جنگ بندی کا کاغذ اور بموں کی زبان



 جب معاہدے الفاظ رہ جائیں

‎27 نومبر 2024 کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا تو بیروت کی گلیوں میں لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ گھروں سے نکلے، بازار کھلے، بچے اسکول کی طرف چلے — مگر یہ سکون زیادہ دیر نہ رہا۔ اقوام متحدہ نے نومبر 2024 کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل کی 10,000 سے زیادہ خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں اور سینکڑوں لبنانی شہری لقمہ اجل بنے۔

‎جنگ بندی کا معاہدہ کاغذ پر تھا — بم حقیقت میں گر رہے تھے۔

‎گھروں کو لوٹنے والوں پر گولیاں

‎26 جنوری 2025 کی صبح جنوبی لبنان کے بے گھر شہری اپنے گھروں کو لوٹنے لگے — نہتے، بے سلاح، بس اپنی مٹی کی طرف کھنچے ہوئے۔ مگر جنگ بندی کے باوجود وہاں موجود اسرائیلی فوجیوں نے ان پر گولیاں چلا دیں — کم از کم 26 افراد مارے گئے اور 147 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

‎ان میں سے ایک بھی جنگجو نہیں تھا۔ سب اپنا گھر دیکھنا چاہتے تھے۔

‎اسرائیل نے اپنی واپسی کی آخری مقررہ تاریخ پر بھی جنوبی لبنان کے پانچ سرحدی مقامات پر اپنی فوج رکھی اور پیچھے نہ ہٹا۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں روزانہ قریب قریب حملے جاری رکھے، جبکہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسے مکمل واپسی کرنی تھی۔

‎اپریل 2026 — دس منٹ کا قیامت

‎اگر کوئی ایک لمحہ ہے جس نے دنیا کو ہلا دیا، تو وہ 8 اپریل 2026 کی وہ صبح ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا — اور اسی روز، اسی وقت، اسرائیل نے لبنان پر اپنا سب سے بڑا حملہ کیا۔

‎صرف دس منٹ کے اندر اسرائیلی افواج نے لبنان بھر میں 150 سے زیادہ مقامات پر بیک وقت حملے کیے — کم از کم 303 افراد ہلاک اور 1,150 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ سینکڑوں لوگ ملبے تلے دب گئے۔ اکثر حملے بیروت کے گھنے آبادی والے رہائشی اور تجارتی علاقوں پر ہوئے۔

‎بیروت اور اس کے مضافات پر دھوئیں کے بادل چھا گئے، گھبرائے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ لبنانی ریڈ کراس کی 100 ایمبولینسیں زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں جت گئیں۔

‎لبنانی حکومت کے مطابق 2 مارچ 2026 سے اسرائیلی فوج نے لبنان میں 2,000 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا، جن میں صحت کارکن اور صحافی بھی شامل ہیں، اور 6,588 دیگر زخمی ہوئے۔ دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے — یعنی لبنان کی آبادی کا ہر پانچواں فرد۔

‎جنگ بندی کے بعد — پھر بھی خون

‎اپریل کے بعد بنائی جانے والی نئی جنگ بندی کے تیسرے ہفتے میں بھی اسرائیلی حملوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے۔ جنوبی صیدا ضلع کے قصبے الصاقصاقیہ میں ایک حملے میں ایک بچے سمیت سات افراد مارے گئے اور 15 زخمی ہوئے جن میں تین بچے تھے۔

‎جون 2026 میں نئی جنگ بندی کے چند دن بعد ہی لبنانی فوج کے تین افسران سمیت نو افراد اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہوئے — ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کیپٹن اور ایک سپاہی اس وقت مارے گئے جب ان کی گاڑی نبطیہ اور مرجعیون کو ملانے والی سڑک پر تھی۔

‎معاہدے کے ٹکڑے، خون کی لکیریں

‎لبنانی صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں "اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں" کی مذمت کی اور کہا کہ یہ سب جنگ بندی کے باوجود ہو رہا ہے — گھروں اور عبادت گاہوں کا انہدام جاری ہے، ہلاکتیں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور عام شہریوں، طبی امدادی کارکنوں اور انسانی امداد کی تنظیموں کو نشانہ بنانا بند کرے۔

‎ایک اسرائیلی تجزیہ کار اوری گولڈبرگ نے الجزیرہ کو بتایا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ ہدنے کا ڈھونگ کبھی واقعی موجود تھا۔"

‎بین الاقوامی برادری — الفاظ، بس الفاظ

‎اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیل کی اس بمباری کو "غیر قانونی جارحیت" قرار دیا اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا — مگر امریکی حکومت کی طرف سے کوئی تنقید سامنے نہیں آئی۔

‎یورپی یونین اور برطانیہ نے آواز اٹھائی، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ترک نے کہا کہ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ فریقین جنگ بندی پر سنجیدگی سے عمل کریں — مگر بیانات کی آواز بموں کی گرج میں دب جاتی ہے۔

‎لبنان کا درد — ختم نہ ہونے والا

‎لبنان ایک چھوٹا سا ملک ہے — مگر اس کا دکھ بہت بڑا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے خانہ جنگی دیکھی، پھر بم دیکھے، پھر جنگ بندی کے وعدے دیکھے — اور پھر ان وعدوں کو ٹوٹتے دیکھا۔

‎آج لبنان کی ہر گلی میں ایک سوال گونجتا ہے — جنگ بندی کا مطلب کیا ہے، اگر بم پھر بھی گرتے رہیں؟ معاہدے کا کیا فائدہ، اگر کاغذ پر دستخط ہوں اور آسمان سے آگ برسے؟

‎جنگ بندی ایک لفظ ہے — لبنان کی ماؤں کے لیے یہ لفظ ابھی معنی نہیں رکھتا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا