ہرمز کی امریکی ناکہ بندی نے جنگ بندی کا امتحان لیا ہے۔
ہرمز کی امریکی ناکہ بندی نے جنگ بندی کا امتحان لیا ہے۔ ہرمز کی ناکہ بندی: جنگ بندی کا امتحان ایک انسانی داستان امید، خوف اور سفارت کاری کی ناکامی کی 14 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج ہرمز آبادی کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک سایہ بھی پھیلا—امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کا سایہ۔ یہ وہ ناکہ بندی تھی جو اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد لگائی گئی تھی، اور یہ جنگ بندی کا سب سے سخت امتحان تھا ۔ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ "فوری طور پر، امریکی بحریہ، دنیا کی بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل یا خارج ہونے والے ہر جہاز کی ناکہ بندی شروع کرے گی" ۔ لیکن اس بار یہ مختلف تھا—یہ ناکہ بندی ایک عارضی جنگ بندی کے دوران لگائی گئی تھی، جو 8 اپریل سے شروع ہوئی تھی اور 22 اپریل تک جاری تھی ۔ یہ امتحان تھا کہ آیا دو دشمن ایک دوسرے پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ آیا لفظوں کی جگہ عمل لے سکتا ہے؟ لیکن 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ "ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا"، تو معاہدے کی جگہ ناکہ بندی کا اعلان ہوا ۔ ...