امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ میں نیا موڑ: مذاکرات ناکام، 50 فیصد ٹیرف نافذ
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہفتے کی صبح امریکہ نے کینیڈا کی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، اور یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے آخری لمحات کے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے۔ امریکہ نے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، اور کینیڈا نے فوری طور پر جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا۔ یہ دونوں دیرینہ اتحادی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات میں ایک نئی اور خطرناک دراڑ ہے۔ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ امریکی اور کینیڈین مذاکرات کاروں نے واشنگٹن ڈی سی میں تین دن تک جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں کیا۔ جمعے کے روز ایک ممکنہ معاہدہ آخری لمحات میں ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں نئے ٹیرف نافذ ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل حالات کچھ بہتر نظر آ رہے تھے۔ ٹرمپ نے ٹیرف کے نفاذ کی تاریخ کو تین دن کے لیے مؤخر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یہ اشارہ دیا تھا کہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور صرف دستاویزات کی حتمی تیاری باقی ہے۔ مگر بدھ اور جمعرات...