Posts

چین کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے دورے کے بعد تائیوان کے ساتھ کچھ تعلقات بحال کرے گا۔

Image
 چین کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے دورے کے بعد تائیوان کے ساتھ کچھ تعلقات بحال کرے گا۔ ‎بیجنگ کے عظیم الشان عوامی ہال میں دو ہاتھ ملے، اور ایسا لگا جیسے تاریخ نے ایک لمبے وقفے کے بعد سانس لی ہو۔ 10 اپریل 2026 کی صبح، چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کی اپوزیشن لیڈر چینگ لی وون کا استقبال کیا—یہ وہ ہاتھ تھے جو ستر سال سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے مخالف تھے، آج امید کی نئی صبح لے کر مل رہے تھے ۔ ‎ ‎چینگ لی وون، قومیت پسند جماعت (KMT) کی چیئرپرسن، چھ روزہ "امن مشن" پر چین آئی تھیں ۔ ان کے کندھوں پر نہ صرف اپنی پارٹی کا بوجھ تھا، بلکہ 24 ملین تائیوانی عوام کی امیدوں کا بوجھ بھی۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ دورہ آسان نہیں ہوگا—ایک طرف چین کی "ایک چین" پالیسی کی سخت گیریاں، دوسری طرف تائیوان کی حکمران جماعت (DPP) کی تنقید کہ وہ "غدار" بن کر بیجنگ جا رہی ہیں۔ ‎ ‎لیکن چینگ نے کہا، "جنگ نہیں، بات چیت چاہیے"۔ ان کے الفاظ میں وہی پرانی چینی حکمت تھی جو کہتی ہے—"پل بنانے والے کو پتھر بھی پھول نظر آتے ہیں"۔ ‎ ‎دو دن بعد، 12 اپریل 2026 کو، چین نے اعلان کیا ...

امریکہ اور ایران کے براہ راست مذاکرات طویل مذاکرات کے بعد بھی کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

Image
 12 اپریل 2026 کی شام، اسلام آباد کے سرینا ہوٹل سے ایک مایوس کن خبر سامنے آئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 40 سال میں پہلی براہ راست مذاکرات، جو 12 گھنٹے سے زائد جاری رہے، کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ یہ مذاکرات، جنہیں مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ کن لمحہ قرار دیا جا رہا تھا، اب ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بنتے نظر آ رہے ہیں۔ ‎ ‎مذاکرات کا پس منظر اور اہمیت ‎ ‎یہ مذاکرات 11 اپریل 2026 کو پاکستان میں شروع ہوئے تھے، جو 40 روزہ امریکا-ایران جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت کا موقع تھا۔ امریکی نائب صدر JD وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد شرکت کر رہا تھا، جبکہ ایران کی طرف سے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔ ‎ ‎صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل 2026 کو ایک دو ہفتہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ سفارتی کوششیں شروع ہوئی تھیں۔ پاکستان نے ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، جسے دونوں فریقین نے قبول کیا۔ ‎ ‎مذاکرات میں سامنے آنے والے اختلافات ‎ ‎مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ واضح طور پر سامنے آیا۔ امریکا کا 15 ن...

ایران کے ساتھ امن مذاکرات سے قبل امریکی مذاکرات کار پاکستان پہنچ گئے۔

Image
 امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات سے قبل امریکی مذاکرات کاروں کا پاکستان پہنچنا بظاہر ایک سفارتی معمول لگ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی بساط پر چال ہے—ایسی چال جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ‎ ‎پاکستان کا انتخاب بطور میزبان یا عبوری اسٹیشن محض اتفاق نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل ترین سفارتی حالات میں پل کا کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ افغان امن عمل ہو یا چین اور امریکہ کے درمیان خفیہ سفارتکاری، اسلام آباد نے اکثر ایسے مواقع پر ایک “خاموش سہولت کار” کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ اس بار بھی حالات کچھ مختلف نہیں لگتے۔ ‎ ‎امریکی مذاکرات کاروں کی آمد ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیل اور ایران کے درمیان پراکسی محاذ آرائی، اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات—یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایسے میں براہِ راست مذاکرات کا آغاز ایک مشکل مرحلہ ہو سکتا ہے، اور یہی وہ جگہ...

