Posts

اسرائیلی فوجیوں نے اسٹریٹجک بیفورٹ کیسل پر قبضہ کر لیا، لبنان میں پیش قدمی تیز

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎جنوبی لبنان کی پہاڑیوں میں واقع تاریخی بیفورٹ کیسل ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے اس اہم اور اسٹریٹجک مقام پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ وہ لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کر رہے ہیں۔ یہ خبر صرف ایک فوجی کارروائی کی اطلاع نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی خدشات، سوالات اور جذبات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ‎ ‎بیفورٹ کیسل ایک قدیم قلعہ ہے جو صدیوں سے علاقے کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ بلند مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے اردگرد کے وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی نقطۂ نظر سے اس کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہی ہے۔ ‎ ‎جب کسی تنازعے میں ایسے تاریخی اور نمایاں مقامات شامل ہو جاتے ہیں تو خبر کا اثر صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں رہتا۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ جگہ ان کی تاریخ اور شناخت کا حصہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اس قلعے پر قبضے کی خبر لبنان کے بہت سے شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ‎ ‎اسرائیلی فوج کی پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورا خطہ پہلے ہی مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ غزہ کی صورتحال، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، ...

ٹرمپ نے ایران جنگ بندی پر فیصلہ کرنے کے لیے صورتحال کے کمرے کا اجلاس طلب کر لیا

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎رات کے اندھیرے میں جب وائٹ ہاؤس کے صورتحال کے کمرے کی روشنیاں جلتی ہیں تو دنیا بھر کے لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق جنگ بندی کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، اور یہ خبر صرف سیاسی حلقوں میں نہیں بلکہ عام انسانوں کے دلوں میں بھی تشویش پیدا کر رہی ہے۔ ‎ ‎جنگ کا لفظ ہمیشہ خوف لے کر آتا ہے۔ یہ صرف ہتھیاروں کی گھن گرج نہیں ہوتی بلکہ ماں کی بے چینی، بچوں کی سسکیاں اور مستقبل کے خوابوں کا بکھر جانا بھی ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا بوجھ اٹھا چکا ہے، اور وہاں کے لوگ مزید تباہی نہیں چاہتے۔ ‎ ‎آج جب امریکی قیادت ایک اہم فیصلے کے دہانے پر کھڑی ہے تو دنیا دعا کر رہی ہے کہ عقل، بردباری اور امن کو ترجیح دی جائے۔ کیونکہ ایک غلط فیصلہ صرف ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ‎ ‎ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات نئے نہیں، مگر ہر تنازعے کے باوجود امید ہمیشہ زندہ رہی ہے۔ امید کہ ایک دن مذاکرات بندوقوں پر غالب آئیں گے، اور سفارت کاری دشمنی کی دیواروں کو گرا دے گی۔ یہی امید آج...

چین کے اعلیٰ سفارت کار کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ امریکہ اور ایران سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔ ‎

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں چین کے اعلیٰ سفارت کار کا یہ بیان کہ “امید ہے امریکہ اور ایران کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے” ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بیان محض رسمی سفارت کاری نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ خطہ مزید جنگ، معاشی تباہی اور سیاسی بحران کا شکار نہ ہو۔ ‎ ‎چین نے ہمیشہ خود کو ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے جو تنازعات کے بجائے مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں بیجنگ نے نہ صرف معاشی میدان میں اپنی طاقت بڑھائی بلکہ عالمی سفارت کاری میں بھی زیادہ متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کی ثالثی نے دنیا کو حیران کیا تھا۔ اب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے چین کی دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ بیجنگ خطے میں استحکام کو اپنی معاشی اور سیاسی حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم سمجھت...

