فیڈ چیئر وارش کی کشمکش: ٹرمپ کا شرح سود میں کمی کا مطالبہ بمقابلہ روزگار کی مضبوط صورتحال
امریکہ کی معیشت اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں بظاہر اچھی خبر بھی مرکزی بینک کے لیے مسئلہ بن گئی ہے۔ ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فیڈرل ریزرو شرحِ سود کم کرے تاکہ قرض سستا ہو، کاروباری سرگرمی بڑھے اور عوام کو معاشی دباؤ سے کچھ ریلیف ملے۔ دوسری طرف اگست کے تازہ روزگار کے اعداد و شمار نے یہ دلیل مضبوط کر دی ہے کہ امریکی معیشت ابھی اتنی کمزور نہیں ہوئی کہ فوری شرحِ سود میں کمی ضروری سمجھی جائے۔ اسی کشمکش کے مرکز میں فیڈ چیئر کیون وارش کھڑے ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں امریکی معیشت نے 162,000 نئی ملازمتیں پیدا کیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہی۔ یہ ملازمتوں میں اضافہ ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ اس رپورٹ نے مالیاتی منڈیوں کو بھی حیران کیا اور شرحِ سود میں ممکنہ اضافے کے امکانات دوبارہ زیرِ بحث آ گئے۔
یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے آسان نہیں۔ صدر مسلسل کم شرحِ سود کے حامی رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں سستی رقم امریکی معیشت کو مزید تیزی دے سکتی ہے۔ کم شرحِ سود سے گھر، گاڑی اور کاروباری قرض نسبتاً سستے ہو سکتے ہیں، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اسٹاک مارکیٹ کو بھی سہارا مل سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے فیڈ پر شرحیں کم کرنے کے لیے دباؤ اسی وسیع معاشی سوچ کا حصہ ہے۔
لیکن فیڈرل ریزرو کا کام صرف صدر کی خواہشات دیکھنا نہیں بلکہ مہنگائی، روزگار، اجرتوں اور مجموعی معاشی سرگرمی کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وارش کے لیے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
اگر فیڈ مضبوط روزگار کے باوجود شرحِ سود کم کرتا ہے تو مارکیٹ اسے مہنگائی کے خطرے کو نظرانداز کرنے کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر فیڈ شرحِ سود برقرار رکھتا یا مزید بڑھاتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ یوں ایک اقتصادی فیصلہ براہِ راست سیاسی بحث میں تبدیل ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔
تازہ روزگار رپورٹ میں ایک اور اہم بات سامنے آئی۔ اگست میں لیبر فورس میں 683,000 افراد کا اضافہ ہوا اور لیبر فورس کی شرکت کی شرح 61.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ یعنی زیادہ لوگ ملازمت تلاش کرنے یا کام کرنے کے لیے دوبارہ افرادی قوت میں شامل ہوئے۔
اجرتوں میں بھی سالانہ بنیاد پر 3.1 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ رفتار جولائی کے مقابلے میں معمولی کم ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ روزگار کی مضبوطی لازماً اجرتوں سے پیدا ہونے والی مہنگائی میں بڑے اضافے کا باعث نہیں بن رہی۔ تاہم مجموعی مہنگائی اب بھی فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے، اس لیے مرکزی بینک کے لیے خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ روزگار کی تصویر مکمل طور پر بے عیب بھی نہیں۔ طویل عرصے سے بے روزگار رہنے والوں کی تعداد تقریباً 1.9 ملین رہی، جبکہ بعض شعبوں میں ملازمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق انفارمیشن سیکٹر میں روزگار کم ہوا، جبکہ بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن بھی کچھ شعبوں میں ملازمتوں کی طلب کو متاثر کر رہے ہیں۔
اسی لیے وارش کے سامنے صرف ایک سوال نہیں بلکہ دو بڑے سوال ہیں: کیا مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرحِ سود بلند رکھنا ضروری ہے؟ اور کیا روزگار کی موجودہ مضبوطی مستقبل میں کمزور پڑ سکتی ہے؟
منڈیوں نے تازہ اعداد و شمار کے بعد ستمبر کے اجلاس میں شرحِ سود بڑھنے کے امکانات کو بھی زیادہ اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اب فوری کٹوتی کو یقینی نہیں سمجھ رہے۔
بالآخر وارش کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ وہ سیاسی دباؤ اور معاشی اعداد و شمار کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں۔ اگر وہ صرف روزگار کی مضبوط رپورٹ دیکھ کر شرحیں بڑھاتے ہیں تو معاشی سرگرمی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اور اگر صرف سیاسی مطالبے کو دیکھتے ہوئے شرحیں کم کرتے ہیں تو مہنگائی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔
امریکی معیشت کی اصل کہانی شاید یہی ہے: روزگار مضبوط ہے، مگر مہنگائی ختم نہیں ہوئی؛ صدر شرحِ سود میں کمی چاہتے ہیں، مگر فیڈ کو اپنے فیصلے کے معاشی نتائج دیکھنے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مہنگائی کے نئے اعداد و شمار اور فیڈ کے اشارے اس کشمکش کی سمت طے کریں گے۔
.jpg)
Comments