‎لبنان پر حملہ

Image
 لبنان پر حملہ   ‎لبنان پر حملہ — ایک انسانی المیہ، ایک سیاسی داستان ‎مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر بارود کی بو میں لپٹی ہوئی ہے۔ لبنان، جو کبھی اپنی خوبصورتی، ثقافت اور زندگی کی رنگینیوں کے لیے جانا جاتا تھا، آج خوف، تباہی اور غیر یقینی کے سائے میں کھڑا ہے۔ حالیہ حملوں نے نہ صرف عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا ہے بلکہ انسانوں کے دلوں میں امید کے چراغ بھی مدھم کر دیے ہیں۔ ‎ ‎یہ حملے صرف فوجی کارروائیاں نہیں ہیں؛ یہ انسانی زندگیوں پر گہرے زخم ہیں۔ جب ایک میزائل فضا کو چیرتا ہوا کسی شہر پر گرتا ہے، تو وہ صرف اینٹوں اور پتھروں کو نہیں توڑتا بلکہ خاندانوں کو بکھیر دیتا ہے، خوابوں کو روند دیتا ہے اور آنے والے کل کی امید کو بھی خاک میں ملا دیتا ہے۔ لبنان کے عام شہری، جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور روزمرہ کی مشکلات سے نبرد آزما تھے، اب ایک نئی آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ ‎ ‎بیروت کی گلیاں، جو کبھی زندگی سے بھرپور ہوا کرتی تھیں، اب سنسانی کی تصویر پیش کر رہی ہیں۔ بچوں کی ہنسی کی جگہ سائرن کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، اور کھیل کے میدان اب پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ...

وینس ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے روانہ ہوئے کیونکہ لبنان میں تعطل نے جنگ بندی کی دھمکی دی ہے۔

Image
 وینس ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے روانہ ہوئے کیونکہ لبنان میں تعطل نے جنگ بندی کی دھمکی دی ہے۔ ‎مشرق وسطیٰ کے تازہ ترین خطے میں ایک نیا باب کھلنے کو ہے جب امریکی نائب صدر JD وینس پاکستان کے لیے روانہ ہوئے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ اہم مذاکرات کا آغاز کر سکیں۔ تاہم، یہ سفارتی مشن ایک ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ‎ ‎مذاکرات کا پس منظر ‎ ‎یہ مذاکرات 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جو کہ ایک غیر متوقع ثالث کی حیثیت سے پاکستان کی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے، جو کہ ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ ‎ ‎یہ مذاکرات ایک دو ہفتہ کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد شروع ہو رہے ہیں، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل 2026 کو کیا تھا۔ تاہم، اس جنگ بندی کی نوعیت اور دائرہ کار کو لے کر امریکا اور ایران کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ‎ ‎لبنان: جنگ بندی کا تنازعہ ‎ ‎ایران کا موقف ہے ...

اسرائیل نے لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے لوگوں کو بھاگنے کا حکم دیا۔

Image
 اسرائیل نے لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے لوگوں کو بھاگنے کا حکم دیا۔ ‎لبنان کی سرزمین پر ایک بار پھر تباہی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کر دیں اور شمال کی جانب نقل مکانی کریں۔ یہ وارننگ اس وقت دی گئی جب اسرائیل نے مزید وسیع فوجی کارروائیوں کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ ‎ نقل مکانی کا جبری حکم ‎ ‎اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویچے ادرعی نے ایک بیان میں کہا کہ "جو بھی افراد حزب اللہ کے جنگجوؤں، تنصیبات یا ہتھیاروں کے قریب موجود ہیں، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جنوب کی جانب کوئی بھی نقل و حرکت آپ کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔" ‎ ‎یہ حکم صرف ماضی کی کارروائیوں کی تکرار نہیں بلکہ ایک نئی اور وسیع تر فوجی مہم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 25 دیہات کے رہائشیوں کو فوری طور پر عوالی دریا کے شمال میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ علاقہ لیتانی دریا سے بھی شمالی طرف ہے، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے تحت حزب اللہ کی موجودگی کی حد مقرر کی گئی تھ...

اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے جب ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی 'منت کی'

Image
 منت کی آواز: لبنان  ‎شام کا سورج لبنان کے آسمان پر خون کی طرح سرخ تھا۔ بیروت کی گلیوں میں آگ کی لپٹیں چاند کی طرح روشن تھیں، لیکن یہ چاند کسی عید کا پیغام نہیں، بلکہ موت کا پیغام لے کر آیا تھا۔ اسرائیلی طیاروں نے دارالحکومت پر ایسے حملے کیے جیسے آسمان سے آگ برس رہی ہو۔ لبنانی ریڈ کراس کے مطابق صرف ایک دن میں 300 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، اور ملبے تلے اب بھی سینکڑوں جانیں دبھی پڑی تھیں ۔ ‎ ‎یہ 8 اپریل 2026 کی شام تھی۔ ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبریں گردش کر رہی تھیں، دوسری طرف لبنان کا سر اٹھانا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح اعلان کر دیا تھا: "ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا" ۔ یہ دوہرا کھیل تھا—ایک طرف امن کا ڈھول بجانا، دوسری طرف آگ کی ہولی کھیلنا۔ ‎ ‎امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں فخر سے اعلان کیا: "ایران نے جنگ بندی کی منت کی، یہ ہم سب جانتے ہیں" ۔ ان کے الفاظ میں وہی امریکی غرور تھا جو مشرق وسطیٰ کو برسوں سے اپنے پاؤں تلے روندتا آیا ہے۔ ان کا کہنا ت...