Posts

ٹرمپ نے ایف ڈی اے کی قیادت کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے مشیر اوورٹن کو ٹیپ کیا۔

Image
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈاکٹر ہائیڈی اوورٹن کو فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی سربراہی کے لیے نامزد کرنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ امریکی صحت پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ ایف ڈی اے ایسا ادارہ ہے جس کے فیصلے براہِ راست ادویات، ویکسینز، طبی آلات، غذائی مصنوعات اور جدید علاج سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس لیے اس ادارے کی قیادت میں تبدیلی واشنگٹن تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیڈی اوورٹن کا نام ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ڈومیسٹک پالیسی کونسل میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں اور انتظامیہ کی صحت سے متعلق پالیسیوں سے گہری واقفیت رکھتی ہیں۔ ان کا طبی اور تحقیقی پس منظر بھی قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے نیو میکسیکو یونیورسٹی سے میڈیکل ڈگری حاصل کی، جبکہ جانز ہاپکنز میں سرجری کی تربیت کے ساتھ کلینیکل انویسٹی گیشن میں پی ایچ ڈی بھی مکمل کی۔ یعنی ان کے سامنے صرف سیاست کا تجربہ نہیں بلکہ طب، تحقیق اور صحت پالیسی کا ایک امتزاج موجود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہی خصوص...

جنگ کا بوجھ: یوکرین تنازع نے روسی معاشرے کو کہاں لا کھڑا کیا؟

Image
 روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو اکثر میزائلوں، ٹینکوں، فوجی کارروائیوں اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، لیکن اس جنگ کی ایک ایسی تصویر بھی ہے جو خبروں کی سرخیوں سے بہت دور ہے۔ یہ تصویر عام روسی شہری کی ہے، جو اپنے گھر، روزگار، خاندان اور مستقبل کے بارے میں مسلسل بے یقینی کا شکار ہے۔ یوکرین کی جنگ اب محض دو ریاستوں کے درمیان ایک عسکری تنازع نہیں رہی، بلکہ اس نے روسی معاشرے کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ ‎ ‎1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس ایک ایسے دور میں داخل ہوا تھا جسے معاشی مشکلات، بے روزگاری، سیاسی انتشار اور شناخت کے بحران نے گھیر رکھا تھا۔ بہت سے روسیوں کے لیے وہ دور ایک اجتماعی صدمے کی حیثیت رکھتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ روس نے اپنی معیشت کو سنبھالا، عالمی سیاست میں دوبارہ اثر و رسوخ حاصل کیا اور ایک نئی قومی شناخت بنانے کی کوشش کی۔ مگر یوکرین کی جنگ نے ایک بار پھر روسی معاشرے میں مستقبل کے حوالے سے گہری بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ ‎ ‎سب سے زیادہ اثر عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر پڑا ہے۔ ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ جیسے بڑے شہروں میں رہن...

پاکستان کی ڈیجیٹل شاہراہ پر بڑا سنگِ میل: اسلام آباد میں گوگل کے دفتر کا افتتاح

Image
  پاکستان کی ترقی کی کہانی اب صرف نئی سڑکوں، پلوں، فیکٹریوں اور عمارتوں تک محدود نہیں رہی۔ آج دنیا میں کسی ملک کی اصل طاقت اس بات سے بھی جانچی جاتی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور جدید کاروباری مواقع کے میدان میں کہاں کھڑا ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں گوگل کے دفتر کا افتتاح پاکستان کے لیے ایک اہم اور امید افزا پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ‎ ‎وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گوگل کے پاکستان میں باقاعدہ دفتر کا افتتاح ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک اپنی معیشت کو روایتی شعبوں سے آگے لے جانے اور آئی ٹی کو آمدنی، روزگار اور برآمدات کا بڑا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تقریب میں گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت نے بھی اس پیش رفت کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ ‎ ‎یہ دفتر صرف ایک عمارت یا چند دفاتر کا مجموعہ نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ دنیا کی ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی نے پاکستان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں نوجوان کمپیوٹر، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ اور مص...

سیاسی ہوا کا رخ اور وائٹ ہاؤس کے سامنے ابھرتے نئے چیلنجز

Image
 امریکی سیاست میں حالات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں، اس کا اندازہ آج کے سیاسی منظرنامے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے کسی بھی صدر کے لیے سب سے بڑا امتحان صرف مخالف سیاسی جماعت نہیں ہوتی، بلکہ عوام کا بدلتا ہوا مزاج بھی ہوتا ہے۔ حالیہ رائٹرز/ایپسوس سروے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اسی بدلتی ہوئی سیاسی فضا کی ایک واضح تصویر پیش کی ہے۔ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت گر کر 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ان کے موجودہ دورِ صدارت کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے، جبکہ 64 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ ‎ ‎یہ اعداد و شمار محض سیاسی بحث کا حصہ نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ بھی سمجھے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی مقبولیت کو اس مقام تک پہنچا دیا؟ ‎ ‎ایران جنگ اور خارجہ پالیسی کا دباؤ ‎ ‎ٹرمپ کی سیاست کا ایک اہم وعدہ یہ تھا کہ امریکہ کو غیر ضروری بیرونی جنگوں سے دور رکھا جائے گا۔ ان کے حامیوں کو امید تھی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں امریکہ کی براہِ راست شمولیت کم کریں گے۔ لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور ...

