Posts

امریکہ کے ناراض ووٹرز الیون کے ساتھ ٹرمپ کی اعلیٰ سطحی ملاقات میں X عنصر ہیں۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎امریکہ کے ناراض ووٹرز، الیون کے ساتھ ٹرمپ کی اعلیٰ سطحی ملاقات میں “X عنصر” بن گئے ‎ ‎دنیا کی سیاست میں بعض ملاقاتیں صرف سفارتی کیلنڈر کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والے اشارے بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک غیر معمولی ملاقات اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جہاں سابق امریکی صدر Donald Trump نے “الیون” کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی رابطہ قائم کیا۔ بظاہر یہ ملاقات بین الاقوامی تعلقات، تجارت اور طاقت کے توازن کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے پیچھے ایک ایسا عنصر موجود ہے جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے — اور وہ ہیں امریکہ کے ناراض ووٹرز۔ ‎ ‎امریکی سیاست اس وقت ایک عجیب بے چینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مہنگائی، روزگار کا دباؤ، صنعتی زوال، تارکین وطن کے مسائل اور عالمی جنگوں میں امریکی کردار نے عام شہری کو ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔ وہ ووٹر جو کبھی امریکہ کے عالمی غلبے پر فخر کرتے تھے، اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر ان کی اپنی زندگی کیوں مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ‎ ‎یہی وہ ماحول ہے جس میں ٹرمپ دوبارہ عالمی اسٹیج پر سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کی ہر ملاقات،...

جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پاکستان امریکی ایران ڈپلومیسی کو بچانے کے لیے لڑ رہا ہے

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پاکستان، امریکی۔ایران ڈپلومیسی کو بچانے کے لیے متحرک ‎ ‎دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضا میں بارود کی بو پھیل رہی ہے، سفارتی راہداریوں میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے، اور عالمی طاقتیں ایک ایسی کشمکش کے گرد جمع ہو رہی ہیں جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے نے نہ صرف خطے کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عالمی سفارت کاری کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ‎ ‎ایسے حساس وقت میں پاکستان ایک بار پھر خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی کوشش ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مکمل تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان ٹوٹتے ہوئے سفارتی پل کو کسی نہ کسی طرح قائم رکھا جائے۔ ‎ ‎پاکستان کے لیے یہ صورتحال صرف ایک خارجی معاملہ نہیں۔ اس بحران کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت، سلامتی، توانائی اور خطے میں اس کے سفارتی کردار پر پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قیادت اس معاملے کو محض دور بیٹھ کر دیکھنے کے بجائ...

سنگاپور سے برسلز تک، عالمی رہنما ٹرمپ الیون سربراہی ملاقات

Image
 سنگاپور سے برسلز تک، عالمی رہنما ٹرمپ الیون سربراہی ملاقات  ‎بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎سنگاپور سے برسلز تک، عالمی رہنما اور “ٹرمپ الیون” سربراہی ملاقات ‎ ‎دنیا ایک نئے سفارتی دوراہے پر ‎ ‎دنیا کی سیاست میں کچھ ملاقاتیں صرف تصویروں، مصافحوں اور مشترکہ بیانات تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ وہ آنے والے برسوں کی عالمی سمت متعین کرتی ہیں۔ آج جب دنیا معاشی بے یقینی، جنگی خدشات، توانائی کے بحران، مصنوعی ذہانت کی دوڑ اور بدلتی ہوئی عالمی طاقتوں کے درمیان تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں “ٹرمپ الیون” سربراہی ملاقات نے بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ‎ ‎سنگاپور سے لے کر برسلز تک، دنیا کے کئی بڑے رہنما ایک ایسے سیاسی منظرنامے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں جہاں ایک بار پھر امریکی سیاست کے مرکز میں Donald Trump موجود ہیں۔ اگرچہ اس ملاقات کا نام غیر رسمی انداز میں “ٹرمپ الیون” رکھا گیا، مگر اس کے اثرات رسمی سفارتی اجلاسوں سے کہیں زیادہ گہرے دکھائی دے رہے ہیں۔ ‎ ‎یہ محض ایک سیاسی اجتماع نہیں تھا، بلکہ عالمی طاقتوں کی سوچ، خوف، امیدوں اور مفادات کا ایک غیر اعلانیہ امتحان بھی تھا۔ یورپ، ای...

