چین کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے دورے کے بعد تائیوان کے ساتھ کچھ تعلقات بحال کرے گا۔
چین کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے دورے کے بعد تائیوان کے ساتھ کچھ تعلقات بحال کرے گا۔ بیجنگ کے عظیم الشان عوامی ہال میں دو ہاتھ ملے، اور ایسا لگا جیسے تاریخ نے ایک لمبے وقفے کے بعد سانس لی ہو۔ 10 اپریل 2026 کی صبح، چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کی اپوزیشن لیڈر چینگ لی وون کا استقبال کیا—یہ وہ ہاتھ تھے جو ستر سال سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے مخالف تھے، آج امید کی نئی صبح لے کر مل رہے تھے ۔ چینگ لی وون، قومیت پسند جماعت (KMT) کی چیئرپرسن، چھ روزہ "امن مشن" پر چین آئی تھیں ۔ ان کے کندھوں پر نہ صرف اپنی پارٹی کا بوجھ تھا، بلکہ 24 ملین تائیوانی عوام کی امیدوں کا بوجھ بھی۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ دورہ آسان نہیں ہوگا—ایک طرف چین کی "ایک چین" پالیسی کی سخت گیریاں، دوسری طرف تائیوان کی حکمران جماعت (DPP) کی تنقید کہ وہ "غدار" بن کر بیجنگ جا رہی ہیں۔ لیکن چینگ نے کہا، "جنگ نہیں، بات چیت چاہیے"۔ ان کے الفاظ میں وہی پرانی چینی حکمت تھی جو کہتی ہے—"پل بنانے والے کو پتھر بھی پھول نظر آتے ہیں"۔ دو دن بعد، 12 اپریل 2026 کو، چین نے اعلان کیا ...