Posts

امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ میں نیا موڑ: مذاکرات ناکام، 50 فیصد ٹیرف نافذ

Image
 امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہفتے کی صبح امریکہ نے کینیڈا کی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، اور یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے آخری لمحات کے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوئے۔ امریکہ نے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، اور کینیڈا نے فوری طور پر جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا۔ یہ دونوں دیرینہ اتحادی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات میں ایک نئی اور خطرناک دراڑ ہے۔ ‎ ‎مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ ‎ ‎امریکی اور کینیڈین مذاکرات کاروں نے واشنگٹن ڈی سی میں تین دن تک جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں کیا۔ جمعے کے روز ایک ممکنہ معاہدہ آخری لمحات میں ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں نئے ٹیرف نافذ ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل حالات کچھ بہتر نظر آ رہے تھے۔ ٹرمپ نے ٹیرف کے نفاذ کی تاریخ کو تین دن کے لیے مؤخر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یہ اشارہ دیا تھا کہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور صرف دستاویزات کی حتمی تیاری باقی ہے۔ مگر بدھ اور جمعرات...

امریکی پوسٹل سروس اور میل ووٹنگ کی جنگ: عدالتی رکاوٹ کے باوجود نئے قواعد تیار

Image
 امریکہ میں نومبر کے کانگریسی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا مسئلہ ملک کی سیاست میں ایک نیا اور نہایت حساس محاذ بن چکا ہے۔ امریکی پوسٹل سروس (USPS) نے حال ہی میں ایک حتمی قاعدہ جاری کیا ہے جس کا مقصد میل اِن ووٹنگ کے عمل کو مزید سخت بنانا ہے، حالانکہ ایک وفاقی عدالت پہلے ہی اس تبدیلی کو نافذ ہونے سے روک چکی ہے۔ جمعے کی رات کو شائع ہونے والے اس 95 صفحات پر مشتمل قاعدے کا مقصد یہ تھا کہ اگر عدالت اپنی حکم امتناعی واپس لے لے تو یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو سکے اور آئندہ انتخابات کے لیے بروقت تیار رہے۔ اس قاعدے کے تحت پوسٹل سروس ان ریاستوں میں ووٹ نہیں پہنچائے گی جو نئے معیارات پر عمل نہیں کریں گی، اور امریکی پوسٹل سروس کے قاعدے کے مطابق ریاستوں کو ان ووٹرز کی فہرستیں فراہم کرنا ہوں گی جنہیں ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجے گئے ہوں۔ ‎ ‎معاملے کی جڑ کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ ‎ ‎اس پورے تنازعے کی بنیاد صدر ٹرمپ کے مارچ 2026 میں جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر میں پنہاں ہے جسے "شہریت کی تصدیق اور وفاقی انتخابات میں دیانتداری کو یقینی بنانا" کا عنوان دیا گیا۔ اس آرڈر کے تحت ...

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی: ایک اور خطرناک موڑ

Image
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف "تاریخ کی سخت ترین پابندیوں" کی بات دہرائی ہے، اور جواب میں تہران کی طرف سے "کچل دینے والے ردعمل" کی دھمکی سامنے آئی ہے۔ یوں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس خطرناک موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں الفاظ کی جنگ کسی بھی وقت کچھ اور سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ کشمکش اب صرف سفارتی بیان بازی نہیں رہی، بلکہ دباؤ، دھمکیوں اور اقتصادی و جغرافیائی چالوں کا ایک پیچیدہ اور خطرناک کھیل بن چکی ہے۔ ‎ ‎امریکہ کا موقف کیا ہے؟ ‎ ‎ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کی خطے میں مداخلت اور میزائل ٹیکنالوجی پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ اسی سوچ کے تحت امریکہ ایران پر اتنا اقتصادی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی پرانی پالیسیاں چھوڑ کر نئے اور زیادہ سخت معاہدے پر بات چیت کے لیے مجبور ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے ایرانی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر بند کرنے، بینکنگ نظام کو ناکارہ بنانے اور جو ممالک ایران سے تجارت کرتے ہیں ان پر بھی سخت پابندیاں لگانے جیسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ‎ ‎امریکی حکا...

امریکی خارجہ پالیسی کا نیا موڑ: ٹرمپ کی کم جونگ اُن سے دوبارہ بات چیت کی خواہش

Image
 عالمی سیاست میں کچھ ملاقاتیں صرف ملاقاتیں نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر پوری دنیا کے لیے بڑے سوالات چھپائے ہوتی ہیں۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ دوبارہ مذاکرات بھی کچھ ایسی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ براہِ راست بات چیت کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پیانگ یانگ کا رویہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محتاط اور سخت دکھائی دیتا ہے۔ ‎ ‎ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی کہانی عالمی سفارت کاری میں غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے۔ چند سال پہلے دونوں رہنما ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے تھے۔ کبھی میزائلوں اور جنگ کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، تو کبھی ایک دوسرے کے لیے طنزیہ القابات استعمال کیے جاتے تھے۔ پھر اچانک حالات نے ایسا رخ بدلا کہ دونوں ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آئے۔ ‎ ‎سنگاپور میں ہونے والی تاریخی ملاقات نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے بعد ہنوئی میں مذاکرات ہوئے اور پھر دونوں کوریاؤں کی سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے، یعنی ڈی ایم زیڈ، میں بھی ٹرمپ اور کم جونگ اُن نے ملاقات کی۔ اس دوران ٹرمپ نے کم کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو خاص اہمیت دی اور ...