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں کیا شامل ہے؟

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ صرف چند سفارتی فیصلوں کا رہ گیا ہے۔ ایران سے متعلق جاری کشیدگی، چاہے وہ امریکہ کے ساتھ ہو، اسرائیل کے ساتھ ہو یا خلیجی ممالک کے ساتھ، اب صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور انسانی زندگیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کی نظریں ان مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے یا کم از کم کشیدگی میں کمی کا راستہ بن سکتے ہیں۔ ‎ ‎ایران کے حوالے سے جاری مذاکرات میں سب سے اہم نکتہ اس کے جوہری پروگرام کا ہے۔ مغربی ممالک خصوصاً امریکہ اور یورپی طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو محدود کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف اشارہ دیتے ہوں۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت ایٹمی توانائی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ ‎ ‎یہی اختلاف کئی برسوں سے کشیدگی کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ امید کی ایک کرن سمجھا گیا تھا...

‎ہرمز میں امریکی حملہ

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎آج کا مطلع ابر آلود نہیں، بلکہ بارود کی بو سے بوجھل ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، جو صدیوں سے عالمی معیشت کی شہ رگ اور بین الاقوامی پانیوں کا ایک پرامن راستہ رہی ہے، آج ایک بار پھر خون اور آگ کی لپیٹ میں ہے۔ امریکی عسکری طاقت کے حالیہ حملے نے نہ صرف خطے کے پانیوں کو سرخ کر دیا ہے، بلکہ ان تمام دعووں کی قلعی بھی کھول دی ہے جو عالمی امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے نام پر کیے جاتے تھے۔ ‎ ‎یہ کوئی عام فوجی کارروائی نہیں ہے؛ یہ ایک ایسی چنگاری ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک اور بے قابو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ جب گرجتے ہوئے امریکی طیاروں اور بحری جہازوں سے داغے گئے میزائل ہرمز کے پانیوں پر گرے، تو ان کا نشانہ صرف چند فوجی یا سٹریٹجک اہداف نہیں تھے، بلکہ اس حملے نے خطے کے کروڑوں انسانوں کے امن، سکون اور مستقبل کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ ‎ ‎طاقت کا تکبر اور مظلومیت کی چیخیں ‎ ‎کسی بھی ملک کی خودمختاری پر اس طرح کا ننگا جارحانہ حملہ کرنا کس قانون کے تحت جائز ہے؟ کیا طاقتور ہونا ہی اس دنیا میں انصاف کا اکلوتا معیار بن چکا ہے؟ عالمی طاقتیں ج...

چین کے ژی نے 'اٹوٹ' تعلقات کی تعریف کی، وزیر اعظم شہباز سے ملاقات کے دوران ایران امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎ ‎عالمی سیاست میں بعض تعلقات وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں، لیکن کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اور چین کا تعلق بھی انہی لازوال رشتوں میں شمار ہوتا ہے، جسے دونوں ممالک کی قیادت اکثر “آہنی بھائی چارہ” اور “اٹوٹ دوستی” قرار دیتی ہے۔ حالیہ ملاقات میں چینی صدر Xi Jinping نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif بھی موجود تھے، جبکہ گفتگو میں خطے کی سیکیورٹی، معاشی تعاون اور ایران سے متعلق امن کوششوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ‎ ‎چینی صدر نے خاص طور پر ایران کے معاملے میں پاکستان کے مثبت اور متوازن کردار کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی فضا قائم رکھنے کے لیے نہایت ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ مسلسل تناؤ کا شکار ہے، پاکستان نے ایک ایسے ملک کے طور پر خود کو پیش کیا ہے جو تصادم کے بجائے امن، مذاکرات اور سفارتی ...

آبنائے کھولنے کے لیے ٹرمپ کو مشکل ترین مسائل کو بعد میں چھوڑنا پڑا

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقتی طور پر کامیابی کا راستہ تو کھول دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات مستقبل میں بڑے بحرانوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ سابق امریکی صدر Donald Trump کی خارجہ پالیسی بھی کچھ ایسی ہی پیچیدگیوں سے بھرپور رہی۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ان کی حکمتِ عملی نے کئی مواقع پر فوری نتائج تو دیے، لیکن بنیادی مسائل کو مکمل طور پر حل کرنے کے بجائے مؤخر کر دیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات کے دوران بھی یہی منظرنامہ دیکھنے میں آیا۔ ‎ ‎آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس سے گزرنے والا تیل اور گیس عالمی معیشت کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں بلکہ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھی تو عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ‎ ‎اس صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ آیا طاقت کا استعمال...