آبنائے ہرمز: خاموش لہروں کے نیچے امریکہ اور ایران کی کشیدگی

Image
 آبنائے ہرمز کی نیلی لہریں بظاہر پرسکون دکھائی دیتی ہیں، مگر ان پرسکون لہروں کے نیچے ایک ایسی کشیدگی موجود ہے جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی سیاست، تجارت اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملانے والی یہ اہم سمندری گزرگاہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش کا ایک حساس مرکز بنی ہوئی ہے۔ ‎ ‎یہاں سے گزرنے والے ہر بڑے تجارتی جہاز کے ساتھ صرف تیل یا سامان ہی سفر نہیں کرتا، بلکہ عالمی معیشت کی ایک بڑی امید بھی جڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو دنیا کی نظریں فوراً آبنائے ہرمز کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ کسی بحری جہاز کی گرفتاری، کسی ڈرون کا گرایا جانا یا سمندر میں دونوں ممالک کی افواج کا آمنے سامنے آ جانا معمولی واقعہ نہیں رہتا، بلکہ اس کے سفارتی نتائج بہت دور تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ‎ ‎امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی اعتماد کے شدید بحران کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے سیاسی اختلافات، جوہری پروگرام، معاشی پابندیوں اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایسے ماحول...

ٹیکساس کے تاریخی پارک میں سرحد پر باڑ کا تنازع، ‎مقامی ماحول اور تحفظ پر ایک نظر

Image
 امریکا میں سرحد اور اس کی حفاظت کے حوالے سے جاری بحث نے اکثر وہاں کے مقامی ماحول اور کمیونٹیز پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ٹیکساس کے جنوبی حصے میں واقع بگ بینڈ نیشنل پارک (Big Bend National Park) امریکی اور میکسیکن سرحد کے ساتھ کا ایک ایسا خوبصورت علاقہ ہے، جہاں فطری خوبصورتی، وسیع صحرا اور پہاڑی سلسلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکی سرحد پر لمبی باڑ یا دیوار کی تعمیر کے منصوبے کو بڑی توجہ ملی، تاہم بگ بینڈ جیسے حساس ماحولیاتی خطے میں اس منصوبے کے آغاز پر پیدا ہونے والی تشویش اور قانونی رکاوٹوں کے بعد اقدامات کو عارضی طور پر روکنے کی خبریں سامنے آتی رہیں۔ ‎امریکی سرحد کی حفاظت کا تنازع محض سیاست تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ وہاں کی جنگلی حیات، قدرتی ذرائع اور مقامی معیشت سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بگ بینڈ نیشنل پارک سرحد پر واقع ایک ایسا مقام ہے جہاں 'ریو گرانڈے' (Rio Grande) ندی امریکا اور میکسیکو کو جدا کرتی ہے۔ اس ندی کے اطراف کا یہ علاقہ نہ صرف جنگلی حیات اور پرندوں کے لیے مسکن ہے، بلکہ سیاحت کا ایک بڑا مرکز بھی ہے جہاں ہر سال لاکھوں لوگ آفتاب عالم تاب ...

نیویارک شہر پر حملے کے بعد ممدانی کو تنقید کا سامنا ہے۔

Image
 نیویارک جیسے شہر میں سیاست کبھی خاموش نہیں ہوتی۔ یہ شہر صرف بلند عمارتوں، مصروف سڑکوں اور مختلف ثقافتوں کا مرکز نہیں بلکہ مختلف نظریات اور سیاسی سوچوں کا بھی ایک بڑا میدان ہے۔ یہاں کسی بھی بڑے واقعے کے بعد بحث صرف واقعے تک محدود نہیں رہتی بلکہ فوراً یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ منتخب نمائندوں نے کیا کیا، کیا کہا اور مشکل وقت میں ان کا ردعمل کیسا تھا۔ زہران ممدانی بھی اسی سیاسی ماحول میں ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کے نظریات نے خاص طور پر ترقی پسند سیاست کے حلقوں میں نمایاں جگہ بنائی ہے۔ ‎ ‎حالیہ بحران اور حملے کے تناظر میں ممدانی کو جس سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس نے ایک بار پھر نیویارک کی سیاست میں سلامتی اور اصلاحات کے درمیان موجود بنیادی اختلاف کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جب شہر کسی حملے، تشدد یا بڑے سیکورٹی بحران سے دوچار ہو تو عوام کو سب سے پہلے تحفظ، قانون کی بالادستی اور ریاستی اداروں کی مضبوط موجودگی کا یقین چاہیے۔ ایسے وقت میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کے بارے میں سخت یا اصلاح پسندانہ موقف بعض لوگوں کو غیر موزو...