جی پی یو — امریکہ کا نیا سفارتی ہتھیار
جب چِپ سیاست بن جائے ایک وقت تھا جب طاقتور ملک اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے فوجی اڈے دیتے تھے، تیل کی پائپ لائنیں بچھاتے تھے، یا قرضوں کے جال بُنتے تھے۔ آج 2026 میں منظر نامہ بدل گیا ہے — امریکہ کا سب سے طاقتور سفارتی ہتھیار نہ بندوق ہے، نہ ڈالر — بلکہ ایک چھوٹا سا کمپیوٹر چِپ ہے جسے جی پی یو کہتے ہیں۔ جو ملک یہ چِپ پاتا ہے، وہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے نکل سکتا ہے۔ جو نہیں پاتا، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ اور واشنگٹن کو یہ بات خوب معلوم ہے۔ بائیڈن نے بند کیا، ٹرمپ نے کھولا — مگر اپنی شرطوں پر جنوری 2025 میں بائیڈن انتظامیہ نے "اے آئی ڈفیوژن رول" نافذ کیا — ایک ایسا قانون جس نے دنیا کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس قانون کے تحت 100 سے زیادہ ممالک کو اعلیٰ طاقت کے اے آئی چِپس کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی اور جاپان سمیت 18 قریبی اتحادیوں کو مستثنیٰ رکھا گیا۔ یہ محض تجارتی پالیسی نہیں تھی — یہ ایک نئی عالمی تقسیم کا اعلان تھا۔ تم ہمارے دوست ہو تو چِپ ملے گی، دشمن ہو تو نہیں۔ پھر ٹرمپ آئے، اور انہوں نے حکمت عملی بدل دی — م...