیشننگ تقریب میں کم جونگ اُن کے ساتھ ان کی بیٹی بھی موجود تھی جس کا نام جو اے بتایا جاتا ہے — ماہرین کا خیال ہے کہ کم اسے اپنا جانشین بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سرکاری میڈیا نے تصاویر جاری کیں جن میں باپ بیٹی جہاز کے عملے کے ساتھ گروپ فوٹو کھنچوا رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ جو اے کو اس طرح کی اہم فوجی تقاریب میں پیش کیا گیا ہو — یہ شمالی کوریا کی قیادت کی ایک واضح پیغام رسانی ہے کہ "کم خاندان" کی حکمرانی آگے بھی جاری رہے گی۔
70 سال کی جمود کا خاتمہ
کانگ کون کی ہم جماعت پہلی کشتی جون 2026 میں کمیشن ہوئی تھی — اس موقع پر کم نے کہا تھا کہ یہ شمالی کوریا کی فوجی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے اور بحریہ نے "اپنی 70 سال سے زیادہ کی جمود کو ختم کر دیا ہے۔"
یہ بات سمجھنے کے لیے پس منظر جاننا ضروری ہے — شمالی کوریا کا بحری بیڑہ طویل عرصے سے جنوبی کوریا اور امریکہ کی بحری افواج سے بہت پیچھے رہا ہے، جن کے پاس جدید ترین الیکٹرانکس اور طاقتور میزائل لانچ کی صلاحیت کے حامل جدید جنگی جہاز اور آبدوزیں ہیں۔ کم کوشش کر رہے ہیں کہ پیانگ یانگ کی بحریہ کو ایک "جوہری مسلح قوت" میں تبدیل کریں۔
5,000 ٹن وزنی یہ دیو ہیکل جہاز اس خواب کا ایک اہم قدم ہے۔
ایک بدلتی ہوئی بحری طاقت
کانگ کون محض ایک جہاز نہیں — یہ شمالی کوریا کی اس بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت کم جونگ اُن اپنے ملک کو ہر محاذ پر ایک جوہری طاقت کے طور پر منوانا چاہتے ہیں — زمین پر بھی، ہوا میں بھی، اور اب سمندر میں بھی۔
جو جہاز ایک سال پہلے شرمناک انداز میں پانی میں الٹا تھا — آج وہ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے لیے فتح کی علامت بن چکا ہے۔ اور کم جونگ اُن کے الفاظ میں — آٹھ ماہ بعد دنیا کو ایک اور ثبوت ملے گا۔
وہ ثبوت کیا ہوگا — یہ سوال پورے خطے کو بے چین کر رہا ہے۔
.jpg)
Comments