گیارہ گھنٹے کی رات: کیف پر اب تک کا سب سے طویل حملہ

Image
 آدھی رات کے قریب شروع ہونے والا یہ حملہ، صبح گیارہ بجے کے بعد "آل کلیئر" کے اعلان تک، مسلسل گیارہ گھنٹے جاری رہا۔ کیف کے شہریوں کے لیے یہ کوئی معمولی رات نہیں تھی — یہ حالیہ ہفتوں کی سب سے طویل اور سب سے تباہ کن بمباری تھی، اور جمعرات، بیس اگست کی صبح، شہر نے اپنے ماضی کے سب سے بھاری حملوں میں سے ایک کا سامنا کیا۔ ‎ ‎روسی افواج نے بیلسٹک میزائل، کیلیبر کروز میزائل، زرکون میزائل اور جیٹ سے چلنے والے ڈرونز کا ایک مربوط حملہ کیف پر کیا۔ کیف سٹی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے مطابق، شہر کے بارہ سے زائد مقامات پر تباہی کے آثار ریکارڈ کیے گئے — دارنیتسکی، سویاتوشِنسکی اور سولومیانسکی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد گھنٹے گھنٹے بڑھتی رہی — ابتدا میں پانچ، پھر بارہ، پھر تیرہ، اور بالآخر یو پی آئی کی رپورٹ کے مطابق کم از کم سترہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ ‎ ‎سب سے زیادہ نقصان سولومیانسکی ضلع میں ہوا، جہاں ایک نو منزلہ رہائشی عمارت کی اوپری دو منزلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور باقی منزلوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ ساٹھ سالہ لاریسا بونداروک، جو اپنی بلی ...

امریکی لیبر مارکیٹ کا نیا رخ: بے روزگاری کے دعووں میں کمی اور معاشی استحکام کی جھلک ‎

Image
 امریکی معیشت اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ہر معاشی اعداد و شمار کو غیر معمولی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مہنگائی، بلند شرح سود، عالمی بے یقینی اور معاشی سست روی کے خدشات کے درمیان روزگار کی مارکیٹ سے آنے والی ایک حالیہ خبر نے کچھ اطمینان ضرور پیدا کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ میں پہلی بار بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد کم ہو کر 2 لاکھ 6 ہزار رہ گئی۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا عدد ہے، لیکن معاشی ماہرین کے لیے اس کے اندر کئی اہم اشارے چھپے ہوئے ہیں۔ ‎ ‎سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی کمپنیاں اس وقت بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ اگرچہ نئی بھرتیوں کی رفتار بعض شعبوں میں پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، لیکن موجودہ ملازمین کو برقرار رکھنے کا رجحان کافی مضبوط ہے۔ یہی صورتحال امریکی لیبر مارکیٹ کو غیر معمولی لچک فراہم کر رہی ہے۔ ‎ ‎کمپنیوں کی پالیسی کیوں بدلی؟ ‎ ‎کرونا وبا کے بعد امریکی کاروباری اداروں نے ملازمین کی شدید کمی کا سامنا کیا تھا۔ اس وقت کمپنیوں کے لیے قابل اور تجربہ کار کارکن تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔ بہت سے اداروں نے بھاری تنخوا...

سکتا ہے کہ ایران کے پاس 4,000 بیلسٹک میزائل رہے ہوں

Image
 ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر جب بھی گفتگو ہوتی ہے، ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے: تہران کے پاس آخر کتنے میزائل باقی ہیں؟ مغربی دفاعی تجزیوں میں طویل عرصے سے ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا ذخیرہ ہونے کے اندازے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ بعض اندازے چار ہزار یا اس سے زیادہ میزائلوں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن جنگ کے میدان میں موجود حالات یہ بتاتے ہیں کہ صرف ایک بڑا عدد کسی ملک کی اصل عسکری طاقت کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ ‎ ‎گزشتہ پانچ ماہ کی شدید فوجی کشیدگی نے ایران کے میزائل پروگرام کو ایک سخت امتحان سے گزارا ہے۔ مسلسل حملوں، جوابی کارروائیوں اور میزائلوں کے استعمال نے اس ذخیرے پر لازماً دباؤ ڈالا ہوگا۔ تاہم یہ کہنا آسان نہیں کہ ایران نے کتنے میزائل استعمال کیے، کتنے تباہ ہوئے اور کتنے اب بھی محفوظ ہیں، کیونکہ ایسے اعداد و شمار عام طور پر مکمل طور پر سامنے نہیں آتے۔ ‎ ‎ایران نے میزائل ٹیکنالوجی پر اتنی توجہ محض اتفاق سے نہیں دی۔ کئی دہائیوں کی پابندیوں نے تہران کے لیے جدید جنگی طیاروں اور بعض مغربی دفاعی نظاموں تک رسائی محدود رکھی۔ ایسے ماحول میں ایران نے ایک مختلف راست...