صدر زرداری نے اپنے روسی ہم منصب کو یوم فتح پر مبارکباد دی۔

Image
 صدر زرداری نے اپنے روسی ہم منصب کو یوم فتح پر مبارکباد دی۔ ‎بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎دنیا کے سیاسی منظرنامے میں کچھ مواقع صرف رسمی تقریبات نہیں ہوتے، بلکہ وہ تاریخ، تعلقات اور سفارت کاری کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک موقع اس وقت سامنے آیا جب Asif Ali Zardari نے روس کے صدر Vladimir Putin کو “یومِ فتح” کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔ یہ پیغام بظاہر مختصر تھا، مگر اس کے اندر کئی سفارتی اشارے اور مستقبل کی امیدیں پوشیدہ تھیں۔ ‎ ‎یومِ فتح، جسے روس میں “Victory Day” کہا جاتا ہے، ہر سال 9 مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔ روس کے لیے یہ دن صرف ایک قومی جشن نہیں بلکہ قربانی، اتحاد اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر کے رہنما روسی قیادت کو مبارکباد دیتے ہیں تاکہ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ‎ ‎صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بھیجے گئے تہنیتی پیغام کو ماہرین سفارت کاری ایک اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان اور روس کے تعلقات ماضی میں اتنے مضبوط نہیں تھے جتنے آج نظر آتے ...

آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد امریکا ایران جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔

Image
  آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد امریکا ایران جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔ ‎بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے حساس ترین سمندری راستے، یعنی آبنائے ہرمز، میں حالیہ فائرنگ کے تبادلے نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی نازک جنگ بندی کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عالمی طاقتیں پہلے ہی خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی، توانائی کے بحران اور فوجی محاذ آرائی کے امکانات سے پریشان تھیں۔ ‎ ‎آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والا ہر چھوٹا واقعہ بھی عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سیاست پر فوری اثر ڈالتا ہے۔ حالیہ فائرنگ کے تبادلے نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اب بھی انتہائی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ‎ ‎اطلاعات کے مطابق، امریکی بحریہ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بحری یونٹس کے درمیان اس وقت کشیدگی پی...

پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی توقع ہے 'جلد کی بجائے': ایف او

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎دنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ کم اور اشارے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ سفارتی بیانات بظاہر مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر چھپی ہوئی حکمت عملی پورے خطے کے مستقبل کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے حالیہ بیان بھی کچھ ایسا ہی ہے، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی توقع ہے، لیکن یہ پیش رفت “جلد کی بجائے” وقت لے سکتی ہے۔ ‎ ‎یہ صرف ایک سفارتی جملہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ، عالمی طاقتوں، توانائی کی سیاست اور خطے کے امن سے جڑی کئی پرتیں موجود ہیں۔ اسلام آباد بخوبی جانتا ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، خصوصاً پاکستان پر بھی براہِ راست پڑتے ہیں۔ ‎ ‎پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے نہایت محتاط انداز میں اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس عمل میں جلد بازی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اس بیان میں دراصل سفارتی حقیقت پسندی جھلکتی ہے، ...

ٹرمپ کے دورہ بیجنگ سے ایک ہفتہ قبل ایرانی وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب سے ملاقات کی۔

Image
 ٹرمپ کے دورہ بیجنگ سے ایک ہفتہ قبل ایرانی وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب سے ملاقات کی۔ ‎بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎السلام علیکم! ‎آپ دیکھ رہے ہیں GNews — اور آج ہم بات کرنے جا رہے ہیں ایک ایسی ملاقات کی… جو بظاہر ایک معمول کی سفارتی سرگرمی لگتی ہے، لیکن اس کے اثرات عالمی سیاست کے نقشے کو بدل سکتے ہیں۔ ‎ ‎جی ہاں… Donald Trump کے دورۂ بیجنگ سے صرف ایک ہفتہ قبل، ایران کے وزیر خارجہ کی چین کے وزیر خارجہ Wang Yi سے ملاقات نے دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کو چونکا دیا ہے۔ ‎ ‎ذرا تصور کریں… ‎بیجنگ کے ایک پُرسکون مگر انتہائی محفوظ کمرے میں دو اہم رہنما آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ باہر دنیا بے خبر ہے… لیکن اندر ہونے والی گفتگو آنے والے دنوں کی سمت طے کر رہی ہے۔ ‎ ‎یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی… یہ ایک پیغام تھا۔ ‎ ‎ناظرین! ‎جب بھی عالمی طاقتیں حرکت میں آتی ہیں، تو اس کے پیچھے کئی پرتیں ہوتی ہیں۔ اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے، جو ہمیشہ سے عالمی سیاست کا سب سے بڑا کھلاڑی رہا ہے۔ دوسری طرف چین ہے، جو تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ اور تیسری طرف ایران… جو پابندیوں، دباؤ اور تنہائی کے باوجود...